بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ اور علیحدگی کی تحریکیں

تحریر: دلجان ہوت

‎بدلتے ٍہوئے عالمی حالات نے دنیا کی سیاست کو یکسر بدل دیا ہے۔ نہ صرف ترقی یافتہ ٹیکنالوجی نے لوگوں کے سوچنے کا انداز بدل دیا ہے بلکہ گلوبل ویلیج کی شکل اختیار کرتی دنیا کے خطرات بھی اب مشترک ہیں۔ کوئی ریاست دنیا کے کسی بھی کونے میں رونما ہونے والے واقعات کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ حالیہ عالمی وبا نے اس مفروضے پر مہرتصدیق ثبت کردی ہے کہ آج کے دنیا میں دنیا کے ممالک باہمی تعاون سے ہی مشکلات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ آج کی دنیا کو روایتی جنگوں اور ہتھیاروں سے زیادہ غیرروایتی جنگوں اور قدرتی آفات کی وجہ سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ عالمی وبا، ماحولیاتی تبدیلی اور بیماریاں ایسے خطرات ہیں کہ یہ کسی مخصوص علاقہ یا براعظم کو نہیں بلکہ تمام انسانیت کو یکساں طور پرمتاثر کرتے ہیں۔ اسی طرح جنگوں کے غیرروایتی طریقوں کے اثرات اگرچہ پوری دنیا کو براہ راست اپنی لپیٹ میں نہیں لیتے لیکن بلاواسطہ طورپرایک خطے میں بدامنی باقی خطوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ ان خطرات  کا ادراک رکھتے ہوئے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ انسانوں کو ان خطرات سے بچانے کے لئے دنیا کو مزید تقسیم سے بچا کر آپسی رابطوں میں مضبوطی پیدا کی جائے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ دنیا کو اب تک ایسے مثالی لیڈران میسر نہیں ہیں جو دنیا بھر میں رابطوں اور آپسی ہمکاری کو فروغ دیں، لیکن عالمی اداروں کی پالیسیوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ اوردوسرے عالمی ادارے دنیا میں مزید ریاستوں کی وجود کے حق میں نہیں ہیں۔ موجودہ دور میں دنیا میں جتنی بھی ریاستیں ہیں، اُن کی داخلی خودمختاری کو چھوٹی قوموں کی حق خود ارادیت اورعلیحدگی پر فوقیت دیتے ہوئے عالمی طاقتیں علیحدگی کے نعروں کی حمایت نہیں کرتے، البتہ غیرروایتی جنگوں کا سہارا لینے والی قوتیں دوسری ریاستوں کو کمزور کرنے کے لئے علیحدگی کی تحریکوں کی حمایت اور انہیں مدد فراہم کرتے ہیں، اس مدد کو عالمی حمایت نہیں بلکہ ففتھ جنریشن وار کا حصہ کہا جا سکتا ہے۔
‎دنیا میں ایک درجن سے زائد علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ مڈل ایسٹ، سنٹرل ایشیا، چائنا، انڈیا، پاکستان، کینیڈا یہاں تک امریکہ میں بھی ایسے گروپس موجود ہیں جو اپنی ریاستوں سے علیحدگی کے خواہاں ہیں۔ ان تمام تحریکوں میں فلسطین اور کشمیری علیحدگی کی تحریک کے علاوہ کسی دوسری تحریک کو عالمی اداروں نے کبھی سپورٹ نہیں کیا ہے۔ بلکہ آج کے گلوبلائزیشن کے دور میں دنیا علیحدگی کی بات کو نہ صرف سنجیدگی سے نہیں لیتی بلکہ اسے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ چند سالوں قبل جب عراق میں کردوں نے علیحدگی کی حق میں ریفرنڈم کی تو اس ریفرنڈم میں بھاری کامیابی کے باوجود دنیا نے عراق جسے جنگ زدہ اورکمزور ریاست کی تقسیم کی مخالفت کی اور کردوں کو علیحدہ ریاست کی تشکیل سے روکا۔ اسی طرح سپین کے کاٹالونیا خطے کے علیحدگی پسند بھی دنیا کی مخالفت کے بعد خاموش ہوگئے۔ دنیا نئی ریاستوں کی تشکیل کی اس حد تک مخالف ہے کہ اقوام متحدہ کی کشمیراور فلسطین کے لئے پاس ہونے والی قراردادوں کے بعد بھی یہ تنازعہ حل نہیں کرپا رہی ہے، کیونکہ ان دونوں تنازعات کا حل متعلقہ ریاستوں کی سرحدوں میں رد و بدل اور نئی ریاستیں تشکیل دینے کے علاوہ ممکن نہیں اور آج کی دنیا اس بات پر رضامند نہیں کہ دنیا میں نئی ریاستوں کی تشکیل کو قبول کرے۔
‎دنیا میں جہاں جہاں بھی پراکسی گروہوں کے علاوہ حقیقی تحاریک چل رہے تھے، انہوں نے موجودہ دور کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے علیحدگی کے نعروں کو ترک کردیا اور آج اپنی ریاستوں میں امن کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ دو  دہائیوں قبل کوئی اس بات کا تصور نہیں کرسکتا تھا کہ آئی آر اے (آئریش ریولوشنری آرمی) اپنے ہتھیار پھینک کر اور علیحدگی کے نعرے کو ترک کر کے برطانوی یونین کے ساتھ رہنے پر آمادہ ہوجائے گا، لیکن ان کی لیڈرشپ نے حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ہتھیار پھینکنے کا اعلان کیا۔ اسی طرح سری لنکا، کولمبیا اوردوسرے علاقوں میں جاری علیحدگی کی تحاریک اکیسیویں صدی کے بدلتے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ختم ہوگئے۔
‎بلوچستان میں جاری علیحدگی کی تحریک نہ کبھی اس سطح تک پہنچ گیا ہے کہ اسے عوامی تحریک تسلیم کیا جائے اور نہ ہی اس تحریک نے عالمی سطح پر پزیرائی اختیار کی ہے۔ ففتھ جنریشن وار کے تحت بہت سے غیرملکی این جی اوز سالوں سے کوشش کررہے ہیں کہ اس تحریک کو عالمی سطح متعارف کیا جائے لیکن انہیں یہ کامیابی کبھی نہیں ملی ہے۔ گزشتہ سال امریکہ نے مسلح بی ایل اے کو دہشتگرد قرار دے کر گویا اس بات کی تصدیق کردی کہ عالمی سطح پر اب علیحدگی پسندی کے لئے کوئی گنجائش موجود نہیں، اسی طرح چند دنوں قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اولکان بوزکیر نے بولان میں بی ایل اے کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے تشدد کو ناقابل قبول قرار دیا تھا۔
‎جب دنیا کسی بھی حوالے سے اس حق میں نہیں کہ علیحدگی کی تحریکوں کی مدد کیا جائے۔ جب دنیا بھر میں منظم اور عوامی حمایت سے چلنے والی تحریکیں بھی اس امر پر قائل ہوگئی ہیں کہ موجودہ دنیا میں تشدد کے لئے کوئی گنجائش موجود نہیں، تو یہ بات سوچنے کی ہے کہ بلوچوں کی علیحدگی پسند لیڈر شپ ایک غیر حقیقی اور ناقابل حصول مقصد کے لئے بلوچوں کی زندگیوں اور ان کی سیاست و معیشت کو دعوے پر لگا کر کسی کو نقصان اور کس کو فائدہ پہنچا رہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں