خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال اور بلوچستان کا مستقبل

تحریر/ دلجان ہوت

موجودہ دور میں جنگیں روایتی طریقوں سے نہیں بلکہ غیرروایتی طریقوں سے لڑی جاتی ہیں۔ آج کے دور میں اپنے حریفوں کو کمزور کرنے کے لئے شاز و نادر ہی کوئی ریاست کسی دوسری ریاست پر براہ راست حملہ آور ہوجاتا ہے۔ مخالف ریاستیں پراکسی گروہوں، انٹرنیشنل این جی اوز اور پراپگنڈہ ذرائع کا استعمال کرکے اپنے مخالفین کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ انسانی حقوق، کرپشن کی روک تھام اور دیگر مقاصد کے لئے بننے والے عالمی فورمز بھی موجودہ زمانے کی جنگوں میں بطور محاز استعمال ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی عام لوگوں تک رسائی کو مخالفین اپنے پروپگنڈے کے لئے استعمال کرتے ہیں جس کا اثر لامحالہ طور پر عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ جنگوں کے اس نئے دور کو بیان کرنے لئے تجزیہ کارففتھ جنریشن وارفئیر کا اصطلاح استعمال کرتے ہیں جو کہ اس نئی اپروچ کی مکمل وضاحت کرتا ہے۔

بدقسمتی سے بلوچستان ففتھ جنریشن وار سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔ عالمی طاقتوں کی رسہ کشی اور آپسی چپقلشوں کا شکار تزویراتی اہمیت کے علاقے اور وہاں کے لوگ ہوتے ہیں۔ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے دنیا کی تقریباََ تمام طاقتوں کے لئے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن چائنا کو، ایک معاشی قوت ہونے کی وجہ سے، پاکستان کی ضرورت زیادہ ہے۔ چائنا کی ون بلٹ ون روڈ پالیسی کا سب سے اہم لنک پاکستان سے ہوکر گزرتا ہے جو کہ چائنا کو اپنے پروڈکٹ دوسرے ملکوں تک منتقل کرنے لئے مختصر راستہ فراہم کرتا ہے۔ یہ مختصر ترین راستہ گوادر سے شروع ہو کر سنکیانگ تک جاتا ہے۔ اس منصوبے میں کہیں بھی کوئی ایسی خامی نہیں جس کی مخالفت کی جا سکے۔ کیونکہ لوگوں کی ترقی اور ان کی زندگیوں میں بہتری کا دار ومدار تجارت پر ہے۔ جب چائنا جیسا معاشی طاقت براہ راست اپنے تجارتی تعلقات کسی ملک یا علاقے سے قائم کرے تو اس منصوبے کی مخالفت ناعاقبت اندیش لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت گزشتہ کئی سالوں سے کی جارہی ہے جس کے تانے بانے اسی عالمی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جو کہ پاکستان کو کمزور رکھنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ بلوچستان کو پسماندہ رکھ کر اسی پسماندگی کو بطور جواز پیش کرکے یہاں شدت پسندی کو ہوا دی جارہی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے اکیسویں صدی اُسی کا ہے جو بحر ہند پر حکمران ہو۔ بحر ہند میں گوادر کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔ اسی اہمیت کی وجہ سے سی پیک اور خصوصاََ گوادر پر عالمی طاقتوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں تاکہ کسی نہ کسی طریقے سے ان منصوبوں کو سبوتاژ کیا جاسکے۔ حال ہی میں EU Disinfo Lab کی رپورٹ کے مطابق انڈیا گزشتہ کئی سالوں سے منظم طریقے سے پاکستان اور یہاں چلنے والی ترقیاتی منصوبوں کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ بلوچستان میں شدت پسند گروہوں کو مالی معاونت فراہم کرکے ترقیاتی سرگرمیوں پر حملے کروانے کے ثبوت بھی ہر خاص و عام کو حکومت کی طرف سے میڈیا کے ذریعے فراہم کیے گئے ہیں۔ انڈیا اور امریکہ کی چائنا دشمنی انہیں مجبور کررہی ہے کہ وہ ون بلٹ ون روڈ جیسے عالمی معاشی منصوبوں کی مخالفت کریں جو کہ وہ علئ الاعلان کررہے ہیں۔

اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بلوچستان ہے تو بلوچستان کے لوگ اس صورت حال میں اپنی زمہ داریاں کیسے نبھا سکتے ہیں؟ بدقسمتی سے بلوچستان کو ففتھ جنریشن وارفئیر اور پروپگنڈے نے منتشر کررکھا ہے۔ اس پروپگنڈے کا مقصد ہی مایوسی اور انتشار پھیلانا ہے جو کہ کسی حد تک اس مقصد کو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی لیڈروں کی ناعاقبت اندیشی، دانشوروں کی تنگ نظری اور طلباء تنظیموں کی نابالغ سیاسی نعروں نے اس نہج تک پہنچایا ہے کہ وہ عالمی معاشی منصوبوں میں اپنے فائدے کی چیزیں دیکھنے اور انہیں قبول کرنے میں ناکام ہیں۔ جو پروپگنڈہ مذکورہ عالمی معاشی منصوبے کے خلاف چائنا کے مخالف ملکوں کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہے اسی پروپگنڈے سے متاثر ہو کر بلوچستان کے چند دانشور اور چندتنظیمیں اس منصوبے کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان کا دانشور اور لکھاری طبقہ بلوچستان میں پھیلائی گئی منفی پروپگنڈہ کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے اپنا زور قلم آزمائیں۔ عالمی طاقتوں کی رسہ کشیوں اور بلوچستان میں شدت پسندی پھیلانے والی مقامی اور بیرونی قوتوں کو بے نقاب کرنے کے لئے کردار ادا کریں۔ بلوچستان کے عوام کے لئے یہ ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ اگر مفاد پرست اور تنگ نظر لیڈروں کی بہکاوے میں آکر سنجیدہ بلوچ طبقہ بھی ترقیاتی منصوبوں میں شامل ہونے کے فوائد سے بیگانہ رہا تو یہ ایک تاریخی غلطی ہوگی جس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں