او آئی سی کو اللہ نذر کا خط اور زمینی حقائق

عبداللہ جان

ڈاکٹر اللہ نذر کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ہیں۔ اس کی تنظیم بلوچستان کے کالعدم مسلح تنظیموں کے اتحاد براس کا اتحادی ہے۔ بی ایل ایف گزشتہ تقریبا بیس سالوں سے بلوچستان، خاص طور پر مکران اور رخشان میں شدت پسندانہ کاروائیوں میں ملوث ہے۔ اس تنظیم نے بلوچستان کے دیہاتی علاقوں، تُمپ، گومازی، دشت، مند اور آواران میں سینکڑوں بے گناہوں کا قتل کیا ہے۔ مولابخش دشتی سمیت کئی سیاسی لیڈران کے قتل میں بھی یہ تنظیم براہ راست ملوث ہے۔ لوگوں کے قتل اور ان کے چاردیواری کی تقدس کو مسلسل پامال کرنے کی وجہ سے سینکڑوں خاندان اپنی جانیں اور اپنی عزت بچانے کے لئے اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اب بھی تربت اور حب چوکی میں درجنوں ایسے خاندان موجود ہیں جو اسی تنظیم کے ہاتھوں قتل ہونے سے ڈرنے کی وجہ سے اپنے علاقوں میں نہیں جا سکتے۔ کئی مزدوروں کو اسی تنظیم کے کارندوں نے صرف بلوچ نہ ہونے کی بنیاد پر شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کیا۔ سوشل میڈیا میں درجنوں ایسے اپیل نامے موجود ہیں کہ بی ایل ایف کے ہاتھوں مارے جانے والے یا اغواء ہونے والے افراد کے متاثرہ خاندان انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جب ایک تنظیم اس حد تک وحشیانہ اور غیرانسانی سرگرمیوں میں ملوث ہو تو اس کے لیڈر کس منہ کے ساتھ عالمی کمیونٹی سے یہ مطالبہ کرسکتے ہیں کہ اس کی تنظیم کو عالمی کمیونٹی قبول کرے؟
ڈاکٹر اللہ نذر نے چند روز پہلے اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی کے نام ایک خط لکھا ہے جسے سوشل میڈیا میں پبلش کرایا گیا۔ اس خط کو پڑھ کر تعجب ہوتا ہے کہ ڈاکٹر اللہ نذر کس طرح ایک عالمی تنظیم سے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ اس کی تنظیم کو مبصر کی حیثیت سے قبول کیا جائے۔ ڈاکٹر اللہ نذر بھلے ہی خود کو متاثرہ فریق ثابت کرنے کے لئے پاکستانی حکومت پر الزامات عائد کرے۔ لیکن یہ الزامات قطعی اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے کہ خود ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم نے بلوچستان کے عوام پر جو مظالم کیے ہیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ ان مظالم پر ڈاکٹر کی غلط بیانیاں یا مقتولوں پر بے بنیاد الزامات پردہ نہیں ڈال سکتے۔
تمام بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کا وطیرہ ہے کہ وہ نسل کشی کی الزامات لگا کر ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے کو جواز فراہم کرتے ہیں۔ کوئی بھی ریاست ہو وہ اپنے خلاف بندوق اٹھانے والوں کے ساتھ سختی کرتی ہے۔ اگر کوئی گروہ مجوزہ طریقہ ہائے کار کے برعکس تشدد کے زور پر اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کرتا ہے تو ریاست بھی قانون کو برقرار رکھنے کے لئے تمام وسائل کا استعمال کرتی ہے۔ دنیا کی کوئی قانون مسلح لوگوں کے مارنے کو نسل کشی قرار نہیں دیتی اور نہ ہی یہ نسل کشی کے ضمرے میں آتے ہیں۔ البتہ ڈاکٹر کی تنظیم نے سندھی اور پنجابی ہونے کی بنیاد پر جس تعداد میں لوگوں کا قتل کیا ہے وہ نسل کشی کی تعریف کے مطابق نسل کشی کے ضمرے میں آتے ہیں۔ ایک ایسی تنظیم جو نسل کشی میں ملوث ہو، اپنے پرتشدد کاروائیوں کی مخالفت کرنے والے سیاسی لیڈران کی قتل میں ملوث ہو، بلوچستان سے درجنوں لوگوں کو لاپتہ کرنے اور حتیٰ کہ خواتین اور بچوں تک کے قتل میں ملوث ہو وہ کس طرح اپنے ان غیرانسانی اعمال کو چھپا سکتی ہے؟ لیکن ڈاکٹر اللہ نذر ان تمام واقعات کو پس پشت ڈال کر عالمی اداروں سے اپیل کررہے ہیں کہ اسے مبصر کے طور قبول کی جائے۔ یہ بات واضح ہے کہ او آئی سی ایک ایسی تنظیم کو اپنے فورم میں جگہ نہیں دے سکتی جو اپنے لوگوں کے قتل میں ملوث ہو۔
بلوچ علیحدگی پسند بلوچستان میں ناکامی کے بعد عالمی اداروں کی چھتری تلے پناہ ڈھونڈ رہے ہیں تاکہ کوئی بھی پلیٹ فارم میسر ہو اسے پروپگنڈہ کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ بلوچستان کے عوام کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ پروپگنڈے کی نہیں بلکہ ایسے عملی کارکردگی کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کی مشکلات کم ہوں اور انہیں یقین ہو کہ ان کا مستقبل محفوظ ہے۔ عام لوگوں کی ان دلچسپیوں کے برعکس علیحدگی پسند تنظیمیں لوگوں کے لئے مزید نقصان و پریشانیوں کا باعث بن رہے ہے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان پریشانیوں پر آواز اٹھائے تو اسے اگلے ہی لمحے واجب القتل قرار دیا جاتا ہے۔

اس بات کو سمجھنے کے لئے کسی مفروضے کی ضرورت نہیں کہ بلوچستان کیوں ترقی کے حوالے سے پاکستان کے باقی اکائیوں کی نسبت پیچھے ہے۔ اگر بلوچستان کے لیڈران بالغ نظری کا مظاہرہ کرکے پرتشدد ہونے کے بجائے پرامن ہوکر عوامی سیاست کرتے تو آج بلوچستان کی صورت حال مختلف ہوتی۔ لیکن انہوں نے لوگوں کو بندوق تھما کر پہاڑوں پر بھیجنے کے لئے اپنا سارا زور لگایا۔ جو ترقیاتی منصوبے بلوچستان میں شروع کیے گئے انہیں سبوتاژ کیا گیا۔ ان پرتشدد کاروائیوں کے دوران جو لوگ مارے جاتے ان کی قتل کو لیکر خود کو متاثرہ فریق ثابت کرنے کوشش کرتے۔ یہی رویہ ان لیڈران کا اب تک جاری ہے۔ جو لوگ ترقیاتی سرگرمیوں کے مخالف ہوں انہیں اس بات پر گلہ زیب نہیں دیتا کہ کیوں بلوچستان ترقی کے حوالے سے پیچھے ہے۔ اور نہ ہی ایسے لوگ اتنے قابل اعتبار ہیں کہ کوئی عالمی فورم ان کو اپنے اندر جگہ دے۔
ماضی میں اگرچہ پرتشدد سیاست کے حامی لوگ بلوچستان کے عوام کو کسی حد تک دھوکے میں رکھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ لیکن بلوچستان میں اب جو نئی نسل پروان چڑھ رہی ہے وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ بلوچستان کی موجودہ صورت حال کا زمہ دار وفاق سے زیادہ بلوچستان کی وہ قوتیں ہیں جنہوں نے عدم برداشت کو پروموٹ کیا، نسل پرستی کو پروان چڑھایا اور مسلح تحریکیں شروع کیں۔ نئی نسل ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم کو قریب سے دیکھ کر اس حقیقت سے بھی واقف ہے کہ ان مسلح تنظیموں کے قول اور فعل میں مکمل تضاد موجود ہے۔ اور یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ ان کی ہمدردی کے بیانات بلوچوں کی درد کا مداوا نہیں ہوسکتے جب تک کہ یہ تنظیمیں غیرمسلح ہوکر تشدد کا خاتمہ نہ کردیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں