بلوچستان کے تعلیم یافتہ طبقے کی زمہ داریاں رحیم بلوچ

بلوچ تاریخ کے دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ارتقاء کئی بار خوش قسمت قوموں کو موقع فراہم کرتی رہی ہے کہ وہ اپنے لئے ایسے راستے کا انتخاب کریں کہ جس میں وہ اپنی نقصان کا سبب خود نہ ہوں اور دوسری قوموں سے ایسے رشتے استوار رکھیں کہ ایک دوسرے سے نبرد آزمائی کا موقع ہی نہ آئے۔ یہ موقع چند قوموں کو شاید ایک ہی بار ملا ہے، بہت سے قوموں کو شاید ملا ہی نہ ہو، لیکن بلوچ اس حوالے سے خوش قسمت رہے ہیں کہ انہیں بار بار یہ موقع ملا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور وہ غلطیاں نہ دہرائیں جن کو دہرانے سے وہ ہمیشہ اپنا ہی نقصان کرتے آئے ہیں۔ چاکر وگہرام کی برادر کشی اور بلوچ لشکر کا ایک دوسرے کو کاٹنے کے بعد بلوچ اتنے کمزور و بکھر چکے تھے کہ اُس وقت یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ بلوچ بطور قوم شاید مزید 200سال زندہ رہ سکیں۔ لیکن اسے خوش قسمتی ہی کہیں کہ وقت نے وہ زخم مندمل کرکے انہیں آئندہ ادوار میں کئی ایک مواقع فراہم کیے۔یہاں تک کہ انگریزوں کے برصغیر اور مڈل ایسٹ آنے اور جانے کے درمیان کا جو طویل زمانہ ہے، اس دوران بھی بلوچ سرداروں اور لیڈروں نے ”تاریخ بگاڑ“ غلطیاں کیں، لیکن اُن غلطیوں کے بعد بھی قسمت نے ان کا ساتھ دیا اور وہ بطور نسلی گروہ اب بھی اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔

ماضی کا بلوچ جنگ پسند تھا، بیبگر کی دور اندیشی کا چاکر کی جنگ پسندی کے سامنے کوئی مول نہ تھا۔ لیکن اب جب ہم پیچھے دیکھتے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کہ چاکر کی جنگ پسندی نے جو نقصان کیا ہے، بیبگر کی سوچ بلوچوں کو اُس نقصان سے بچا سکتی تھی اگر چاکر دور اندیشی کا مظاہرہ کرکے جنگوں سے باز رہتا۔ لیکن درمیان میں ایک ایسا ”اگر“ حائل ہے کہ اسے اب کوئی تاویل ختم نہیں کرسکتا کیوں کہ اب یہ ماضی کا حصہ ہے۔ ماضی بھلایا جا سکتا ہے لیکن بدلا نہیں جا سکتا۔

ماضی کی غلطیاں مستقبل کے لئے رہنمائی کرتے ہیں۔ تاریخ شاید لکھی ہی اس لئے جاتی ہے کہ انسان ایک دائرے میں چکر لگانے کے بجائے اقوام کسی راستے پر سفر کریں۔ بلوچوں کی لیڈر شپ ایسی رہی ہے کہ وہ دائروں میں سفر کو ترجیح دیتی ہے۔ آج جب زمانہ اتنا بدل چکا ہے کہ ٹیکنالوجی ہر فرد کی زندگی کو تقریباََ اپنی کنٹرول میں لے چکا ہے۔ لوگ اپنے بُرے بھلے میں تمیز کے لئے کسی مسیحا کے منتظر نہیں بلکہ ذہنی حوالے سے خود اتنا ترقی کرچکے ہیں کہ نقصان دہ رہنماؤں، گروہوں، اور خیالات کو خود ہی خود سے دور کردیتے ہیں۔ میڈیا اور ٹیکنالوجی نے لوگوں کی ذہنوں اور ان کی دلچسپیوں کو تبدیل کردیا ہے۔ لیکن بلوچستان میں کوئی لیڈر ایسا پیدانہ ہو سکا جس کی سوچ بھی نیا ہو۔ بلوچوں کی اونٹ کبھی ایک کروٹ بیٹھا ہی نہیں ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان کے اندر ہی باقی صوبے بلوچستان کو ہر لحاظ سے پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ جو لیڈران اس پسماندگی کی وجہ خود کو اور ماضی کے بلوچ لیڈران کو ٹہرانے کے بجائے پنجاب کو ٹہراتے ہیں، اس کا مطلب کہ وہ اپنی زمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرکے آئندہ بھی ایسی غلطیاں دہرانا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بلوچوں کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ماضی میں اگرچہ بلوچوں کو وقت نے سنبھلنے کا موقع دیا ہے، لیکن اب اگر مزید غلطیاں سرزد ہوں گی تو فطرت کا قانون ہم پر ضرور لاگو ہوگا اور وہ قانون یہ ہے کہ جو قومیں زمانے کی رفتار کے ساتھ نہیں چل سکتیں، وہ چلنے والوں کی پیروں تلے لگتمال ہوجائیں۔

جب ہم پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد کی غلطیوں کی بات کرتے ہیں تو ایک طویل لسٹ موجود ہے۔ لیکن اس لسٹ میں سرفہرست جو غلطی ہے وہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانا ہے۔ بندوق اٹھانے والے نہ صرف اپنی نقصان کا سبب بنتے ہیں بلکہ وہ صوبے کے تمام لوگوں کی حالات کو منفی حوالے سے اثر انداز کردیتے ہیں۔ بلوچستان کے لوگ کبھی مجموعی حوالے سے بندوق والوں کے حامی نہیں رہے ہیں لیکن بندوق کی سیاست کا نقصان سب نے یکساں طور پر اٹھایا ہے۔ گزشتہ ستر سالوں کے دوران چند ایک مستثنیات کے علاوہ کوئی ایسا لیڈر بلوچوں کو نصیب نہیں ہوا ہے جو علیحدگی کے بجائے ریاست کے اندر رہ کر بلوچوں کی بنیادی مسائل کے حل میں کردار ادا کرے۔ ایسے کردار تو بہت سے آئے ہیں جو پارلیمنٹ میں گئے ہیں۔ ان میں سے چند بطور کٹ پتلی وہاں اپنی سیٹیں پکی کرواتے ہیں اور باقی چند خود یہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔بلیک میل کرنے کی سیاست اور پہاڑوں پر جانے کی دھمکی اس دوسری گروہ کا پسندیدہ ترین نعرہ ہے۔ اس کی واضح مثال نیشنل پارٹی کے لیڈران کے حالیہ بیانات ہیں کہ وہ خود کو بری الزمہ قرار دے کر سارا الزام وفاق اور پنجاب پر ڈالتے ہیں۔ یہاں تک کہ جو واقعات انہی کے دور حکومت میں ہوئے ہیں، وہ ان کی زمہ داری لینے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ اگر بلوچ آئندہ بھی

ایسے لوگوں کو بطور لیڈر منتخب کریں گے تو وہ مختلف نتائج کی توقع بھی نہ رکھیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں موجود تعلیم یافتہ طبقہ ہر اس کردار کے خلاف بغیر کسی رکاوٹ کے آواز اٹھائے جنہیں موقع ہزار ملے لیکن انہوں نے کچھ کام نہیں کیا۔ وہ لوگ جو اب بھی اس غلط فہمی میں ہیں کہ ان کی بندوق بلوچوں کو خوشحالی فراہم کرے گی، وہ یا تو انتہائی غلط فہمی میں ہیں، یا پھر ان کے ایجنڈے میں بلوچوں کی خوشحالی سرے سے شامل ہی نہیں بلکہ وہ دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہونا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کا جو باشعور طبقہ ہے وہ خود کو ان حالات میں بری الزمہ نہیں کرسکتا۔ یہ زمہ داری انہی کی ہے کہ وہ بلوچستان میں موجود اُن نعرہ باز گروہوں کی اصلیت عام عوام کے سامنے آشکار کردیں جو کہ قوم پرستی کے نام پر پارلیمنٹ میں موجود ہیں اور ان کے کردار کی نقصانات پر بھی بات کریں جو قوم پرستی کے نام پر بندوق اٹھائے ہوئے ہیں۔تاکہ آئندہ کوئی بلوچستان کے لوگوں کو قوم پرستی کے نام پر دھوکہ نہ دے سکے اور اگر بلوچ کسی کو منتخب کریں تو اس کے نام و شہرت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی کارکردگی کی وجہ سے اسے رہنماء مان لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں