بلوچستان، جہاں دلیل “لاپتہ” ہے۔

تحریر: عبداللہ جان
جب بلوچستان میں مسلح تحریک شروع ہورہی تھی تو نام نہاد سیاست کے دعوے دار کئی تنظیموں نے گلی محلوں سے لیکر کالج اور یونیورسٹیوں تک نوجوانوں اور عام لوگوں کو ایک بے مقصد جنگ کا ایندھن بنانے کے لئے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔ بغیر کسی وسیع سوچ اور مستقبل کی فکر مندی کے، شہروں میں مسلح تنظیموں کی ترجمانی کرنے والی جماعتوں نے بندوق برداروں کو گلوریفائی کرنے کے لئے ان کی تعریف میں زمین آسمان ایک کردیں۔ ان تنظیموں نے عوام کو یہ باور کرانے کی بھرپور کوشش کی کہ شہروں میں رہ کر جتنا بھی پڑھا جائے یا لوگوں کے لئے جو کردار ادا کی جائے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے جب تک کہ بندوق لیکر پہاڑوں پر نہ جایا جائے۔ اس طرح کے نعرے و نظریوں کی مخالفت اور پرامن سیاست کے حامی جماعتوں کو قومی غدار، قومی سودا گر اور طرح طرح کے القابات سے نواز کر پرامن جدوجہد کو ایک گالی قرار دیا گیا۔ اس تمام سیاسی بلنڈر کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ بلوچستان بھر میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ضائع ہوگئی۔ جو کم عمر بچے ابھی اسکولوں میں پڑھ رہے تھے انہیں بلا سوچے سمجھے جذباتی بنا کر پہاڑوں پر بیجھا گیا، جو پہاڑوں پر نہ جا سکتا تھا اسے مقامی تنظیمیں جذباتی نعروں کے ذریعے اپنے ساتھ شامل کرگئیں۔ ان تنظیموں نے بھی پہاڑ والوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کررکھے تھے۔ ان تعلقات کی وجہ سے بلوچستان میں پرامن سیاست اور اپنے حقوق کے لئے جو جدوجہد جاری تھی، اب ختم ہوچکی ہے۔ اس پرامن جدوجہد کو ان ہی لوگوں نے ختم کرایا جو بلوچستان کے عوام کی فکر کو بالائے طاق رکھ کر کسی اور کو خوش رکھنے کے لئے بندوق برداری کرنے لگے۔
اب بلوچستان میں جو کوئی بھی لاپتہ ہوتا ہے یا کہیں مارا جاتا ہے، اس کی وجہ بلوچ لیڈران کے وہی شدت پسندانہ فیصلے ہیں جو انہوں نے بلوچ عوام کی پروا کئے بغیر کئے تھے۔ اگر بلوچستان میں روایتی سیاست کو پروان چڑھنے دیا جاتا تو آج بلوچستان میں نہ گمشدہ لوگوں کا کوئی مسئلہ ہوتا اور نہ ہی بلوچ مائیں بہنیں سڑکوں پر اپنے پیاروں کی تصاویر لئے ان کی بازیابی کا مطالبہ کررہی ہوتیں۔ اگر اس پر تشدد سیاست کو شروع نہ کیا جاتا تو جو قیمتی انسانی مخبری و غداری کے نام پر تنظیموں کی جانب سے مارے گئے ہیں یا لاپتہ کیے گئے ہیں وہ بھی اس معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کررہے ہوتے۔ لیکن چونکہ یہ صرف خواہشات ہیں، ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے جو نقصان بلوچستان کا ہوا ہے اس نقصان کا ازالہ شاید آنے والا وقت ہی کرسکے۔ لیکن اس غلطی کو دہرانے سے بچانے کے لئے کردار ادا کرنے والے اس غلطی کو دہرانے سے بچا سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ وہ سنجیدہ ہوکر اپنا کردار ادا کریں۔ جو لوگ ماضی سے لیکر تاحال کی نقصان و غلطیوں کا سبب بنے ہیں وہ اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔ ان کی تنگ نظری اور کنویں کے مینڈکوں کی طرح ایک محدود سرکل کو دنیا سمجھنے کی ضد اب بھی برقرار ہے۔ اس لئے ان سے یہ امید رکھنا کہ وہ بلوغت کا مظاہرہ کرکے اپنے بندوق رکھیں گے اور پرتشدد سیاست ختم کرکے عوام کے ساتھ مل کر عوامی مفادات کے حصول کے لئے کردار ادا کریں گے لایعنی ہے۔ اُن کے یہاں دلیل لاپتہ ہے۔ اس گمشدہ دلیل کو منظر عام پر لانے کے لئے نوجوانوں کو مسلح تنظیموں کی وجہ سے پہنچنے والی نقصان کو بلوچ عوام کے سامنے بیان کرنا ہوگا۔ بلوچ عوام کے سامنے ان تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کا وقت یہی ہے۔ یہ چیلنج بلوچستان کی نئی نسل کو قبول کرنا ہے کہ وہ بلوچ عوام کو تباہی کے تسلسل اور تنگ نظر مسلح تحریکوں سے نجات دلانے کے لئے کردار ادا کریں۔ کیوں کہ جب تک مسلح تنظیمیں جزباتی نعروں کے ذریعے سادہ لوح نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کریں گے یا انہیں سہولت کاری پر آمادہ کریں گے تب تک بلوچستان میں صحیح معنوں میں امن قائم نہیں ہوسکتا، اور یہاں بدامنی کا نقصان سب سے زیادہ بلوچستان کے عوام کو ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں