ڈنؔک واقعہ: تُم سب زمہ دار ہو

تحریر: رفیع جہان

25 اور 26 مئی کی درمیانی شب تربت سے چند کلومیٹر دور ڈنک میں دو چور ایک گھر میں گھستے ہیں۔ گھر والے ان چوروں سے ہاتھا پائی کرتے ہیں اور مذاحمت پر چوروں کی فائرنگ سے گلناز نام کی ایک خاتون قتل ہوجاتی ہےاور اس کی بچی برمش زخمی ہوجاتی ہے۔ اس دوران محلے والے جمع ہوکر ایک چور کو پکڑ لیتے ہیں اور پولیس کے حوالے کردیتے ہیں۔ لواحقین اس شخص اور مفرور کے خلاف ایف آئی آر درج کردیتے ہیں۔ مفرور ساتھی کو اگلے روز پولیس گرفتار کرلیتی ہے۔

واقعہ کے بعد صوبائی وزیر داخلہ لواحقین کے گھر آتے ہیں اور تعزیت کرتے ہیں۔ مقتول کو سرکاری طور پر شہید قرار دیتے ہیں اور بچی کی علاج کا سارا خرچہ بھی برداشت کرتے ہیں۔ بچی اب روبہ صحت ہے۔

یہ واقعہ افسوسناک ہے۔ اس طرح کا واقعہ کہیں بھی ہو وہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ لیکن اس واقعے کو لیکر بلوچستان کی سیاسی پارٹیاں بشمول پارلیمانی اور غیرپارلیمانی سمیت مسلح تنظیموں نے جو بیانیہ اپنایا ہے، وہ منافقت اور دوغلے پن کی انتہا ہے۔
بلوچستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں عوام کے لئے سوچنے والی کوئی قوت موجود نہیں ہے۔ بلوچ عوام کا نعرہ لگانے والے جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں وہ سب اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لئے سرگردان ہیں۔ ڈنک واقعہ اس بات کی وضاحت کے لئے کافی ہے کہ کس طرح معصوم بچی کی معصومیت اور اس کی ماں کی خون کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ پارلیمانی پارٹیاں اپنے جھنڈے لیکر میدان میں کھود پڑے اور گلا پھاڑ کر تقریریں کرتے رہے۔ ان کا مطالبہ زمہ داران کی گرفتاری کا تھا جو کہ ان ریلیوں اور جلسوں سے پہلے گرفتار ہو چکے تھے۔ لیکن اس کے باوجود نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل کے رہنماء اپنی خود کی کارکردگیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس واقعے کا سہارا لے رہے ہیں۔
دوسری طرف بلوچستان کو اس دلدل میں پھنسانے والی مسلح تنظیموں نے بھی اس واقعے کو اپنے پروپگنڈے کے لئے خوب استعمال کیا۔ ان تنظیموں کا بلوچستان کی سیاست سے عملی کردار ختم ہوچکا ہے۔ لیکن بلوچستان سے باہر بیٹھے ان کے کارکن اس طرح کی واقعات کو استعمال کرکے نوجوانوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بیشتر سوشل میڈیا کارکن لوگوں کو یہ یقین دلانے میں مصروف ہیں کہ بلوچ نوجوان اب بندوق اٹھائیں کیونکہ کہ انصاف کے راستے بند ہو چکے ہیں۔ حالانکہ اس واقعے کے تمام کردار پولیس کی تحویل میں قید ہیں، ان کی گرفتاری کے بعد اس بات کا کوئی جواز نہیں بنتا کہ وبا کے ان دنوں میں لوگوں کو سڑکوں پر لاکر اپنی دکان داری چمکایا جائے۔ لیکن جن گروپوں کی سیاست کا مرکز ہی اس طرح کے واقعات کا استعمال ہو ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
البتہ بلوچستان کے لوگوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ ہر واقعے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرنے والے لوگ کبھی بھی ان کی خیرخواہی نہیں کرسکتے۔ جس بندوق نے بلوچستان میں عدم برداشت کو فروغ دیا اور بلوچستان کی سیاسی کلچر کو نقصان پہنچایا وہ تعمیری نہیں ہو سکتی، جو لوگ پارلیمنٹ کے مزے لوٹ کر عوام کو کچھ نہ دے سکے وہ اب عوام کے زخموں کا مداوا نہیں کرسکتے۔ حقیقت میں یہ تمام لوگ ڈنک واقعے کے زمہ دار ہیں ۔ اگر یہ لوگ برمش کی ماں کا خون اپنے اپنے گروہوں کو مصنوعی سانسیں فراہم کرنے کے لئے استعمال کررہی ہیں تو یہ عوام کی زمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں کو مسترد کردیں۔ کیونکہ کہ برمش کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے ضروری نہیں کہ ان شبدہ بازوں کی باتوں پر لبیک کہا جائے، بلکہ عدالتوں میں لڑ کر برمش کو انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں