برمش اور اسما زخمی: ایک اہم دوسری بلوچ بہن غیراہم کیوں؟

سیاسی و سماجی تنظیموں کے کردار پر اہم سوال۔
تحریر: عبداللہ جان
بلوچستان میں مسلح تنظیموں نے جتنے بے گناہ مارے ہیں، ان بے گناہوں کی موت پر بلوچستان میں چھائی خاموشی نے ان تنظیموں کو یہ اعتماد فراہم کی ہے کہ وہ جہاں چاہیں لوگوں کو قتل کرتا پھریں۔ سن دو ہزار چھ کے بعد مخبری اور غداری کے نام پر شروع ہونے والا قتل عام کا سلسلہ اب خواتین اور بچوں تک پہنچ چکا ہے۔ لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں اور دوسرے سماجی کارکنوں کی جانب سے جو خاموشی شروع میں تھی اب بھی اس میں کوئی دراڈ پڑھتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
یوں تو بلوچستان میں ایسے درجنوں واقعات ہوئے ہیں کہ جن میں آزادی پسند تنظیموں نے خواتین اور بچوں کو قتل کیا ہے اور گھروں کی تقدس کو پامال کیا ہے، لیکن ابھی مہینہ پہلے ایک واقعہ بالگتر اور اس کے بعد ابھی چند دنوں پہلے ایک واقعہ تربت کے علاقے ڈنک میں ہوا تھا۔ ان دونوں واقعات میں طریقہ واردات ایک جیسا ہی تھا۔ ڈنک میں چوری کی نیت سے چور گھر میں گھس گیے مذاحمت پر فائرنگ ہوگئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون قتل ہوگئی اور برمش نام کی بچی زخمی ہوگئی۔ اسی طرح بالگتر میں بھی رات کے وقت مسلح لوگ گھر میں گھس گئے، مذاحمت پر گھر کے دوفرد قتل کردئیے گئے اور گھر میں موجود اسما نام کی بچی اور اُسامہ نام کا ایک لڑکا زخمی ہوگئے۔ جو کہ ابھی تک ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ ان دونوں واقعات میں فرق یہ تھا کہ بالگتر واقعے کی زمہ داری بی آر اے نے قبول کی۔
یہ دونوں واقعات انتہائی افسوسناک اور یکساں طور پر قابل مذمت ہیں۔ لیکن اگر ہم بلوچستان کے جانبدار انسانی حقوق کے تنظیموں کا رد عمل ان واقعات پر دیکھتے ہیں تو جس واقعے کی زمہ داری مسلح تنظیم نے قبول کی ہے اس پر مکمل خاموشی ہے۔ جبکہ دوسرے واقعے کو پوائنٹ اسکورنگ کے لئے خوب اچھالا جارہا ہے۔ ڈنک واقعے کے اگلے روز، تمام مظاہرے اور بیانات سے پہلے ایف آئی آر بھی درج ہو گئی اور نامزد ملزمان گرفتار بھی ہوگئے اس کے برعکس بالگتر واقعے میں ملوث ملزمان گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈنک واقعے سے زیادہ بالگتر واقعے کے خلاف آواز اٹھانا چاہئے تھا۔ لیکن چونکہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کسی مسلح تنظیم سے وابسطہ تھے، اور انسانی حقوق پر بات کرنے والی جانبدار تنظیمیں ان مسلح تنظیموں کی بے گناہوں کو قتل کرنے کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں اس لئے جو قتل یا انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیاں یہ مسلح تنظیمیں کرتی ہیں وہ بغیر رپورٹ ہوئے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
بالگتر واقعے کے متاثرین نے کل بجا طور پریس کانفرنس کرکے انسانی حقوق کے دعوے داروں کی ضمیر کوجھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے کہ جب ان کے گھر پر مسلح لوگ گھس کر گھر والوں کو قتل کرتے ہیں تو کوئی کچھ نہیں بولتا اور نہ ہی زخمیوں کے علاج معالجے کے لئے کہیں سے کوئی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے برمش کے لئے اٹھنے والی آوازوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپیل کی کہ برمش کے لئے آواز اٹھانے والے اسماء کے لئے بھی آواز اٹھائیں تاکہ ڈنک واقعہ کے ملزمان کی طرح بالگتر واقعے میں ملوث ملزمان گرفتار ہوجائیں۔
بلوچستان میں اپنی پسند کے معاملات کو گروہی مفادات کے حصول کے لئے اچھالنے کا جو رواج پنپ چکا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بالگتر واقعے کے خلاف بھی اسی تندی سے آواز اٹھ سکتا ہے۔ لیکن بالگتر کے متاثرین نے اپنے پریس کانفرنس میں ان نام نہاد انسانی حقوق کارکنوں اور سیاسی جماعتوں کو بے نقاب کیا ہے جو عوام کو گمراہ کرنے کے لیے آئے روز نئے طریقے ڈھونڈتے ہیں اور بلوچستان کے حقیقی مسائل پر بات کرنے کے بجائے سطحی معاملات کی بنیاد پر سیاست کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں اور ماما قدیر کی تنظیم اور خود ماما قدیر جو ہر چھوٹی ایشو کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں وہ بھی بالگتر واقعے پر ایسے خاموش ہیں جیسے یہ لوگ انسان نہ تھے اور ان کا کوئی انسانی حق بھی نہیں تھا۔
جو لوگ صحیح معنوں میں بلوچستان کے عوام کی بہتری چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ بغیر کسی تفرقے کے متاثرین کے لئے آواز اٹھائیں۔ اگر مسلح تنظیموں کی کاروائیوں کو یہ استثنیٰ حاصل رہے گا کہ کوئی ان کے خلاف بات نہیں کرے تو بالگتر واقعہ جیسے واقعات ہر گھر میں رونما ہوجائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں