کرپشن، طاقت یا پیسے کی لت: پوتن جیسے لوگوں کے لیے اقتدار چھوڑنا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے؟

سٹیفنی ہیگارٹی
نامہ نگار، امورِ آبادی

روسی صدر ولادیمیر پوتن اپنے اقتدار کو توسیع دینے کے لیے روسی آئین میں بڑی تبدیلیوں کے خواہاں ہیں

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے رواں ہفتے کہا کہ وہ مزید دو مدت تک صدر رہنے کی اجازت فراہم کرنے والے قانون کی حمایت کریں گے۔
روس کا آئین فی الوقت اس کی ممانعت کرتا ہے۔
الجیریا سے زمبابوے تک حکمرانوں کی ایک طویل فہرست ہے جو اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکاری نظر آتے ہیں۔
تو آخر اقتدار میں ایسا کیا ہے جس کے لیے لوگ قانون بدلنے اور توڑنے پر بھی آمادہ رہتے ہیں؟

کتاب ’الیکشن میں دھاندلی کیسے کی جائے‘ کے شریک مصنف پروفیسر نِک چیزمین کہتے ہیں کہ ’آسان جواب تو کرپشن ہے۔ وہ بہت پیسہ بنا سکتے ہیں اور اقتدار میں رہتے ہی اس لیے ہیں تاکہ امیر سے امیر تر ہوسکیں۔ لیکن درحقیقت پس منظر میں اس سے بھی کہیں پیچیدہ چیزیں موجود ہوتی ہیں۔‘
رہنماؤں کو پیسہ کھونے سے زیادہ جس چیز کا خوف ہوتا ہے وہ اقتدار چھوڑنے کے بعد بنائے جانے والے مقدمات ہیں اور ان کے اس خوف کے پیچھے ٹھوس وجوہات بھی ہوتی ہیں۔
ان کی کتاب کے لیے کی گئی تحقیق کے مطابق 1960 اور 2010 کے درمیان افریقہ کے 43 فیصد رہنماؤں کو اقتدار چھوڑنے کے بعد مقدمات یا جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا، یا پھر انھیں قتل کر دیا گیا۔
یہ کافی بڑا خطرہ ہے، لیکن بات صرف یہیں تک محدود نہیں ہے۔
سابق سوڈانی صدر عمر البشیر کرپشن، نسل کشی اور جنگی جرائم کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں

زمبابوے کے مطلق العنان حکمران رابرٹ موگابے 37 سال حکمران رہے مگر بالآخر انھیں فوج میں ان کے پرانے حمایتیوں نے انھیں اترنے پر مجبور کر دیا

لوگ
رہنماؤں پر خود سے منسلک لوگوں، مثلاً اپنے خاندانوں، سیاسی حلیفوں اور یہاں تک کہ پولیس اور فوج کا بھی دباؤ ہوتا ہے جنھوں نے ان کی اقتدار میں آنے میں مدد کی ہوتی ہے۔
پروفیسر چیزمین کہتے ہیں کہ ’جب آپ کو لگے بھی کہ آپ کو چلے جانا چاہیے، تب بھی کچھ لوگ آپ کو یہ یاد دلائیں گے کہ ’مسئلہ صرف آپ کا نہیں ہے۔ بات ان ہزاروں لوگوں کی ہے جنھوں نے آپ کے لیے کام کیا ہے اور قربانیاں دی ہیں۔‘
پروفیسر چیزمین کو اس حوالے سے شواہد ملے ہیں کہ زمبابوے کے مطلق العنان حکمران رابرٹ موگابے کی زندگی کے آخری سالوں میں ان کے آس پاس کے لوگ اقتدار پر جمے رہنے کے ان کے فیصلے میں کلیدی اہمیت کے حامل تھے۔
زمبابوے کے مطلق العنان حکمران رابرٹ موگابے 37 سال حکمران رہے مگر بالآخر انھیں فوج میں ان کے پرانے حمایتیوں نے انھیں اترنے پر مجبور کر دیا
لیکن بات شاید صرف یہاں تک محدود نہ ہو، بلکہ اس سے بھی گہرائی میں اقتدار سے متعلق کوئی چیز ایسی ہے جو ہمارے ذہنوں پر اپنی گرفت رکھتی ہے۔
صرف میں!
ڈاکٹر ڈیشر کیلٹنر نے اپنی کتاب ’دی پاور پیراڈوکس‘ میں یہ بات تقریباً ایک دہائی قبل لکھی تھی۔
نہ سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ اقتدار تک پہنچنے والے لوگ عموماً گھل مل جانے والے اور قابلِ پسندیدگی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آس پاس موجود لوگوں کا اعتماد جیت لیتے ہیں، چاہے وہ مقامی سپورٹس کلب کے سربراہ کے طور پر ہو، دنیا کی کوئی امیر ترین کمپنی ہو یا پھر پورا ملک۔
لیکن ایک بار یہ لوگ اقتدار میں آ جائیں تو یہ بالکل مختلف شخصیت بن جاتے ہیں۔
کمبوڈیا کے سخت گیر وزیرِ اعظم ہن سین 1985 سے حکومت میں ہیں

کمبوڈیا کے سخت گیر وزیرِ اعظم ہن سین 1985 سے حکومت میں ہیں
متعدد تحقیقوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوگوں کو کچھ عرصے کے لیے بھی اقتدار دیا جائے، بھلے ہی وہ مختصر مدت کے لیے اور بے ضابطہ طور پر ہو، تو ان کا رویہ تبدیل ہوجاتا ہے۔ وہ ایسے انداز میں کام کرنے لگتے ہیں جس سے انھیں فائدہ پہنچے اور دوسروں کے لیے ہمدردی کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ یہ یقین کرنے لگتے ہیں کہ وہ دوسروں سے زیادہ مرتبہ صحیح ہوتے ہیں۔
وہ مغرور اور جلد باز ہوجاتے ہیں، اور زیادہ امکان ہوتا ہے کہ وہ یا تو دوسرے لوگوں کی بات کاٹیں گے یا خود سے مخاطب لوگوں سے آنکھیں ملانے سے کترائیں گے۔
اس معاملے پر ڈاکٹر کیلٹنر کے سب سے مشہور تجربات میں سے 1990 کی دہائی میں ہوا۔ انھوں نے کالج کے طلبا کو تین چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم کر دیا اور پھر ہر گروہ میں سے ایک شخص کو طاقت دے دی۔
’ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے پاس ڈیٹا ہے کہ آپ میں اچھی قائدانہ صلاحیتیں ہیں لیکن یہ درحقیقت ایک جھوٹ تھا۔ پھر انھوں نے ہر گروہ کو ایک ٹاسک دیا اور 30 منٹ کے بعد محققین نے ان کے سامنے بسکٹوں کی پلیٹ رکھیں۔
متعدد بار ایسا ہوا کہ جس شخص کو اختیارات دیے گئے تھے اس نے اپنے حصے سے زیادہ بسکٹ لیے، جبکہ کھاتے وقت بھی بدتہذیبی کا مظاہرہ کیا اور چورا گراتے رہے۔
اچھا محسوس کرنا
تب سے اب تک کئی تحقیق مطالعوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب لوگوں کو اختیارات ملتے ہیں تو وہ بے باک ہوجاتے ہیں۔
اسی طرح سے غریب بچوں کے مقابلے میں امیر بچوں میں دکانوں سے چیزیں چرانے، غیر معمولی جنسی رویوں کا مظاہرہ کرنے یا اپنے ساتھیوں کو گالی دینے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
یوگنڈا کے صدر یووری موسیوینی نے 2016 میں اپنی پانچویں مدت کے لیے انتخاب لڑا
ڈاکٹر کیلٹنر کہتے ہیں کہ عدم استحکام پیدا کرنے والے ہر تین میں سے دو اقدامات زیادہ اختیارات رکھنے والے لوگوں کی جانب سے ہوتے ہیں۔ ’یہ ٹھوس تحقیقی ڈیٹا ہے۔‘
اور اس لیے انھیں یقین ہے کہ طاقت ایک نشہ ہے۔ جب کوئی روک ٹوک نہ ہو، تو لوگوں کو اپنے مفادات، اپنی خواہشات اور اپنی تسکین کے حصول کی آزادی حاصل ہوجاتی ہے۔
چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ’اختیارات رکھنے والے شخص کے ذہن اور اعصابی نظام کو اختیار کا ہونا اچھا محسوس ہوتا ہے۔‘
طاقت رکھنے والے لوگ زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں اور انھیں محسوس ہوتا ہے جیسے ان میں زیادہ خود اعتمادی ہے یا ان کا رتبہ زیادہ بلند ہے۔ ان کے اعصابی نظام زیادہ پرسکون ہوتے ہیں، ان کی صحت زیادہ بہتر ہوتی ہے اور وہ زندگی کے بارے میں عمومی مثبت رویہ رکھتے ہیں۔
خوشامدی
ڈاکٹر کیلٹنر کہتے ہیں کہ اختیار و اقتدار رکھنے والے لوگوں کا رویہ ان مریضوں کی طرح ہوتا ہے جن میں ذہن کا بلاسوچے سمجھے ردِعمل دینے والا حصہ برباد ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ ماہرِ اعصابی نظام سکھمندر اوبھی کی تحقیق کا حوالہ دے رہے تھے۔
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو پانچویں بار صدارت کے عہدے پر پہنچے ہیں اور انھیں اکثر اوقات یورپ کا آخری ڈکٹیٹر کہا جاتا ہے
یلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو پانچویں بار صدارت کے عہدے پر پہنچے ہیں اور انھیں اکثر اوقات یورپ کا آخری ڈکٹیٹر کہا جاتا ہے
ان کے تبصرے پر دماغی چوٹوں سے متاثر ہونے والے لوگوں نے کئی دلچسپ ردِعمل دیے۔
’[دماغی چوٹ سے متاثر] ایک شخص نے مجھے خط لکھ کر کہا، ’تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟ میں ٹرمپ سے زیادہ اچھے رویہ کا حامل ہوں۔‘‘
چنانچہ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ کوئی بے پناہ اقتدار رکھنے والا رہنما بدمزاج ہوجائے، یا انھیں یہ لگنے لگے کہ صرف وہی ہیں جو قیادت کر سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے وہ اس چیز سے بھی صرفِ نظر کر جائیں کہ ملک کے لیے بہترین کا ہے۔
پروفیسر نِک چیزمین کہتے ہیں کہ ’دوسری بات یہ ہے کہ ہر سال وہ ہاں میں ہاں ملانے والے لوگوں کو اپنے پاس بھرتی کرتے ہیں اور خود پر تنقید کرنے والوں کو برطرف کر دیتے ہیں۔ ’ممکنہ طور پر انھیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا غلط کر رہے ہیں۔‘
اقتدار کی تو بات الگ ہے، اقتدار کھونے کا نفسیاتی اثر بھی خاصہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بندروں کے گروہوں پر ہونے والی تحقیق میں یہ پایا گیا ہے کہ بڑی عمر کے نروں کو جب محسوس ہوتا ہے کہ وہ اقتدار کھونے لگے ہیں تو وہ زیادہ مشتعل ہوجاتے ہیں۔
کردار کا امتحان
پر اگر طاقت آپ کے رویے میں منفی تبدیلیاں لاتی ہے، تو تمام رہنما ہی ایسے مطلق العنان اور جنونی قاتل نہیں ہوتے؟
سنہ 2018 میں وارسا میں نفسیات کی ایک پروفیسر الیگزینڈرا سسلاک نے اقتدار کے دو بالکل مختلف اور نہایت متضاد پہلووؤں کی شناخت کی۔
اقتدار لوگوں کو دوسرے لوگوں کی زندگیوں پر تو کنٹرول دیتا ہی ہے لیکن اس سے لوگوں کو خؤد پر بھی کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔
اس لیے لوگوں کو جب اپنی زندگی پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوتا ہے تو اس سے مثبت رویے جنم لیتے ہیں۔
طاقت کے کچھ بہت مثبت اثرات بھی ہوتے ہیں۔ مگر جب یہ کنٹرول گنوا دیا جائے، مثلاً آپ کے زیرِ انتظام ملک میں شورش پھیل جائے، تو اس وقت اقتدار کے منفی پہلو اس کے مثبت پہلوؤں پر غالب آ جاتے ہیں۔
پروفیسر سسلاک کہتی ہیں کہ ’طاقت ایک اچھی چیز ہے اور اسے مجموعی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے مگر آپ کو اس کی قیمت سے بھی واقف ہونا چاہیے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اگر رہنما اس پہیلی سے واقف ہوں تو اچھے پہلوؤں کو باقی رکھنا اور برے پہلوؤں سے بچے رہنما ممکن ہے۔
چنانچہ یہ الفاظ سمجھ میں آنے لگتے ہیں جو کہ ابراہام لنکن سے منسوب ہیں مگر اصل میں ان کے بارے میں کہے گئے تھے: تمام لوگ مشکلات جھیل سکتے ہیں پر اگر کسی شخص کے کردار کا تجزیہ کرنا ہو تو اسے اختیارات دے دیں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں