سوات کی تائی کوانڈو چیمپیئن: آٹھویں فجیرہ اوپن میں پاکستان کی نو سالہ عائشہ ایاز نے گولڈ میڈل حاصل کیا

خیبر پختونخوا کے علاقے سوات سے تعلق رکھنے والی نو سالہ عائشہ ایاز نے متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں منعقد ہونے والے تائی کوانڈو کے بین الاقوامی مقابلوں میں انڈر-10 کیٹیگری میں گولڈ میڈل حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی۔
عائشہ ایاز نے گذشتہ سال ان مقابلوں میں کانسی کا میڈل حاصل کیا تھا۔ اُس موقع پر عائشہ ایاز نے کہا تھا کہ وہ سخت محنت کریں گی اور اگلے سال گولڈ میڈل حاصل کر کے اپنے والد کا خواب پورا کریں گی اور ملک کا نام روشن کریں گی۔

نامہ نگار محمد زبیر خان سے بات کرتے ہوئے عائشہ نے کہا کہ ’جب میں فائنل کھیلنے لگی تھی تو میرے ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی کہ دنیا میں کوئی چیز بھی ناممکن نہیں ہے، بس ہمت ہونی چاہیے۔ پھر میں نے لمبا سانس لیا اور کھیلنا شروع کر دیا۔‘
وہ کہتی ہیں ’مقابلہ مشکل تھا۔ میرے ساتھ مقابلہ کرنے والی برطانوی لڑکی بھی سخت تھی۔ مقابلہ ختم ہونے سے دو راؤنڈ پہلے اس کے ساتھ میری ٹانگیں ٹکرا گئیں اور مجھے سخت تکلیف ہونے لگی۔ تھوڑی دیر کے لیے میں پریشان ہو گئی کہ میں کھیل جاری رکھ بھی سکوں گی یا نہیں لیکن میں کھیلتی رہی۔‘
عائشہ کے مطابق راؤنڈ کے درمیانی وقفے میں انھوں نے اپنے والد اور کوچ محمد ایاز نائیک کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

عائشہ ایاز کا کہنا تھا کہ ’جب میچ ختم ہوا اور میری فتح کا اعلان ہوا تو اس وقت بھی میں نے چوٹ کا نہیں بتایا کیونکہ پاپا اور باقی ٹیم کے لوگ بہت خوش تھے۔ میں نے میڈل پہنا اور پھر اپنے والد کو بتایا کہ مجھے ٹانگوں میں سخت تکلیف ہو رہی ہے۔‘
عائشہ ایاز کے والد ایاز نائیک کا کہنا تھا کہ ’یہ تو میں جانتا تھا کہ عائشہ ایاز ایک بہترین کھلاڑی ہے۔ مگر مجھے یہ پتا نہیں تھا کہ وہ اتنی حوصلہ مند اور بہادر بھی ہے کہ انتہائی زخمی ہونے کے باوجود بھی اس نے مقابلہ جاری رکھا اور مجھے بھی نہیں بتایا۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ عائشہ نے مجھے اس وقت بتایا جب ہم سب جشن منا چکے تھے کہ پاپا مجھے ٹانگوں میں بہت درد ہو رہا ہے اور میں چل بھی نہیں سکتی۔
’یہ سن کر میں بہت پریشان ہوا۔ اس کو فوراً ہسپتال لے کر گیا جہاں پر اس کے ایکسرے ہوئے۔ اللہ کا شکر ہے کہ کوئی بھی فریکچر نہیں تھا مگر کچھ چوٹیں ضرور ہیں۔‘

ایاز نائیک کا کہنا تھا کہ فائنل انتہائی جاندار تھا۔ عائشہ کے مدِ مقابل لڑکی بھی بہت شاندار طریقے سے کھیل رہی تھی۔ جس نے بھی فائنل دیکھا، بہت تعریف کی۔
عائشہ ایاز نے چار مقابلے جیت کر گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔
مستقبل کی اولمپیئن
ایاز نائیک کہتے ہیں کہ تائی کوانڈو ہمارا خاندانی کھیل ہے۔ عائشہ ایاز کی والدہ بشریٰ بی بی قائداعظم ٹرافی کے مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کر چکی ہیں۔
’عائشہ ایاز کے دو بھائی پاکستان چیمپیئن ہیں۔ عائشہ ایاز نے تقریباً تین سال کی عمر میں کھیلنا شروع کر دیا تھا۔ میں خود بھی بین الاقوامی کھلاڑی اور کوچ ہوں۔‘
عائشہ کی ٹریننگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی ہونے کے ناطے میں جانتا ہوں کہ عائشہ میں کتنا ٹیلنٹ ہے۔
’یہ روزانہ تقریباً تین سے چار گھنٹے پریکٹس اور ورزش کرتی ہے اور ان بین الاقوامی مقابلوں سے دو ماہ پہلے یہ دورانیہ بڑھا کر چھ گھنٹے کر دیا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت عائشہ پر تھوڑی سی توجہ دے تو مجھے امید ہے کہ پیرس میں ہونے والے 2024 کے اولمپکس میں یہ پاکستان کو گولڈ میڈل دلا سکتی ہے۔
ایاز نائیک کے مطابق اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہم سب کچھ اپنے شوق کی بنا پر کررہے ہیں۔ حالیہ مقابلوں کے لیے ہمیں کسی نے بھی سپانسر نہیں کیا۔ البتہ صوبہ خیبرپختوخوا کے سپورٹس ڈائریکٹر نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ دورے پر آنے والے اخراجات حکومت کی طرف سے ادا کیے جائیں گے۔

بین الاقوامی مقابلے میں پاکستان کی کارگردگی
تائیکوانڈو کے ان بین الاقوامی مقابلوں میں مجموعی طور پر پاکستان کی جانب سے 80 کھلاڑیوں نے حصہ لیا تھا۔ جس میں مختلف کلبوں اور اداروں کے ممبران شامل تھے۔
پاکستان ٹیم کے کوچ نادر خان کے مطابق بدقسمتی سے پاکستان کی طرف سے سینیئر مقابلوں میں کوئی بھی میڈل حاصل نہیں کر سکا مگر سینیئر ٹیم کے کھلاڑیوں کو بہت کم مارجن سے کوارٹر فائنل اور سیمی فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
جونیئر مقابلوں میں مجموعی طور پر سات میڈل پاکستان کے حصے میں آئے ہیں۔ جس میں عائشہ ایاز نے گولڈ حاصل کیا ہے جبکہ محمد دانش، ثنیا اشفاق اور فاطمہ نے سلور میڈیل حاصل کیے۔ ملائکہ، انوشا اور عائشہ نے کانسی کے میڈل حاصل کیے۔
نادر خان کا کہنا تھا کہ یہ دنیا کے ٹاپ مقابلے تھے اور جونیئر کھلاڑیوں کی کامیابیوں سے پتا چلتا ہے کہ تائیکوانڈو میں پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ بس تھوڑی سی اور محنت، دلچسپی اور سپانرشپ کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں