بلوچستان کی دم توڑتی مسلح مذاحمت

تحریر/ دُرجان بلوچ

بلوچستان کی طویل ترین اور اب دم توڑتی انسرجنسی کو مصنوعی سہارا فراہم کرنے کے لئے انسرجنسی سے جُڑے لوگ طرح طرح کے حیلے بہانے تراش رہے ہیں۔ لوگوں میں اپنی حمایت کھونے کے بعد سوشل میڈیا کے مختلف اکاؤنٹس اور ویب سائٹس میں پروپگنڈہ پوسٹوں کے ذریعے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اب تک بلوچستان میں ان مسلح تنظیموں کا ایک ہولڈ موجود ہے۔ تاکہ اس غلط تاثر سے متاثر ہوکر لوگ ان تنظیموں کی کمزور صفحوں میں شامل ہوجائیں ۔ ان تنظیموں کے پُرانے ارکان بڑی تعداد میں شدت پسندی سے دستبردار ہوکر پرامن زندگی کی راہ پر واپس آرہے ہیں۔ مسلح تنظیمیں واپس جانے والوں کا راستہ روکنے کے لئے ان کے خاندان اور رشتہ داروں تک کو نشانہ بنا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان تنظیموں کے کئی کمانڈرز حالیہ دنوں میں بندوق رکھ کر پرامن زندگی کا انتخاب کرچکے ہیں۔ مسلح تنظیموں کے ان کمانڈروں کی واپسی کا فیصلہ ان کے اپنے لئے اور بلوچستان کے امن کے لئے فائدہ مند ہے۔ لیکن ان تنظیموں کو ان کے متحرک ارکان کی واپسی نے اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار کیا ہوا ہے کہ اس بوکھلاہٹ کو جھوٹے اور ایموشنل پروپگنڈے سے چھپانے کی سرتوڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔ گزشتہ مہینے کے آخر اور اسی مہینے کی شروع میں پنجگور میں دو کمانڈروں سمیت مسلح تنظیم کے چار ارکان مارے گئے اور قلات میں بھی مسلح تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو کارکن مارے گئے۔ بلوچستان کے عوام کی جانب سے مسترد ہونے، بہت سے کمانڈروں کی مسلح تنظیموں سے بیزار ہوکر مسلح تنظیموں سے علیحدگی اور ان کے اپنے کارکنوں کی موت سے یہ تنظیمیں انتہائی کمزور ہوچکی ہیں۔ اس کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے ان کے بیرون ملک چھپے ارکان بھی انتہائی مایوسی کا شکار ہیں۔ لیکن بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے ان تنظیموں کی جانب سے اس طرح کا پروپگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے جیسے ان کے ارکان کی موت اور مسلح تنظیموں سے آئے روز ان کے کمانڈران کی دستبرداری ان کے لئے بہت بڑی کامیابی ہو۔ موت ہمیشہ ناکامی اور نقصان کا سبب ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ ان تنظیموں کو نہ عوام کی سہولت سے کوئی سر و کار ہے اور نہ ہی بلوچستان کے متعلق یہ فکر مند ہیں اور نہ ہی بلوچوں کی زندگیاں ان کے یہاں کوئی قیمت رکھتے ہیں۔ ان تنظیموں کی خواہش اور کوشش صرف یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح بلوچستان میں بدامنی پھیلائی جائے۔ ان کے اس خواہش کی قیمت بلوچ ماؤں نے ہزاروں بچوں کی بے موت مارے جانے کی صورت میں دی ہے، لیکن یہ جنگ پسند تنظیمیں اب بھی اپنے پروپگنڈے کے ذریعے سادہ لوح نوجوانوں کو گمراہ کرکے اپنے ساتھ شامل کرانا چاہتے ہیں۔ ان تنظیموں کا کوئی کارکن جب مارا جاتا ہے تو اس کے بارے میں یہی تاثر پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مقتول ایک ہیرو تھا، بہادر تھا۔ اپنے مقتول کمانڈروں کی جھوٹی تعریف اور glorification کر کے درحقیقت یہ تنظیمیں نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کرانا چاہتے ہیں۔ پروم میں مارے گئے نورا نام کی ایک کمانڈر کے نام پر شائع ہونے والی ایک آڈیو کو سوشل میڈیا میں اچھالا جارہا ہے۔ اس آڈیو میں یہ صاف سُنا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص بلوچی زبان میں نوجوانوں کو یہ ترغیب دے رہا ہے کہ وہ مسلح تنظیموں میں شامل ہوجائیں۔ مسلح تنظیمیں اس پستی کا شکار ہیں کہ اپنے ہی مارے گئے کارکنوں کی لاشوں کو پروپگنڈہ مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جب کہیں لڑائی میں ان کے کارکن مارے جاتے ہیں تو واویلا کرتے ہیں جبکہ اس دعوے کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ تمام تر شدت پسندی اور عام لوگوں کی قتل کے باوجود سیکیورٹی فورسز ان لاشوں کو ان کے ورثاء تک پہنچاتے ہیں تاکہ ان کے خاندان ان مقتولوں کی تجہیز و تکفین کرسکیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عوام کی عدم حمایت کی وجہ سے لوگ ان تنظیموں کے ممبران کی جنازوں شرکت کم ہی کرتے ہیں۔ ہر بات کو اپنے پروپگنڈے کے لئے استعمال کرنے والی یہ تنظیمیں اب بلوچوں کو یہ ترغیب دے رہے ہیں کہ چونکہ وہ جنگجو اور بہادر ہیں، اس لئے بندوق اٹھا کر بلوچ نوجوان مسلح تنظیموں میں شامل ہوجائیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان مسلح تنظیموں کے کارکنوں کی نام نہاد بہادری نے بلوچستان کے عوام کو پچھلے بیس سالوں سے بنیادی سہولیات تک سے محروم کیے رکھا ہے۔ ہر طرح کی ترقیاتی منصبوں کے سامنے مزاحم ہوکر جب ان تنظیموں کے کارکن جوابی کاروائیوں میں مارے جاتے ہیں تو ان مقتولوں کی تعریف شروع ہوجاتی ہے اس تعریف کے پیچھے یہی مقصد کارفرما ہے کہ نوجوان بندوق کی وقتی سحر میں گرفتار ہوکر تشدد پسند بن جائیں۔ اسی سوچ نے بلوچستان کا ناقابل تلافی نقصان کیا ہے۔ اپنی ضد اور انا کے خول میں بند مسلح تنظیموں کے لیڈران اب بھی شدت کے ساتھ اسی سوچ میں بندھے ہوئے ہیں۔ اس سوچ کے پیروکار سوائے اپنی ذات اور قوم کی نقصان کے اور کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
بلوچستان کے تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ دم توڑتی مسلح مذاحمتی تحریک کی وجہ سے بلوچ معاشرے کا جو نقصان ہوا ہے لوگوں کو اس سے آگاہ کریں۔ تاکہ جو لوگ موت کا کاروبار کررہے ہیں سادہ لوح لوگ ان کے دھوکے سے محفوظ رہ سکیں۔ جب عوام مکمل طور پر ان تنظیموں کو مسترد کردیں گے تو بلوچستان میں بدامنی ختم ہوگی، نتیجتاََ بلوچستان میں سیاسی، معاشی اور تعلیمی ترقی کے راستے کھل جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں