افغان امن معاہدہ: کیا بلوچ انسرجنسی بھی اختتام کے قریب ہے؟

تحریر: عبداللہ جان

بلوچستان میں مسلح مذاحمت کا تعلق کسی نہ کسی سطح پر افغانستان کی حالات سے وابسطہ رہا ہے۔ یہ مذاحمتی تحریکیں شروع اگرچہ بلوچستان سے ہی ہوئے ہیں لیکن بعد میں دوسری طاقتوں نے اپنی حسبِ منشا انہیں احکامات دئیے، جب پاکستان کے ساتھ ان طاقتوں کے تعلقات بہتر ہوئے یا بڑے عالمی واقعات کی ترتیب اس طرح ہوگئی کہ بلوچ انسر جنسی اُن قوتوں کے لئے غیر اہم ہوگئی جو اس کو اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتے تھے، تو انہوں نے بلوچستان میں انسرجنسی کرنے والے گروہوں کی مدد سے اپنے ہاتھ کھینچ لیے۔ خاص کر موجودہ انسر جنسی اور 1973کو ہونے والی انسر جنسی افغانستان کے حالات سے براہ راست متعلق رہی ہے۔ جب افغانستان میں سویت یونین کو شکست ہوگئی تو گویا بلوچستان کے باغیوں کو بھی بلوچستان میں شکست ہوگئی۔ وہ مذاحمت کار جو آزادی سے کم کسی مطالبے پر بات کے لئے تیار نہیں تھے، 1990تک بغیر کسی مطالبے کے ایک ایک کرکے پاکستان آ گئے۔ ان واپس آنے والوں میں سردار خیربخش مری بھی شامل تھے۔ جب تک افغانستان میں سویت یونین مجاہدین سے برسرپیکار تھا، بلوچستان میں انسرجنسی کرنے والے پُرامید تھے کہ سویت انہیں پاکستان کے خلاف مدد فراہم کرے گا۔ لیکن ان کی یہ خواہش تکمیل کو نہیں پہنچ سکی۔ سویت یونین نہ صرف بلوچستان کے باغیوں کو کوئی مدد فراہم نہ کرسکی، بلکہ افغانستان میں اپنے حامی حکومت کا تختہ الٹنے سے بھی نہ بچا سکی اور غیرمستحکم افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑ کر وہاں سے نکل گئی۔ بعد میں سویت یونین روس بن گیا، بلوچستان کے پہاڑ بھی خاموش ہوگئے۔ اس خاموشی کے دوران نئی نسل پروان چڑھی جو انسرجنسی اور مسلح مذاحمت سے ناواقف تھی۔ اسی زمانے میں تھوڑی بہت ترقیاتی اسکیمیں بھی شروع ہوگئیں اور تعلیمی مسائل بھی حل کی جانب جا رہے تھے لیکن نائن الیون ہوگیا۔

نائن الیون ایک خونی واقعہ تھا۔ اس واقعہ نے دنیا کی سیاست کا نقشہ بدل دیا۔ چونکہ امریکہ اور اتحادیوں کا ہدف افغانستان تھا، وہی افغانستان جس کے حالات بلوچستان کو لامحالہ طور پر متاثر کرتے ہیں، ماضی میں بھی بلوچستان افغانستان کی حالات سے اثرمند رہا ہے۔ جب امریکہ اور اس کے اتحادی 2001کو افغانستان آئے تو بلوچستان میں بھی انسرجنسی کی راکھ کریدنے والے متحرک ہوگئے۔ بلوچستان 70کی دہائی کے مسلح انسرجنسی کے بعد کسی حد تک نارمل حالات سے گزر رہا تھا لیکن حالات کی اس کروٹ سے بلوچستان میں بھی حالات سنگین ہوگئے۔ بلوچستان کی پسماندگی کا خوب فائدہ اٹھایا گیا اور ایک نئی مسلح تحریک آزادی کے نام سے بلوچستان بھر میں پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ یہ مسلح انسرجنسی عملی طور پر ایک تحریک کی شکل اختیار نہ کرسکی۔ گزرے وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدت بھی کم ہوتی گئی لیکن افغانستان میں حالات کی سنگینی اور بلوچستان کے انسرجنسی کرنے والے کمانڈروں کی وہاں پناہ لینے کی وجہ سے بلوچستان میں انسرجنسی بھی طویل ہوتی گئی۔اس دوران درجنوں کمانڈرز مسلح تنظیموں کی صفوں سے نکل گئے ہیں لیکن چونکہ بلوچستان کی حالات کا تعلق افغانستان سے ہے، اس لئے بلوچستان میں جاری شورش مکمل طور پر ختم نہ ہوسکا۔

لیکن اب بلوچستان کے لئے خوش خبری یہ ہے کہ افغانستان میں طویل جنگ کے بعد امریکہ اور طالبان معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ دونوں فریقین اپنی ماضی کے مطالبات سے دستبردار ہوکر متفقہ طور پر ایک معاہدے پر راضی ہوچکے ہیں۔ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوگیا تو کچھ
بعید نہیں کہ افغانستان میں پناہ لئے بلوچ مسلح کمانڈرز کو افغان حکومت وہاں برداشت نہیں کرے گی جیسے سویت یونین کے جانے کے بعد وہاں کے پاکستانی بلوچوں کو واپس پاکستان بھیجا گیا۔ تب بھی مسلح انسرجنسی سینکڑوں لوگوں کی جانوں کو ضائع کرنے کے بعد بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی۔ اگر موجودہ انسرجنسی کے لیڈران نے بلوغت کا مظاہرہ نہ کیا تو ان کا انجام بھی مختلف نہیں ہوگا۔ 1990کو افغانستان سے آئے لوگوں کو بلوچستان کے عوام نے کسی طرح قبول کرلیا تھا، لیکن اب اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کیے بغیر اور بلوچستان کے عوام سے معافی مانگے بغیر باہر جانے والے لیڈروں کی واپسی کو بلوچ تسلیم کریں گے۔
حالیہ حالات بلوچستان کے مذاحمتی لیڈران کو ایک مرتبہ پھر یہ موقع فراہم کررہے ہیں کہ وہ واپسی کے راستوں پر غور کریں۔ افغانستان میں مذاکرات کی کامیابی کے بعد وہاں مزید بلوچستان میں انسرجنسی کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بلوچستان میں جاری انسرجنسی سے تعلق رکھنے والے لوگ وہاں سے نکالے گئے تو ان کے لئے دوسری کوئی جگہ نہیں کہ جہاں سے وہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والی کاروائیوں کو جاری رکھ سکیں۔ حالیہ چند سال مگر بتاتے ہیں کہ انسرجنسی کرنے والے کمانڈرز افغانستان میں رہنے اور انتہائی تگ و دو کرنے کے باوجود بلوچستان میں اپنی وجود کو محفوظ رکھنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

طالبان امریکہ ڈیل کے تناظر میں جو نئے حالات پیدا ہونے والے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ ان حالات کو سامنے رکھ کر ایک مرتبہ پھر بلوچ مذاحمتی لیڈران کو واپس آنے کے لئے محفوظ راستہ فراہم کرے تاکہ جو لوگ واپس آکر پر امن طور پر اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، ان کو ایسا کرنے کا موقع ملے۔ جب 2015کو حکومت نے ایک ایسی پالیسی کا اعلان کیا تھا تو بہت سارے کمانڈرز اور کارکن واپس آئے تھے، حالانکہ اُس وقت کے حالات اور آج کے حالات میں بہت فرق ہے۔ مسلح تنظیموں کا اپنے واپس جانے والے ساتھیوں اور رشتہ داروں کے خلاف کیمپئن کے باوجود لوگوں نے مسلح تنظیموں سے علیحدگی اختیار کی۔ یہ تمام واقعات اس دلیل کو تقویت فراہم کرتے ہیں کہ اب بھی بہت سارے لوگ واپس آنا چاہتے ہیں، جن کے لئے حکومت کو ایک جامع حکمت عملی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں