ڈاکٹر اللہ نزر کی مسلح تنظیموں کو اتحاد کی دعوت مایوسی یا کچھ اور


تحریر/عبداللہ جان

ڈاکٹر اللہ نذر نے چند روز پہلے ٹیوٹر کے ذریعے اپنے ہمنواؤں کو اتحاد کی دعوت دی ہے۔ اتحاد کا یہ دعوت نامہ در اصل ڈاکٹر اللہ نزر کی اس مایوسی کا اظہار ہے جو بلوچستان کے عوام کی جانب سے مسلح گروہوں کو مسترد کرنے کے بعد تمام مسلح تنظیموں کو اپنی حصار میں لے چکی ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچستان کے علیحدگی پسندوں میں دراڑ پیدا کرنے کے لئے مشہور رہے ہیں۔ براہمدغ بگٹی ہو یا حیربیار مری، یہ تمام اور ان کے پیروکار ڈاکٹر اللہ نذر کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتے رہے ہیں۔ چند سالوں پہلے تک ڈاکٹر اور اس کی تنظیم نے حیربیار اور براہمداغ بگٹی کا نام لیکر ان پر مختلف طرح کے الزامات لگائے تھے۔ ڈاکٹر اللہ نزر نے حیربیار مری اور اسلم اچھو کو اپنے ممبران کی اغواء اور قتل کا بھی الزام لگایا اور جواب میں اُن تنظیموں نے ڈاکٹر کو بلوچستان میں منشیات فروشوں اور کرائے کے قاتلوں کو سرغنہ تک کہہ دیا۔ جب ڈاکٹر اللہ نذر اس حد تک اپنے ہی “آزادی پسندوں” کے مخالف تھے اور وہ بھی ڈاکٹر کی اسی طرح مخالفت کرتے تھے تو اب کیوں کر ڈاکٹر اللہ نزر لوگوں کو اتحاد کی دعوت دے رہے ہیں۔ اس کے وجوہات اصل میں بلوچستان کے عوام اور خصوصاََ نوجوانوں کی مسلح تنظیموں سے بیزاری ہے، اس کے علاوہ بھی بہت سے وجوہات ہیں جو ڈاکٹر اللہ نزر کی مایوسی کا سبب بن رہے ہیں۔
جب بلوچستان میں مسلح شدت پسندی شروع کی گئی تو بلوچستان میں موجود احساس محرومی اور عدم ترقی کا مسلح شدت پسندوں اور ان کے حامیوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ بلوچستان بھر میں شدت پسندوں نے ریلی مظاہروں اور نفرت آمیز لٹریچر کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کی۔ گو کہ وقتی طور پر انہیں فائدہ ہوا اور بہت سارے نوجوان شدت پسندی کی طرف مائل بھی ہوگئے لیکن یہ لہر وقتی تھا۔ وہ لوگ جنہوں نے اُس پروپگنڈہ اور لٹریچر سے متاثر ہوکر شدت پسندی میں شمولیت اختیار کی تھی وہ ایک ایک کرکے واپس آگئے۔ حالیہ چند سالوں سے ان تنظیموں کی چوٹی کے کمانڈروں سمیت سینکڑوں ممبران نے شدت پسندی ترک کرکے پرامن زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ان تنظیموں کی حمایت میں چند سالوں سے نہ کوئی حمایتی ریلی نکالی گئی ہے اور نہ ہی بلوچستان کے عوام اب ان کے لئے حمایت کا کوئی گوشہ رکھتے ہیں۔ یہ تمام محرکات ڈاکٹر اللہ نزر کی مایوسی کے اسباب ہیں۔ اس مایوسی کو ختم کرنے کے لئے وہ تمام گروہوں کو متحد ہونے پر زور دے رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ان تنظیموں کے اتحاد کی صورت میں بلوچستان کے عوام ان تنظیموں کی حمایت کریں گے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ شدت پسندی کے منفی اثرات اور ان شدت پسندوں کی وجہ سے اپنی کاروبار، ترقی کے ذرائع اور تعلیم کی تباہی کو دیکھ کر بلوچستان کے لوگ مسلح لوگوں کو قبول کرنے کی کوئی غلطی نہیں کریں گے۔ ڈاکٹر اللہ نزر ہوں یا مسلح تنظیموں کے دوسرے لیڈران ہوں، انہیں جلد یا بدیر حقیقت کا تلخ گھونٹ پینا پڑے گا۔ انہیں یہ بات تسلیم کرنا پڑے گا کہ شدت پسندی کے ذریعے بلوچستان کی سیاسی آواز کو جس طرح انہوں نے یرغمال بنایا وہ بلوچستان کے عوام کی زندگیوں، ان کے کاروبار، تعلیم اور ترقی کے ذرائع پر ایک کاری ضرب تھی جس نے بلوچستان کے لوگوں کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا۔ جب تک شدت پسندی کی پرچار کرنے والے شدت پسندی ترک نہیں کریں گے اور عوام سے معافی نہیں مانگیں گے، لوگ انہیں دوبارہ کبھی قبول نہیں کریں گے۔ بلوچستان کے عوام اپنی مستقبل کو ایسے تنگ نظر لوگوں کے حوالے کبھی نہیں کریں گے جن کی شہرت آزادی کے نام پر اپنے ہی لوگوں کو قتل کرنے اور اغواء کرنے کی وجہ سے ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں