اپنی قیمتی زندگیاں ضائع نہ کرو!

تحریر/ دُر جان بلوچ
بلوچستان میں جاری حالیہ انسرجنسی کی وجہ سے بُری خبریں روز کا معمول بن چکے ہیں۔ ہر روز بلوچستان کے کسی حصے سے موت کی خبریں آتی ہیں، یہ اموات یا تو مسلح تنظیموں کے ہاتھوں مارے جانے والے عام لوگوں کی ہیں یا پھر ان مسلح تنظیموں کے اپنے ارکان کی، دونوں صورتوں میں وجہ یہی تنظیمیں ہیں۔ بلوچ نوجوانوں کے ہاتھ میں بندوق تھما کر اُنہیں فورسز سے لڑانے والوں کو اس بات کی قطعاََ کوئی پرواہ نہیں کہ یہ نوجوان کیوں تاریک راہوں میں مارے جارہے ہیں۔ ان کی موت جو کسی بھی زاویے سے نہ بلوچوں کے حق میں اچھا ہے اور نہیں کسی اور کے لئے، لیکن اس کے باوجود کم عمر نوجوانوں کو جذباتی نعروں کے ذریعے بندوق اٹھانے پر اُکسایا جاتا ہے تاکہ وہ اس بے نتیجہ انسرجنسی میں بطور ایندھن استعمال ہوں۔ ہزاروں نوجوانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاں کرکے چند بلوچ انا پرست لیڈر اپنے انا کی تسکین کرنا چاہتے ہیں۔ ان انا پرستوں کو نہ بلوچوں کی خوشحالی سے کوئی غرض ہے اور نہ ہی یہ ان نوجوانوں کی زندگیوں سے کوئی محبت رکھتے ہیں۔ اسی لئے یہ نہیں چاہتے کہ بلوچ نوجوان پڑھنے کے بعد اپنے لوگوں کی بھلائی کے لئے کوئی کردار ادا کریں۔ بلکہ ان تنگ نظر اور انا پرست لیڈروں کی ساری توانائی اس بات پر خرچ ہو رہی ہے کہ کس طرح ان نوجوانوں کو دوسرے قومیتوں سے متنفر کرکے انہیں بندوق اٹھانے پر مجبور کیا جائے۔
جو بلوچ لیڈران اپنی انا کو خوش کرنے اور غیروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بلوچستان کی مستقبل کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں وہ ایک سنگین غلطی کا ارتکاب کررہے ہیں۔ اپنی اس غلطی کو وہ قومی آزادی کی جنگ کہہ کر خود کو پارسا نہیں ثابت کرسکتے۔ لیکن ایک گروہ کی غلطی کو کب تک قومی آزادی کی جنگ مان کر نوجوان اس کا حصہ بنیں گے؟ جو شخص بلوچستان کی بھلائی کے لئے واقعی کچھ کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ بندوق برداروں اور جنگ پسندوں کی اندھی تقلید کرنے کے بجائے خود سوچ لے کہ ان بندوق برداروں نے سوائے چند خوشنما نعروں کے بلوچستان کو کیا دیا ہے؟ کیا بلوچستان کے نوجوان اپنی زندگی کو اس قدربے قیمت سمجھتے ہیں کہ ایک مخصوص گروہ یا ایک شخص کی انا کی خاطر اپنی زندگی کو قربان کریں؟
گزشتہ روز قلات میں ایک مسلح تنظیم کی کیمپ پر سیکیورٹی فورسز کے حملے میں دو لڑکے مارے گئے۔ سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ کس طرح نفرت انگیز پروپگنڈے نے نوجوانوں کے ذہنوں کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔ یونیورسٹیز سے فارغ ہوکر جن نوجوانوں کو اس معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے وہ بندوق اٹھا کر تخریب کا راستہ چنتے ہیں۔ نتیجتا جب وہ مارے جاتے ہیں ان کی موت پر بجائے افسوس کے ان مسلح تنظیموں کے اندھے پیروکار شادیانے بجا رہے ہیں تاکہ ان کی موت کو کامیابی قرار دیکر مزید نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مائل کیا جاسکے۔ ان مسلح تنظیموں کو اپنے پروپگنڈے کے لئے خون بطور خام مال چاہیے، یہ خون ان کا اپنا ہو، ان کے مخالف کا ہو یا عام عوام کا خون ہو۔ لیکن نوجوانوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کسی گروہ کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بجائے اپنی زندگی جئیں۔ اس جدید زمانے میں بندوق برداری اور سرمچاری سوائے وقت اور زندگی کے ضائع کرنے کے اور کچھ نہیں دیتے۔ بلوچستان میں سالوں کی پروپگنڈے اور نفرت پھیلانے کی کوششوں سے شدت پسند نظریات رکھنے والے لوگ کئی نوجوانوں کو گمراہ کرچکے ہیں۔ اب بھی وہ یہی چاہتے ہیں کہ نوجوان ان کے ہاتھوں کھٹ پتلی بن کر یونہی بے موت مارے جائیں تاکہ ان کا خون بطور پروپگنڈہ استعمال ہو۔ سوشل میڈیا میں موجود ان مسلح تنظیموں کے حامی اس انتظار میں ہیں کہ کوئی مارا جائے اور وہ چند جذباتی اشعار کے ساتھ دو سطری پوسٹ لکھ لیں اور پھر اگلے واقعے تک ان مقتولوں کی تصاویر پھیلاتے رہیں۔ جب اگلا واقعہ ہوجاتا ہے تو پچھلوں کو سارے بھول جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی جاری ہے۔ فیصلہ ان نوجوانوں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے خاندانوں کے لئے یا اپنے لوگوں کے کئے کچھ کریں گے یا ان مسلح تنظیموں کے ہاتھوں استعمال ہوں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں