قائداعظم یونیورسٹی سے پہاڑوں تک کا سفر :قصور وار کون؟

تحریر/ عبداللہ جان

بلوچ نوجوانوں کو تشدد کی جانب راغب کرنے کے لئے ہمیشہ شدت پسند بلوچ لیڈران نے victim card کھیل کر اپنے پروپگنڈے کی تشہیر کی ہے۔ اکیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں جب باقی دنیا علم و ہنر کے نئے معرکے سر کرنے کے کیے کمربستہ ہوگئی، وہاں ناعاقبت اندیش بلوچ لیڈروں نے تشدد اور بدامنی کی نظریات کو فروغ دے کر بلوچستان کی ایک نسل کو برباد کردیا۔ اُس وقت جب نہ کوئی مسنگ پرسن تھا اور نہ ہی کوئی مارا گیا تھا تو ان شدت پسند تنظیموں کا پروپگنڈا اس بات پر مشتمل تھی کہ بلوچستان کو جائز حقوق نہیں دئیے جا رہے ہیں۔ اسی مفروضے کو جواز بنا کر انہوں نے نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق تھما کر انہیں پہاڑوں کا راستہ دکھایا۔ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف مسلح کرنے والے بخوبی جانتے تھے/ہیں کہ جب یہ بندوق بردار ریاست کے اداروں پر حملہ کریں گے اور جوابی کاروائی میں مارے جائیں گے تو انہیں پروپگنڈے کے لئے قدرے بہتر مواد ان مارے گئے لوگوں کے لاشوں کی صورت دستیاب ہوگا۔ ان لاشوں کی تشہیر کرکے وہ بلوچستان بھر میں پنجابی، سندھی، پختونوں کے خلاف نفرت پھیلائیں گے۔ آج بیس سال گزر گئے ہیں لیکن وہ اب بھی لاشوں کو اپنی سیاست اور ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرکے بلوچ نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ کبھی لوگوں کی موت کو تو کبھی گمشدگیوں کو بنیاد بنا کر لوگوں کو ڈراتے ہیں کہ قومی نجات اور بقا صرف مسلح تنظیموں کو جوائن کر کے ہی ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔ مسلح تنظیموں کے اس طرح کے گھناؤنے افعال یوں تو بہت ہیں، لیکن گزشتہ روز قلات میں بی ایل اے کے دو ارکان کی ہلاکت نے ایک مرتبہ پھر ان تنظیموں کی منافقت کو ظاہر کردی ہے۔
قائد اعظم یونیورسٹی کے دو طالبعلم جو کہ بلوچ کونسل کے متحرک کارکن بھی تھے گزشتہ روز بی ایل اے کی ایک کیمپ میں مارے گئے۔ ان کی موت پر بی ایل اے نے بیان جاری کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کردی کہ دونوں اس کالعدم تنظیم کے ممبر تھے۔ یہ بات سوچنے کی ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹیوں میں سے ایک یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلباء کی وہ کونسی مجبوری تھی جو وہ مسلح تنظیموں میں شامل ہوگئے؟ کیا ریاست کی پالیسیاں ایسی ہیں کہ طالبعلم یونیورسٹیز کے بعد پہاڑوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں؟ اگر ہم غیرجانبدارانہ بنیاد پر ان سوالات کا تجزیہ کریں گے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ ریاست نے کبھی قومیت کی بنیاد پر کسی شخص کو نہ تعلیم سے روکا ہے اور نہ ہی کسی اور ایسی سرگرمی سے روکا ہے جس کی اجازت قانون دیتا ہو۔ یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے نوجوانوں کا یہ اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ اپنی تعلیم کو عملی زندگی میں بروئے کار لاکر بلوچ نوجوانوں میں تعلیم کے شعور کو عام کریں۔ لیکن جو نوجوان اپنی اس زمہ داری سے دستبردار ہو کر جب شدت پسندوں کے ساتھ شامل ہوجاتے ہیں تو دراصل وہ بلوچستان کے ساتھ خیانت کا مرتکب ہوتے ہیں۔ بلوچ نوجوانوں سے اسی خیانت کا ارتکاب کرتے ہوئے احسان اور شاہداد نے مسلح تنظیموں کو جوائن کرلیا۔
مذکورہ دونوں لڑکے قائداعظم یونیورسٹی میں بلوچستان کے کوٹے سے داخلہ لیکر پڑھ رہے تھے اور بلوچ کونسل کے پلیٹ فارم سے متحرک تھے۔ جب قائداعظم یونیورسٹی میں دو طلباء گروپوں کے درمیان تنازعہ ہوا تھا تو بہت سے سندھی اور پنجابی اسٹوڈنٹس کے ساتھ جو بلوچ اسٹوڈنٹ گرفتار ہوئے تھے یہ دونوں لڑکے بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل تھے۔ ان کی گرفتاری کو بنیاد بنا کر بلوچستان کی تقریباََ تمام علیحدگی پسند لیڈران نے اس واقعے کو قومیت کا رنگ دینے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ بلوچ ہونے کی وجہ سے ان کو گرفتار کیا ہے، حالانکہ وہاں پنجابی اور سندھیوں سمیت تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ جو تنازعہ میں شریک تھے، گرفتار ہوئے تھے۔ اگر ریاست نے بلوچ نوجوانوں کو پالیسی کے تحت تعلیم سے دور رکھنا ہوتا تو وہ اسکالرشپ دے کر بلوچستان کے نوجوانوں کو اچھی یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لئے نہیں بھیجتا۔ پڑھنے سے لیکر تنظیم سازی تک مکمل آزادی کے باوجود جب کوئی شخص مسلح تنظیموں کو جوائن کرتا ہے تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ ریاست ان لوگوں کے تعلیم کی دشمن ہے۔ بلکہ مسلح تنظیموں کو جوائن کرنے کا یہ عمل یہ دکھاتا ہے کہ جو لوگ بلوچستان میں بدامنی پھیلا رہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ بلوچ نوجوان پڑھ کر اپنی تعلیم کو لوگوں کی بہتری کے لئے استعمال کریں۔ نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کے لئے ان تنظیموں کے ارکان مختلف طلباء تنظیموں کے اندر گھس کر ان کو یرغمال بناتے ہیں اور پھر انہی کے ذریعے نوجوانوں کو بندوق اٹھانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ بلوچستان کی پسماندگی اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے اصل قصور وار یہی شدت پسند قوم پرست ہیں۔
یہ بات باعث حیرت نہیں کہ بہت سے لبرل حضرات سب کچھ جانتے ہوئے بھی خود کو انجان کرکے لوگوں کی مسلح تنظیموں میں شمولیت کے لئے جواز گھڑتے ہیں کیونکہ بہت سے ایسے تماشائی ہیں جو بیرونی این جی اوز سے فنڈز لیکر ریاست مخالف پروپگنڈے کی تشہیر کرتے ہیں، جب کوئی بلوچ شدت پسند مارا جائے تو ان نام نہاد لبرلز کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اصل مسئلے کو پس منظر میں رکھ کر ریاست کے خلاف زہرافشانی کی جائے۔ شاہ داد اور احسان کی موت پر بجائے یہ کہ یہ لوگ مسلح تنظیموں میں شمولیت کرنے والوں کو حقائق سے آگاہ کریں، سوشل میڈیا میں موجود انسانی حقوق کے شوقیہ کارکن اور نمائشی لبرل اس کوشش میں ہیں کہ سارا ملبہ ریاست پر ڈال کر بلوچ نوجوانوں کو مزید گمراہ کریں تاکہ وہ بدستور شدت پسندوں کے دام میں پھنس جائیں اور یونہی مرتے اور مارتے رہیں۔
جب عقلی بنیادوں پر تمام معاملات پر کوئی طالبعلم غور کرے تو اس کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ وہ تشدد پسندوں کی قوم پرستی سے خود کو دور کرے۔ لیکن اگر جب ایک شخص تمام حقائق کو جاننے کے باوجود مسلح تنظیموں میں شامل ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب واضح طور پر یہی ہے کہ وہ بڑی سازش یا بڑی لالچ کا شکار ہوا ہے۔
بلوچ نوجوان تمام معاملات کو دیکھ کر خود کو ایسے تمام کرداروں سے محفوظ رکھیں جو ان کی زندگیوں سے کھیل کر سکون حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی زندگیاں ان کے خاندان کے لئے اور ان کے علاقے کے لئے اور بلوچستان کے عوام کے لئےقیمتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں