بلوچستان کے طلباء

گواچن اداریہ
بلوچستان کو ماضی اور حال کی مسلح انسرجنسیوں نے اس نہج تک پہنچایا ہے کہ یہاں کے تمام سماجی ڈھانچے یا تو مکمل طور پر مفلوج ہو چکے ہیں یا پھر انتہائی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ بدامنی کی وجہ سے لوگوں کا کاروبار، تعلیم اور دیگر سیاسی و سماجی سرگرمیاں گھٹ کر ختم ہوگئی ہیں۔ لاقانونیت اور قتل عام کے سلسلے نے بلوچستان میں خوف کا جو ماحول پیدا کیا تھا اس کی وجہ سے لاکھوں نہیں تو ہزاروں لوگ اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر دوسرے شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ ان لوگوں کو دوسرے شہروں میں زندگی نئے سرے سے شروع کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے جو وقت اور سرمایہ ضائع ہوتا ہے اس کا منفی اثر تمام لوگوں پر پڑتا ہے۔ اس انسر جنسی کی وجہ سے جہاں تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں وہاں تعلیم کا شعبہ کئی حوالوں سے براہ راست منفی طور پر متاثر ہوا ہے۔ بلوچستان کو سب سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے تقریباََ تمام شہروں میں ہر شعبے کو تعلیم یافتہ ٹیکنیکل افراد کی ضرورت ہے جسے بلوچستان کے نوجوان پورا نہیں کرپا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کمی ہے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں کے نام نہاد سیاسی پارٹیاں نوجوانوں کو اپنے اپنے پروپگنڈہ مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں جس سے نوجوانوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ بلوچستان میں سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں جو طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ طلبا کا ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک ایسی سوچ کو دانستہ پروان چڑھایا جا رہا ہے کہ وہاں جانے والے نوجوان اپنی اصل مقصد کو فراموش کرکے دوسری سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ طلباء کے کاندھوں پر چڑھ کر کئی بونے لوگ نامدار بن گئے ہیں اور وہ اب یہ چاہتے ہیں کہ بلوچ طلباء انہی کے ماتحت رہیں۔ بلوچستان کی جتنی بھی پارٹیاں ہیں، اُن تمام کی یہ کوشش ہے کہ طلباء ان کے ماتحت رہیں تاکہ بہ وقت ضرورت انہیں اپنے گروہی مفادات کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ اب جب بولان میڈیکل کالج کے طلباء اپنے مطالبات کے لئے احتجاج کررہے ہیں تو کئی غیر متعلقہ لوگ بھی طلباء کے حق میں بیان بازی کررہے ہیں تاکہ خود کو ہمدرد ظاہر کیا جا سکے۔ مقامی سیاسی نمائندوں کے علاوہ ڈاکٹر اللہ نزر نے بھی بی ایم سی طلباء کی احتجاج پر بیان جاری کیا ہے، اس بیان کا لب لباب یہ ہے کہ نوجوان پڑھنے کے بجائے اپنی توانائیاں دوسری جگہوں پر خرچ کریں۔
بلوچستان کو تعلیم یافتہ مخلص لوگوں کی ضرورت ہے۔ پسماندہ اور غربت کے مارے سماج کو بہتر بنانے کے لئے جدید تعلیم سے آراستہ ہونا اور اس علم کو صحیح معنوں میں عوام کے لئے استعمال کرنا اصل قومی خدمت ہے۔ جو کوئی نوجوانوں کو یہ کہہ کر تعلیم سے دور کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ یہاں تعلیم یافتہ نوجوانوں کا کوئی مستقبل نہیں وہ لوگوں کا خیرخواہ نہیں ہوسکتا۔ بلوچستان میں جتنے بھی طلباء تنظیمیں ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ایسے لوگوں یا تنظیموں سے خود کو دور رکھیں جو ہمدردی کا اظہار کرکے تعلیم یافتہ نوجوان نسل کو ایک بے نتیجہ انسرجنسی کے اندر جھونکنے کے راستے ڈھونڈ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں