بلوچستان میں مسلح مذاحمت مسئلہ یا مسئلے کا حل؟ رحیم بلوچ

مسلح مذاحمت بلوچستان کے لئے خود ایک بڑا مسئلہ ہے یا مسئلے کا حل، یہ وہ سوال ہے جو آج کم و بیش بلوچستان کے ہر باشعور فرد کو ستا رہا ہوگا۔ مذاحمت سے جڑے افراد یا ان کے حمایتی سیکیورٹی اداروں کی جوابی کاروائیوں کو جواز بنا کر مسلح مذاحمت کی حمایت کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تشدد کی شروعات مسلح مذاحمت کرنے والوں نے کی ہے۔ گزشتہ ادوار میں جو بھی مسلح تحریکیں چلی ہیں، وہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوئی ہیں، اس تحریک کو شروع کرنے والوں کو سابقہ ادوار کے ناکام تجربوں سے استفادہ کرکے یہ تسلیم کرلینا چاہیے تھا کہ بلوچستان میں عوام پرتشدد تحریکوں کے حامی نہیں ہیں۔ ایک خاص طبقہ یا گروہ کے مفاد ات کی تحفظ کے لئے ایک قوم خود کو قربان نہیں کرسکتا۔ لیکن مگروہ بضد ہیں کہ وہ ہی عوام کے ترجمان ہیں، حالانکہ مسلح تحریک سے عوامی بیزاری لوگوں کے رویوں سے واضح ہے۔
بلوچستان کی مذاحمتی تحریک کمزور دلیلوں پر قائم ہے، اس لئے اس مذاحمت کے رہنماء گفت و شنید کے بجائے ہٹ دھرمی اور ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ وہ دلیل و مکالمے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے تمام ملبہ ریاست کے اداروں پر گراتے ہیں۔ سیاسی مخالفین کو غدار قرار دے کر قتل بھی کرتے ہیں۔ ان کے حمایتی جذباتی نعروں کو جواز بنا کر انسانوں کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔ بہت سے ایسے مذاحمت کار جنہوں نے کسی سطح پر پہنچ کر حقیقت کا اعتراف کرلیا اور مذاحمتی تنظیموں سے اپنی راہیں جدا کرلیں، مذاحمت کار انہیں نشانہ بناتے ہیں اور مذاحمت کاروں کے ہمدرد ان لوگوں کے قتل کی کھلے بندوں حمایت کرتے ہیں۔ مذاحمت کاروں کی پالیسیوں اور سخت گیری کی وجہ سے بلوچستان کے جو حقیقی مسائل تھے وہ پس پشت چلے گئے ہیں۔ اگرچہ اب عام لوگ خود ان مذاحمت کاروں کو رد کیے ہوئے ہیں، لیکن پرتشدد واقعات کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں اُس آزادی کے ساتھ نہیں ہو رہی ہیں جس آزادی کے ساتھ ہونی چاہیئں۔ جس غلط راستے کا انتخاب حالیہ انسرجنسی کو شروع کرنے والوں نے دودہائی پہلے کیا، ایسا ممکن نہیں کہ ایک نیا ذہن بھی اسی راہ کو صحیح جان کر اس پر سفر کرے۔ بلوچستان کی جو نئی نسل ہے، وہ ریاست کے اندر رہ کر بلوچستان میں تبدیلی چاہتاہے۔ شاید ہی بلوچستان میں کوئی ایسا اسٹوڈنٹ یا نوجوان ہو جو ان مذاحمت کاروں کی صفوں میں شامل ہونا چاہتا ہو۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے مذاحمتی لیڈران سوشل میڈیا میں خود کو عوام کا نمائندہ بتاتے ہوئے نہیں تکتے۔
میں بار ہا یہ کہتا رہا ہوں کہ بلوچستان کے عوام کا مسئلہ نہ علیحدگی ہے اور نہ ہی بلوچوں کی شناخت کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ اس طرح کے نعرے وہی لوگ پھیلاتے ہیں جو مسلح مذاحمت کے لئے جواز تراشنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلوچستان میں حکومت سازی و قانون سازی کا سارا اختیار بلوچستان کے عوام کو ہے۔ عوام اگر ایسے نمائندوں کا انتخاب کرتی ہے جو عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے بجائے اپنا سرمایہ بڑھانے کو کوشش کرتے ہیں تو اس میں قصور کسی اور کا نہیں۔ وہ لوگ جنہیں بلوچی و براہوئی زبانیں یا بلوچ کلچر خطرے میں محسوس ہوتی ہیں وہ آکر الیکشن لڑیں اور قانون سازی کے عمل کا حصہ بن جائیں، جہاں انہیں ریاست یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ آئین کے اندر رہ کر قانون سازی کریں۔ دوسری بات یہ کہ بلوچ کلچر کی مخالفت ریاست پاکستان نے کبھی بھی نہیں کی ہے۔ 2مارچ کا کلچر ڈے پاکستان کے تمام بلوچ علاقوں میں آزادی کے ساتھ منایا جاتا ہے، اس کی مخالفت کسی ادارے یا حکومت نے کبھی نہیں کی ہے اور نہ ہی بلوچی و براہوئی زبانوں میں لکھنے پڑھنے پر کوئی پابندی عائد ہے۔ اگر اس آزادی کے موجود ہوتے ہوئے بھی بلوچ اپنی زبانوں، رسوم و رواج کے متعلق کوئی ادارہ تشکیل نہیں دے سکتے یا اسمبلی میں قانون سازی نہیں کرسکتے تو اس کا قصور وار نہ پنجابی ہے اور نہ ہی ریاست۔ ریاست کا کام مواقع فراہم کرنا ہے، بطور شہری یہ حقوق ہرکسی کو حاصل ہیں کہ وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھا لے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں