مچھ واقعہ اور پروپگنڈہ

تحریر/ رحمین مینگل

انسان کا ذہن جب نفرت سے بھرا ہوا ہو اور اس کا مقصد جب اس نفرت کو پھیلانا ہو تو اُس میں انسانیت کی رمق باقی نہیں رہتی۔ وہ متنفر خیالات سوچنے لگتا ہے اور اپنے ہی خیال کو ناقابل تردید سچائی مان کر اپنے دل میں موجود نفرت کو قابل جواز ٹہراتا ہے۔ حقیقت میں جب نفرت کے لئے جواز گھڑنے کی کوشش شروع کی جائے تو یہ ایک خونی سلسلہ شروع بن جاتا ہے جو لوگوں کو پرامن ماحول فراہم کرنے کے خلاف ایک پہاڑ بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کے لوگوں نے اپنے دل میں موجود نفرت کو پہاڑ بنا لیا ہے، ہر کوئی حسب طاقت اس نفرت کو پھیلانے میں مشغول و مصروف ہے۔

دو روز قبل بلوچستان کے علاقے مچ کی ایک کوئلہ کان میں مزدوری کے لئے جانے والے گیارہ معصوم انسانوں کو نامعلوم حیوانوں نے شہید کردیا۔ یہ واقعہ دل دہلا دینے والا تھا۔ درد دل رکھنے والوں کو اس طرح کی واقعات کی مذمت کے لئے الفاظ بھی نہیں ملتے کیوں کہ مذمتی الفاظ ایسے مواقع پر اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ لیکن وہ کونسی نفرت ہے جو اس طرح کے واقعات پر بھی پروپگنڈہ کے لیے لوگوں کو اُکساتا ہے؟ اس واقع کے بعد سوشل میڈیا پر انسانی حقوق و برابری کے نام پر سرگرم لوگوں نے جو طوفان برپا کیا تھا اسے دیکھنے کے بعد اس بات پر یقین اور پختہ ہو جاتا ہے کہ انسانی حقوق کا نام لینے والے ہی در اصل انسان کی تذلیل اور اموات پر خوش ہوجاتے ہیں کیوں کہ اسی طرح کے واقعات سے ہی یہ لوگ خود کو زندہ کیے ہوئے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارا خطہ گزشتہ کئی سالوں سے مختلف اقسام کی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ فرقہ واریت، شدت پسندانہ قوم پرستی، صوبائیت اور لسانیت سمیت درجنوں ایسے بے سر و پا نعروں نے معاشرے میں تقسیم کو اس قدر گہرا کیا ہے اب علم و دانش کے دعوے دار بھی اس تقسیم کر شکار ہو چکے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ برحق ہے کہ حکومتِ وقت لوگوں کی جان و مال کی تحفظ کا زمہ دار ہے، لیکن ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم ایک مثالی معاشرے میں نہیں رہ رہے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں دہائیوں سے تقسیم چلا آرہا ہو وہاں بدقسمت واقعات کا ہونا افسوسناک ضرور ہے لیکن انہونی نہیں۔ ایسے واقعات کو بنیاد بنا کر تقسیم پھیلانے والے کسی کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ ابھی چند سالوں پہلے تک پاکستان کا کوئی شہر دہشتگردی سے محفوظ نہیں تھا لیکن اب اس حقیقت کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ دہشتگردی قابل زکر حد تک قابو میں لائی جا چکی ہے۔ معاشرے میں موجود ناسور کو صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے جڑ سے اکھاڑ نہیں سکتے جب تک کہ معاشرہ یک آواز نہ ہو۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم سخت حالات میں اتحاد کے بجائے نفرت اور تقسیم کو ہوا دیتے ہیں۔

ہمیں اگر اب بھی یہ احساس نہیں کہ ایسے واقعات کا ردعمل تقسیم پھیلانے کے بجائے یگانگت سے دیا جانا چاہئے، اگر اب بھی یہ حقیقت ہمارے پلے نہیں پڑتی کہ ہمارے کردار اور ہماری اقوال کا منطقی نتیجہ معاشرے میں تقسیم کی صورت میں واضح ہے تو ہماری قسمت میں شاید اسی طرح مرنا اور لاشیں اٹھانا لکھا ہوا ہے۔
جو عالم اور دانشور ہیں، انہیں یہ موٹی حقیقت سمجھنا چاہئے کہ ایسے واقعات ہوتے ہی معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کے لئے ہیں۔ اگر دانشور بھی نفرت پھیلانے والوں کے ساتھ مل کر پروپگنڈہ کا حصہ بن جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے وہ مزید ایسے واقعات کے لئے راہ ہموار کررہے ہیں۔ اس طرح کے افسوسناک اور تکلیف دہ واقعات ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام تر سیاسی، قومی اور علاقائی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایسے موقعوں پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے۔ یہ حالات پروپگنڈہ اور نفرت پھیلانے کے نہیں بلکہ بھائی چارگی اور ہم آہنگی کے پھیلانے کا تقاضا کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں