ایڈٹ شدہ پہاڑ پر ڈاکٹر کا انٹرویو

تحریر/عبداللہ جان

گزشتہ روز ایک غیرمعروف آن لائن انڈین نیوز ایجنسی نیوز انٹروینشن نے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا ایک انٹرویو شائع کیا۔ اس سے پہلے کہ ہم ڈاکٹر اللہ نذر کی انٹرویو کے متعلق کچھ کہیں، آئیں انٹرویو لینے والے ادارے اور صحافی کے متعلق جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ وویک سینہا نام کی ایک شخص اس نیوز ایجنسی کے چیف ایڈیٹر ہیں جو کہ ٹیوٹر پر اسلام مخالف پروپگنڈے میں مصروف اور آر ایس ایس کے نظریے کے حامی ہیں، اس نیوز ایجنسی کا سب سے بڑا ایجنڈا انڈیا کے اندر مسلمانوں کے خلاف پروپگنڈہ کرنا اور پاکستان کے خلاف زہر افشانی کرنا ہے۔ اپنے اسی ایجنڈے کو آگے لے جانے کے لئے انہوں نے ڈاکٹر اللہ نذر سے رابطہ کیا اور انٹرویو کے نام پر بلوچستان کے صورت حال کی غیر حقیقی منظر کشی کی گئی ہے۔ جس طرح کے غیر حقیقی سوالات اس صحافی نے پوچھے اور جو جذباتی جواب ڈاکٹر اللہ نذر نے دئیے ہیں انہیں سننے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بلوچستان سے دور ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر کا علم بلوچستان کے حوالے سے کس قدر گھٹ چکا ہے۔ ویسے سارا انٹرویو روایتی باتوں اور حقائق سے کوسوں دور پروپگنڈے پر مشتمل ہے، لیکن اس ویڈیو کلپ میں ڈاکٹر اللہ نذر کی ویڈیو کو ایڈٹ کر کے جس طرح اس کے بیک گرائونڈ میں ایک پہاڑی کی تصویر لگاد دی گئی ہے یہ جھوٹی باتوں اور دھوکہ بازی کی ذہنیت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اس ایڈٹ شدہ پہاڑ سے ڈاکٹر شاید بلوچستان میں یہ تاثر پھیلانا چاہتا ہے کہ وہ بلوچستان کی پہاڑوں میں موجود ہے، لیکن ہائے افسوس کہ بلوچستان کے عوام اس قدر سادہ بھی نہیں کہ وہ اس سست معیار کی ایڈٹنگ کو سمجھ نہ سکیں۔ بہرحال جب زوال قریب ہو تو ہر تدبیر الٹ جاتی ہے۔ جعلی پہاڑ پر بیٹھ کر انٹرویو دینے کی جو تدبیر ڈاکٹر نے بنائی ہے، یہ فیصلہ بھی لوگوں کو مزید آگاہ کرے گا کہ مڈل کلاس کی نمائندگی کے دعوے دار اللہ نذر کس قدر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں۔

اس بات میں اب کوئی دورائے نہیں کہ بلوچستان میں مسلح تنظیموں، ان کے حامیوں اور ان کے لیڈروں کے لئے کوئی ہمدردی موجود نہیں۔ بدامنی پھیلانے والے اور ترقیاتی کاموں کے سامنے رکاوٹ بننے والی گروہوں سے تنگ عوام مسلح تنظیموں کے خاتمے اور ان کے سرنڈر ہونے کے لئے اپنی خواہشات کا اظہار کھل کر کرتے ہیں۔ مسلح تنظیمیں معمولی باتوں کو جواز بنا کر تنقید کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود عوام اپنی محفلوں میں ان تنظیموں کے لئے اپنے دلوں میں موجود جذبات کو اپنی زبان پر لاتے ہیں جو کہ ہمیشہ ان تنظیموں کی مخالفت میں ہوتی ہیں۔ یہ بلوچستان میں آج کی حقیقت ہے جسے “میں نہ مانوں” کی رٹ لگانے سے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ لیکن مسلح تنظیموں کے ہارے ہوئے لیڈر اس حقیقت کو دیکھ کر اور جان کر بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ڈاکٹر اللہ نذر کا حالیہ انٹرویو ہو یا حیربیار مری کا انٹرویو ہو، دونوں موصوف اس بات پر بضد ہیں کہ وہ عوام کی نمائندگی کررہے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دعویٰ وہ انڈین چینلوں میں بیٹھ کرکررہے ہیں جنہیں کوئی بلوچ سنتا بھی نہیں۔ ان کے اس دعوے کا مقصد شاید اپنی تنخواہ میں کچھ اضافہ کرانا ہو۔
ڈاکٹر اللہ نذر ہو یا کوئی دوسرا علیحدگی پسند بلوچ، ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری قتل عام سے خود کو بری الذمہ کرکے سارا ملبہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت پر ڈال دیں۔ بلوچستان میں جتنے ڈاکٹرز، ٹیچرز اور عام لوگ بشمول خواتین و بچوں کے ڈاکٹر کی تنظیم نے مارے ہیں، شاید ہی کسی اور نے مارے ہوں، لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر اللہ نذر اس ڈھٹائی سے انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں گویا وہ کوئی مسلح شدت پسند نہیں بلکہ گاندھی ہیں۔ بلوچوں کی مرضی کے بغیر بندوق کے زور پر اپنا مقصد لوگوں پر تھونپنا اور قبول نہ کرنے کی صورت میں موت کی سزا دینا ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم کا وطیرہ رہا ہے۔ ان کی تنظیم کا جو ممبر تنظیم کی پالیسیوں سے نالاں ہو کر واپس آ جاتا ہے تو پورا گروہ اس واپس آنے والے خاندان کے خلاف متحرک ہوجاتا ہے۔ دسیوں ایسے لوگ ڈاکٹر کی تنظیم نے قتل کیے ہیں جو بندوق برداری سے تنگ ہوکر پرامن زندگی گزارنے کے لئے واپس آئے ہیں۔ ان تمام جرائم کے باوجود ڈاکٹر اللہ نذر جب یہ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہی ہے تو یہ دعویٰ ہر عام بلوچ کو انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔
چونکہ ڈاکٹر سے انٹرویو لینے والا ایک انڈین شخص تھا جسے بلوچوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ اس لئے وہ ایسے سوالات جن سے ڈاکٹر کی اپنی تنظیم کے جرائم سے پردہ ہٹنے کا خدشہ ہو، سے گریز کررہا تھا۔ ڈاکٹر اللہ نذر نے زمینی حقائق کو یکسر مسترد کرکے یہ اعلان کیا کہ بلوچستان میں قدرتی آفات کو حکومت بطور ہتھیار استعمال کررہی ہے۔ موجودہ عالمی وباء کورونا سے متعلق یہ دعویٰ کیا کہ اس وباء کو حکومت جان بوجھ کر بلوچستان میں پھیلا رہی ہے۔ اس بات میں کہاں تک صداقت ہے یہ بلوچستان کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں۔

بلوچستان کی علیحدگی کا مطالبہ جن باتوں کو جواز بنا کر کیا جارہا ہے وہ مکمل طور پر لایعنی ہیں۔ جھوٹی نظریات کو جھوٹ بول کر تادیر زندہ نہیں رکھا جاتا اس لئے اب اس مرتے ہوئے پروپگنڈے کو مصنوعی سانسیں فراہم کرنے کے لئے ویڈیو ایڈٹنگ کا سہارا تک لیا جارہا ہے۔ جھوٹ اور غیر حقیقی باتیں سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جارہی ہیں تاکہ یہ تاثر عام کیا جائے کہ بلوچستان پر بے تحاشا ظلم ہورہا ہے۔ اس پروپگنڈے کا حصہ ماما قدیر بھی ہیں۔ ماما قدیر کی تنظیم جو کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے بنائی گئی ہے وہ سی پیک منصوبے کے خلاف متحرک ہے۔ جو درجنوں لوگ جو مسلح تنظیموں نے اغوا کیے ہیں ان کے متعلق یہ تنظیم خاموش ہے لیکن شدت پسندوں کے ٹھکانوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال کر یہ دعویٰ کررہی ہے کہ یہ عام بلوچوں کی جونپڑیاں ہیں جو کہ سی پیک منصوبے کی وجہ سے جلائے گئے ہیں۔ اسے کوئی بتائے کہ سی پیک ایک فوجئ منصوبہ نہیں بلکہ خالص معاشی منصوبہ ہے۔ لیکن چونکہ ان کا مقصد غلط باتیں پھیلانا اور عوام کو دھوکے میں رکھنا ہوتا ہے۔ اس لئے یہ کوئی موقع ضائع کیے بغیر جھوٹی باتوں، جھوٹے دعوؤں اور جھوٹی الزامات لگانے میں مصروف ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ جو کوئی جھوٹی بیانات اور دعوؤں کے ذریعے نفرت کا سبق عام کررہا ہے وہ بلوچستان کا خیر خواہ نہیں ہے۔ نفرت نے بلوچستان کی نسلوں کو ضائع کیا ہے اب مزید اس طرح کے نفرت پھیلانے والے عناصر بلوچستان کے لئے قابل قبول نہیں ہیں اور نہ ہیں بلوچستان ایسے عناصر کا متحمل ہو سکتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں