بدامنی کا کاروبار

تحریر: نوتک دشتی

حیات بلوچ کی ہلاکت کے واقعے کے بعد بلوچستان کی تمام سیاسی پارٹیوں، طلباء گروہوں اور مختلف شخصیات نے اس واقعے کو اپنے اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ وہ گروپس جو عوام نے مسترد کیے ہوئے تھے وہ بھی اس واقعے کو لیکر شور مچانا شروع ہوگئے تاکہ مصنوعی طور پر خود کو زندہ کر سکیں۔ پارلیمانی پارٹیوں سے لیکر علیحدگی پسندوں تک، سب نے اس واقعے پر اپنی اپنی سیاست چمکانے کی خوب کوشش کی۔ جیسا کہ ماضی میں اس طرح کی واقعات پر شور مچانے کے بعد خاموشی اختیار کی گئی ہے، حسب روایت جیسے جیسے یہ واقعہ پرانا ہوتا جائے گا، شور مچانے والے بھی اس واقعے کو بھول کر اگلے کے انتظار میں بیٹھ جائیں گے کیوں کہ ان کا اکلوتا مقصد بلوچستان میں بدامنی پھیلانا اور اپنے ہی پھیلائے بدامنی پر شور مچانا ہے۔ یہ لوگ کبھی بھی ایسے واقعات کے خلاف شور نہیں مچاتے جو مسلح تنظیمیں بلوچستان میں کرتی ہیں۔ حیات بلوچ کی ہلاکت کے تین روز بعد پنجگور میں مسلح تنظیموں نے زاہد نام کی ایک شخص کو قتل کیا لیکن شور مچانے والے سارے کردار خاموش رہے۔

گزشتہ روز بلوچستان کے ایک کالعدم تنظیم کے کمانڈر اخترندیم نے ٹیوٹر پر حیات بلوچ کے واقعے کو لیکر ایک بیان جاری کیا۔ اس بیان میں موصوف نے کہا کہ بلوچ نوجوان اپنے قلم کو ہتھیار بنا کر ریاست کے خلاف کھڑے ہوں۔
بلوچستان کے لوگوں کی یاداشت اتنا بھی کمزور نہیں کہ وہ اخترندیم کے تنظیم کی بلوچ دشمنیوں کو بھول جائیں۔ اس تنظیم نے اخترندیم کے اپنے آبائی علاقے آواران میں کم از کم تین سو سے بھی زیادہ لوگ قتل کیے۔ یہ تمام مقتول بلوچ تھے، ان علاقوں میں جس تعداد میں غیربلوچ ان تنظیموں نے قتل کیے، وہ تعداد اس کے علاوہ ہے۔ بلوچستان کے لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اخترندیم جیسے لوگوں کو بلوچوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد بلوچوں کے خون کو اپنے مزموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا ہے۔
کیا اس بات میں کوئی دو رائے موجود ہے کہ حیات بلوچ کی ہلاکت کے واقعے کا بنیادی سبب بلوچستان کے وہ حالات ہیں جو شدت پسندوں نے یہاں پیدا کیے ہیں؟ اگر بلوچستان میں بدامنی کی کوئی تحریک نہیں ہوتی تو نہ حیات بلوچ مارے جاتے اور نہ ہی وہ سینکڑوں لوگ قتل ہوتے جو اس انسرجنسی کی وجہ سے قتل ہوئے ہیں۔ اخترندیم خود بلوچستان سے دور ہے، اسے شاید یہ علم نہ ہو کہ بلوچستان کے لوگ کیا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام اتنے سادہ نہیں کہ اخترندیم کی باتیں انہیں گمراہ کرسکیں۔ بلوچستان کے ہرعام و خاص کو علم ہے کہ یہاں کی موجودہ حالات کا زمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ شدت پسند ہیں۔
بدامنی کو اپنے زاتی مفادات کے لئے استعمال کرنے والے یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ امن پسند اور بلوچوں کے خیرخواہ ہیں۔ لیکن ان کے “ایک قتل پر واویلا اور ایک قتل پر خاموشی” کی پالیسی بلوچ عوام کے سامنے ان کی اصلیت واضح کرچکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں