لوگ لاپتہ کیوں ہورہے ہیں؟

تحریر/حنین جان
‎بلوچستان میں آزادی کے نام پر جو شدت پسند ذہنیت پروان چڑھانے کی دو دہائی قبل کوشش کی گئی تھی، اس ذہنیت نے بلوچستان میں تمام شعبہ زندگی کے لوگوں کو منفی طور بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ آج اجتماعی حوالے سے بلوچستان کا معاشرہ اتنا بانجھ اور ناکارہ بن چکا ہے باشعور اور تعلیم یافتہ طبقہ اپنی زمہ داریوں سے مکمل طور پر دستبردار ہوچکا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بلوچستان کے حالات کو سدھارنے کے لئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو آگے آنا چاہئے تھا۔ انہیں دو دہائیوں کی شدت پسندی سے ہونے والی نقصان سے بچانے کے لئے کردار ادا کرنا چاہئے تھا، وہ خود پروپگنڈہ کرنے والے گروہوں کے آسان ہدف بن گئے ہیں۔ ان نوجوانوں کو بغیر کسی مقصد کے شدت پسند بنانے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے۔ شدت پسندی ہر رنگ میں ہو وہ قابل قبول نہیں ہونا چاہئے لیکن بلوچستان میں شدت پسندی کے حامی خود کو لبرل و امن پسند گردانتے ہیں اپنے اس دوعوےکے برعکس نوجوانوں کو یہ ترغیب دیتے ہیں کہ وہ مسلح ہوں۔ اسی مہینے جب قائداعظم یونیورسٹی کے دو طالبعلم قلات میں ایک مسلح تنظیم کے کیمپ میں مارے گئے تو انہی ترقی پسند اور لبرل لوگوں نے ان دونوں طالبعلموں کی اموات کو گلوریفائی کرنے کی کوشش کی تاکہ بلوچ نوجوان مسلح تنظیموں کو جوائن کریں۔کیا یہ محض اتفاق ہے کہ بلوچستان میں جب بھی کوئی شخص مسنگ ہوتا ہے تو پروپگنڈہ کرنے والے تمام لوگ فورا متحرک ہوکر نوجوانوں کو یہ یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بندوق برداری کے علاوہ بلوچوں کے لئے کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں؟ وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ لوگوں کے لاپتہ ہونے یا بے موت مر جانے کی بنیادی وجہ بندوق برداری ہی ہے۔ اگر بلوچستان میں مسلح مذاحمت نہ ہوتا تو کیوں کوئی لاپتہ ہوتا یا بے موت مر جاتا؟ لیکن ان جنگ پسندوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کیونکہ اگر حقائق کو پرکھ کر دیکھا جائے تو مسلح ہونے کا کوئی جواز نہیں بنتا اس لئے وہ جذباتی نعروں کو شدت پسندی کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
‎لوگوں کا لاپتہ ہونا یقینا قابل افسوس بات ہے اور اس سلسلے کو ختم ہونا چاہئے۔ لیکن اس معاملے کو جذباتی حوالے سے دیکھنے کے بجائے ہمیں عقلی بنیادوں پر اس بات کی بنیاد کو سمجھنا ہوگا کہ کیوں نوجوان لاپتہ ہورہے ہیں۔ بلوچستان میں جب تک شدت پسندی موجود رہیگی اور نوجوان اس شدت پسندی سے متاثر رہیں گے تب تک بدقسمتی سے اس بات کے امکان بہت کم ہیں کہ گمشدگیوں کا سلسلہ ختم ہو۔ جو کوئی بھی سنجیدگی سے لوگوں کی گمشدگیوں کے سلسلے کو روکنے کے لئے آواز اٹھانا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ مسلح قوم پرستی کے خلاف آواز اٹھائے۔ کیوں کہ لوگوں کے مسنگ ہونے کی وجہ صرف مسلح قوم پرستی اور شدت پسندی ہے۔وہ تمام کردار جو نوجوانوں کو گمراہ کرنے یا اپنے پروپگنڈہ مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ بلوچستان سے لوگوں کی گمشدگیوں کا سلسلہ بند ہو یا بلوچستان کے حالات پر امن ہوجائیں۔ اس لئے وہ بلوچ نوجوانوں کی گمشدگی پر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اس معاملے کو اس طرح پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ باقی نوجوان بھی متاثر ہوکر ایسے فیصلہ کریں کہ ان کی گمشدگی بھی یقینی ہوجائے۔
‎بلوچستان کے وارث آزادی کے دعوے دار چند مسترد شدہ لوگ نہیں بلکہ بلوچستان کے اصل وارث وہی ہیں جو بلوچستان میں موجود ہیں اور بلوچستان کے مستقبل کی تعمیر کے لئے تعلیم سمیت ہر شعبے میں سرگرم ہیں۔
‎جو لوگ بلوچستان کی محرومیوں کا رونا رو کر بلوچ نوجوانوں کو بندوق اٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں وہ بلوچ عوام کی تکالیف کا احساس نہیں رکھتے۔ جن ماؤں کے بچے لاپتہ ہوتے ہیں یا بندوق اٹھانے کے بعد مارے جاتے ہیں ان تنظیموں کواس بات کی قطعی کوئی پروا نہیں اور نہ ہی وہ اس نقصان سے آگاہ ہیں جو ان لوگوں کی موت یا گمشدگی کی وجہ سے بلوچستان کو ہورہا ہے۔ایسے لاپرواہ اور بے حس کرداروں سے بلوچ عوام کو اور خصوصاََ نوجوان طبقے کو محفوظ رکھنا ہر شخص کی زمہ داری ہے۔
‎بلوچستان کے وہ تعلیم یافتہ نوجوان جنہیں حالات کی سنگینی کا ادراک ہے، انہیں چاہیے کہ وہ شدت پسندانہ قوم پرستی کے نظریات کی مخالفت کرکے ایسے نظریات کے پھیلانے والوں سے عوام کو آگاہ رکھیں۔ تاکہ مستقبل میں کوئی شخص بلوچ نوجوانوں کی زندگیوں کو اپنے مفادات اور دوسروں کے ایجنڈے کے لئے استعمال نہ کرسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں