اور بلی تھیلے سے باہر آگئی!

تحریر/ عبداللہ جان
بلوچستان میں جن بیرونی طاقتوں نے خونی بساط بچا رکھا تھا، اب اس بساط میں کھیل آخری مرحلے میں داخل ہے۔ شکست خوردگی اور ندامت کو چھپانے کے لئے اس کھیل کے چھپے کھلاڑی ایک ایک کرکے سامنے آرہے ہیں۔ اب اپنی کھوکھلی باتوں سے وہ اپنے تمام کٹھ پتلیوں کا نام لے لے کر بتا رہے ہیں کہ ان کٹھ پتلیوں کی ڈوری کہاں سے ہلائی جار رہی تھی۔
بلوچستان پاکستان کی جغرافیے کا اہم ترین خطہ ہے۔ یہاں کے جو وسائل ہیں ان کی قیمت اپنی جگہ، جس اسٹریٹجک لوکیشن پر بلوچستان واقع ہے یہ ہمیشہ اُن طاقتوں کو اپنی جانب کھینچتی آئی ہے جو اس خطے میں پاکستان کو ایک ابھرتی قوت کے طور پر دیکھنا نہیں چاہتے۔ ان بد خواہوں میں انڈیا اور افغانستان ہمیشہ سے پیش پیش رہے ہیں۔ لیکن اب جب چائنا پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہے اور سمندر تک رسائی کے لئے راہداری بنا رہی ہے تو چند مغربی طاقتیں بھی میدان میں کود گئی ہے۔ انڈیا، افغانستان بشمول دیگر اپنے مشترکہ مفادات ہی کے حصول کے لئے متحرک ہیں۔ ان سب نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے اُن بلوچوں کو قربانی کا بکرا بنایا جو عالمی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلیوں کا ادراک کئے بغیر بیرونی ہاتھوں میں استعمال ہونے کے لئے تیار تھے۔ جب کوئی دوسری طاقت کسی گروہ کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتی ہے تو استعمال ہونے والی گروہ کی قیمت کچھ نہیں ہوتی۔ وہ کٹھ پتلی ہوتی ہے جس کی ڈوری کہیں اور سے ہلائی جاتی ہے۔ ڈوری ہلانے والوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کہاں کتنے لوگ مرے، مرنے والے کون تھے اور کس خطے کا کتنا نقصان ہورہا ہے۔ چونکہ ان کا مقصد ہی نقصان پھیلانا ہوتا ہے اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ نقصان پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب کرد مغربی ممالک کے ہاتھوں مسلسل استعمال ہونے کے باوجود ان کے دھوکے کا شکار ہوگئے تو ایک کُرد رہنما نے کہا کہ ہم کو بیس مرتبہ دھوکہ دیا جا چکا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ جو گروہ دوسروں کی پراکسی بنے پھر اس کی اپنی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔

بلوچستان میں بدقسمتی سے یہاں کے لیڈران نے جس عدم توجہی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے نتیجے میں غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے شدت پسندی یہاں آسانی کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہاں کے غیرتجربہ کار اور عالمی سیاست سے نا بلد لیڈران نے اس غربت کا استعمال کرکے اپنے ہی لوگوں کا استحصال شروع کیا۔ لوگوں کو آرگنائز کرنے اور تعلیم دلانے کے بجائے انہیں نہ ختم ہونے والی جنگوں میں جھونک دیا۔ خود کبھی کمیونسٹ ممالک کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے اور جب کمیونزم فوت ہوگیا تو پاکستان کے مخالف ممالک کے ہاتھوں کھلونا بن کر بلوچستان میں اپنے ہی لوگوں کے خون سے کھیلتے رہے۔
بلوچستان میں انسرجنسی کے لئے ہمیشہ جو ہتھیار سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے وہ پروپگنڈہ ہے۔ چند سالوں پہلے تک اس پروپگنڈے کی وجہ سے یہ غلط تاثر زبان زد عام تھا کہ بلوچستان کے عوام کی اکثریت آزادی چاہتی ہے۔ اس غلط تاثر کو نام نہاد آزادی پسندوں نے اپنے حق میں خوب استعمال کیا۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر اللہ نزر سمیت علیحدگی پسندوں کے تمام لیڈران اب بھی اسی غلط تاثر کے خمار میں ہیں۔ لیکن یہ غلط تاثر تھا کہ لوگ آزادی چاہتے ہیں۔ اس طرح کے دعوے ہوائی محلات تھے جنہیں دھڑام سے گرنا تھا اور یہ محلات گر گئے۔ جن بیرونی ایجنسیز نے حقائق کا غلط اندازہ لگا کر اپنے انڈے ان مسلح تنظیموں کے نیچے رکھ دئیے جو آزادی کے نام پر عوام کی نمائندگی کے دعوے دار ہیں، اُن کو آج یہ احساس ہو چکا کہ وہ کس قدر خسارے میں ہیں۔ لیکن اس پشیمانی کو چھپانے کے لئے وہ جو تدبیر آزما رہے ہیں وہ مزید انہیں ڈبونے کا باعث بن رہی ہے۔
یہ بات کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا کہ بلوچستان میں مسلح تنظیموں کی پشت پناہی بیرونی ممالک کررہے ہیں۔ مسلح تنظیموں کے کمانڈرز کا افغانستان میں بیٹھنا اور وہاں انڈین ایجنسیز کے ساتھ ملنا جُلنا کوئی خفیہ بات نہیں تھی۔ جب کلبھوشن یادیو گرفتار ہو گیا تو اس نے اپنی ساری کہانی بہ زبانِ خود بتائی۔ پاکستان کی معاشی ترقی کا راستہ روکنے کے لئے انڈیا، افغانستان اور مغرب کا جو غیراعلانیہ اتحاد بن چکا ہے اس اتحاد کی کوشش یہی ہے کہ بلوچستان کے حالات کو اس نہج تک لایا جائے کہ چائنا اپنی سرمایہ یہاں سے لپیٹ لے اور دوسری کوئی قوت یہاں سرمایہ کاری نہ کرسکے۔ لیکن اپنے اس مقصد کے لئے وہ جن قوتوں کو استعمال کرنا چاہتے تھے یا چاہتے ہیں، وہ قوتیں اب خود ہی ماضی کے قصے بن رہے ہیں۔ بلوچ علیحدگی پسندوں کو ان ممالک نے ہرقسم کی سپورٹ فراہم کی کہ وہ بلوچستان میں حالات کو نارمل نہ ہونے دیں، لیکن ان کی ساری کوششیں اور سارا سرمایہ ضائع ہوگیا۔ جھوٹی باتوں اور جذباتی نعروں کی بنیاد پر لوگوں کو تادیر بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ اس لئے جیسے ہی مسلح تنظیموں سے جڑے لوگ حقیقت سے آشنا ہوتے گئے، واپس آتے گئے۔ اب بلوچستان کی تمام مسلح تنظیموں کے بیشتر لیڈران بندوق رکھ کر پرامن زندگی کی جانب لوٹ چکے ہیں۔ یہ وسیع و عریض بلوچستان اب ان تنظیموں کے لئے اس قدر تنگ ہوچکا ہے کہ ان کے باقی ماندہ تمام کارکن سرحد پار چلے گئے ہیں جہاں سے کبھی کبھار آ کر بلوچستان میں کاروائی کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ یہ کاروائیاں اب آزاد بلوچستان کے لئے نہیں ہورہی ہیں بلکہ انڈین اور افغان ایجنسیز کو خوش رکھنے کے لئے ہورہی ہیں۔ لیکن حقائق بتا رہے ہیں کہ وہ ایجنسیز بھی اب اس حقیقت کو سمجھنے لگے ہیں کہ بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو غلط طور پر انہوں نے طاقت ور سمجھ کر سرمایہ ان پر لگا دیا۔
بلوچستان میں ہونے والی چند حالیہ واقعات سے مسلح تنظیموں کو جو نقصان پہنچا ہے۔ اس نقصان کی تکلیف انڈین میڈیا میں شدت کے ساتھ محسوس کی جا سکتی ہے۔ انڈیا کے صحافی اور انٹیلی جنس کے سابقہ اہلکار چیخ چیخ کر اپنی بوکھلاہٹ کا اظہار کررہے ہیں۔ اس بوکھلاہٹ میں وہ اپنی تمام وہ باتیں بھی بتا رہے ہیں جن کو اب تک انڈین گورنمنٹ چھپاتی آ رہی تھی۔ حال ہی میں انڈیا کے سابقہ میجر گورو آریا نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ مری، مینگل اور بگٹی قبیلے کے سرداروں کا رابطہ بھی ان کے ساتھ ہے۔
انڈین میڈیا کا ڈاکٹر اللہ نزر اور حیربیار مری کا بار بار انٹرویو لینا اور اپنے نیوز انٹروینشن جیسے چینلز اور اس جیسے دوسرے پراپگنڈہ ذریعوں سے پاکستان کے خلاف پروپگنڈہ کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انڈیا پروپگنڈے کے ذریعے ایک ایسا ماحول تشکیل دینا چاہتا ہے کہ جس سے بلوچستان کے حالات کو اپنی مرضی کا رنگ دے کر دنیا کے سامنے پیش کی جا سکے۔ بلوچستان میں انسرجنسی کی ناکامی کا ادراک کرکے انڈین پالیسی ساز اب اس کوشش میں ہیں کہ ففتھ جنریشن وار فئیر کے ذریعے پاکستان کے ایمیج کو دنیا میں غلط طور پر پیش کیا جائے۔ اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے بھی بلوچستان کو چُنا گیا ہے۔ یہاں لوگوں کو اپنے حواریوں کے زریعے اکسا کر مسلح تنظیموں میں شامل کرایا جاتا ہے۔ اگر وہ مارے جائیں تو اسے بلوچ نسل کشی قرار دی جاتی ہے اور اگر ایسے لوگ گرفتار ہوجائیں تو مسنگ پرسنز کا شوشہ چھوڑا جاتا ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو انڈیا کی ایماء پر بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں نے اپنے تئیں استعمال کرنے کی شدید کوشش کی ہے۔ ان سے بندوق اٹھوا کر قتل عام پھیلانے سے لیکر ان نوجوانوں کے گمشدگیوں کو بطور پروپگنڈہ مٹیریل استعمال کرنے تک، ان تنظیموں نے اب تک کوئی کسر نہیں بچا رکھی ہے۔ لیکن ان کی تمام کوششیں کارگر ثابت نہ ہو رہی ہیں۔ کیونکہ زمینی حقائق اور ان کے پروپگنڈے سراسر متضاد ہیں۔ انڈین ایجنسیاں اگرچہ چند گروہوں کے ساتھ رابطے میں ہوکر خوش ہیں کہ وہ بلوچستان میں بگاڑ پیدا کر سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں سے انڈین ایجنسیاں رابطہ کررہی ہیں، بلوچستان کے عوام کب کے ان لوگوں کو مسترد کر چکے ہیں۔ اب جب بلی خود تھیلی سے باہر آ چکی ہے تو بلوچستان کے عوام کے لئے فیصلہ کرنا مزید آسان ہوگیا ہے کہ کن کن کرداروں نے کٹھ پتلیوں کا کردار نبھا کر بلوچستان کا سودا کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں