ڈاکٹر، اب مہربانی کرکے بس کردیں

ڈاکٹر، اب مہربانی کرکے بس کردیں

گواچن اداریہ

انڈین صحافی وویک سینھا سے انٹرویو میں ڈاکٹر اللہ نذر نے اپنی اُس پرانی الزام تراشی اور مبالغہ آرائی کی روایت کو برقرار رکھی ہے جو وہ ہمیشہ سے کرتے آ رہے ہیں۔ جھوٹ، غیر حقیقی واقعات اور بے جا الزام تراشیوں کا جو سلسلہ علیحدگی پسند بلوچوں نے شروع کیا ہے، ڈاکٹر ان سے بھی ایک قدم آگے نکل گئے ہیں۔ غیروں کو خوش رکھنے کے لئے اس طرح کے من گھڑت اور خیالی واقعات کا ذکر ڈاکٹر اللہ نذر کا ہی کمال ہے جن کا حقیقت سے کہیں کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچوں کو دھوکے میں رکھنے اور اپنے پروپگنڈے کی تشہیر کے لئے جھوٹ کا سہارا لینے کے لئے اس حد تک مجبور ہوچکا ہے کہ اپنی ویڈیوز کو بھی ایڈٹ کرکے بیک گراؤنڈ میں پہاڑ کی تصویر لگا دیتا ہے تاکہ دیکھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ وہ افغانستان میں ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر یا کوئی بھی وہ شخص جو اپنی خاندان کو تو دوسرے ملکوں میں بٹھا کر محفوظ کرلیتا ہو، اپنے بچوں کو فرانس اور جرمنی کی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھاتا ہو اور عام بلوچوں کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنے انا کی جنگ میں دھکیلتا ہو وہ کسی صورت میں بلوچستان کا لیڈر و خیرخواہ نہیں ہوسکتا۔ اب ایسے لوگوں کے لئے یہی ایک راستہ بچا ہے کہ وہ سوشل میڈیا میں جھوٹی باتوں کا پرچار کرکے خود کو بحث کا موضوع بنائیں۔
اب ڈاکٹر کے اس دعوے کو ہی دیکھا جائے جس میں وہ کہتے ہیں کہ حکومت کرونا وائرس کو بلوچستان میں ایک بائیولوجیکل ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے بلوچوں کو دانستہ بیمار کرنے کی پالیسی پر عمل پھیرا ہے۔ ان کے بقول ایران سے آنے والے زائرین کو حکومت نے جان بوجھ کر بلوچستان ٹہرایا تاکہ یہاں کے لوگوں میں اس بیماری کو پھیلایا جا سکے۔ اب کوئی ڈاکٹر سے پوچھے کہ زائرین کے لئے بلوچستان کے راستے کا انتخاب آج کی بات نہیں بلکہ یہاں سے ایران، شام اور عراق جانے والے زائرین صدیوں سے اس راستے پر سفر کررہے ہیں۔ اگر ڈاکٹر کے بقول اس راستے کو حکومت بیماری پھیلانے کے لئے استعمال کررہی ہے تو یہ اُس کی خام خیالی ہے۔ کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی اکثریت کو دیکھا جائے تو وہ پنجاب میں ہیں، اگر پنجابی بالادست طبقہ اس وائرس کو بلوچستان میں پھیلا رہا ہوتا، جیسا کہ ڈاکٹر کا دعویٰ ہے تو پاکستان کے باقی صوبوں سے زیادہ کیسز بلوچستان میں ہوتے۔ جس وقت ڈاکٹر اللہ نذر کا انٹرویو شائع ہوا تھا اس وقت بلوچستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد آٹھ سو سے کم تھی جبکہ اس کے مقابلے میں پنجاب میں مریضوں کی تعداد چار ہزار سے زائد تھی۔ سندھ اور کے پی کے میں بھی کیسز کی تعداد بلوچستان سے زیادہ تھی، یہ اعداد شمار ڈان سمیت تمام اخباروں کے ہیں۔ اپنے انٹرویو میں ڈاکٹر نے بلوچستان کے جن ضلعوں کیچ، پنجگور اور آواران کا زکر کیا کہ وہاں کرونا سے متاثرہ مریض بڑی تعداد میں ہیں، یہ ایک بالکل بے بنیاد دعویٰ ہے کیونکہ وہاں اب تک کوئی ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ ان علاقوں سے جن مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں وہ سارے رپورٹ منفی آئے ہیں۔ لیکن چونکہ ڈاکٹر اللہ نذر اعداد و شمار کو دیکھے بغیر الزام تراشیوں میں مصروف ہے، اس لئے ان کو یہ موٹی حقیقت بھی دیکھائی اور سمجھائی نہیں دیتا۔
ڈاکٹر اللہ نذر اپنے پروپگنڈے کو آگے لے جانے کے لئے جس طرح کی زبان استعمال کررہے ہیں وہ بلوچستان کے عوام کے لئے یقینا حیران کن ہے۔ کیونکہ نسل کشی اور کلچرل جینوسائیڈ کے جو الزامات ڈاکٹر نے لگائے ہیں ان کا حقیقت سے کوئی بھی تعلق نہیں۔ اگر حکومت بلوچ کلچر و ثقافت کی مخالفت کرتی تو کیا 2مارچ کا بلوچ کلچر ڈے جو پورے پاکستان میں منایا جاتا ہے یہ ممکن ہو سکتا تھا؟ اور اگر بلوچی زبان کی مخالفت حکومت کرتی تو کیا بلوچی زبان اسکولوں میں سرکاری سطح پر پڑھایا جاتا؟ ڈاکٹر اللہ نذر انڈین چینلز کے سامنے بیٹھ کر جو دل میں آئے کہہ ڈالتے ہیں لیکن بلوچستان کے زمینی حقائق ڈاکٹر کے دعوؤں کے بالکل برعکس ہیں۔ اگر ان مسلح لوگوں کی موت کو ڈاکٹر اللہ نذر نسل کشی قرار دیتے ہیں جو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارے جاتے ہیں تو یہ نسل کشی کے زمرے میں نہیں آتا۔ صرف بلوچستان میں نہیں بلکہ سندھ، پنجاب، کے پی کے میں بھی اگر کوئی شخص یا گروہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھاتا ہے تو سیکیورٹی فورسز کا رویہ ان کے ساتھ بھی اس سے مختلف نہیں جیسا کہ بلوچستان کے مسلح شدت پسندوں سے ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر کی سوچ پر افسوس کیا جا سکتا ہے کہ وہ نوجوانوں کو قتل کروا کر اب مگرمچھ کے آنسو روتے ہیں۔ اس طرح کی بیانات کا مقصد لوگوں کو اندھیرے میں رکھ کر ان کے جذبات کے ساتھ کھیلنا ہے لیکن بلوچستان کے عوام اب مزید اس طرح کی جذباتی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ اب اگر ڈاکٹر اللہ نذر یا کوئی دوسرا شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ لوگوں کو دھوکے میں رکھ کر ان کے بچوں کو بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے بطور ایندھن استعمال کرے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر کو چاہئے کہ وہ غیروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بلوچ عوام کے نام کا استعمال بند کردے۔ کیونکہ بلوچستان کے عوام ہر اس شخص اور گروہ کو مسترد کرچکے ہیں جو آزادی کے نام پر بندوق اٹھا کر لوگوں کے قتل عام اور بد امنی پھیلانے میں مصروف ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں