تشدد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ!

گواچن اداریہ

غداری اور مخبری کے نام پر بلوچ عوام کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔ بلوچستان میں متحرک کالعدم تنظیمیں بزرگ و باعزت شہریوں کو آئے روز مختلف الزامات لگا کر قتل کررہےہیں۔ قوم فروشی و قوم دوستی کی اپنے حساب سے تعریف کرکے وہ ہر اُس بلوچ کوقتل کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں جو تشدد کی حمایت نہیں کرتا۔ یہ اختیار ہر فرد کو حاصل ہے کہ وہ اپنے رائے رکھے، لیکن بلوچستان میں کالعدم تنظیمیں ہر اُس آواز کو قتل کرنے پر تیار ہیں جو تشدد کو خود پر اور لوگوں پر ظلم سمجھتا ہے۔ ایسا سمجھنے والے صرف چند لوگ نہیں جو مسلح تنظیموں کی خوف سے خاموش ہوجائیں۔ سارا بلوچستان تشدد کے خلاف اور پرامن ماحول کا خواہاں ہے، یہ بات یقینی ہے کہ مسلح تنظیمیں اپنی رائے کو زبردستی عوام پر نہیں تھونپ سکتے۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بلوچستان میں عام لوگ مسلح تنظیموں سے تنگ آ چکے ہیں۔ عام لوگوں کو بخوبی یہ احساس ہوچکا ہے کہ جب تک بلوچستان میں شدت میں پسندی موجود رہے گی، تب تک ترقی اور خوشحالی محض ایک خواب ہے۔ اگر ان مسلح تنظیموں کا مقصدلوگوں کی خوشحالی اور تعمیر و ترقی ہوتی تو وہ کب کا بلوچ عوام کی خواہشات کو احترام کرکے تشدد کی سیاست ترک کرچکے ہوتے، لیکن اُن کا مقصد بلوچستان میں بدامنی پھیلانا ہے، انہیں عوام کی تکالیف کا کوئی پرواہ نہیں، اسی لئے وہ تشدد اور نہتے لوگوں کو قتل کرنے کا سلسلہ بدستور برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں لیڈر شپ کا وہ فقدان موجود ہے کہ چند لوگوں نے بندوق کا سہارا لیکرعوام کی آواز کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ہوں یا دوسری سیاسی جماعتیں، ان سب کی پالیسیاں تشدد کی حمایت کے گرد گھومتی ہیں۔ اگر بلوچستان میں شدت پسند تنظمیں کسی شہری کو قتل کریں یا اغواء کریں تو یہ لوگ بالکل خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ گزشتہ روز تربت سنگانی سر میں ایک کالعدم تنظیم نے دو عام شہریوں پر فائر کھول کر انہیں زخمی کردیا لیکن کسی تنظیم نے یہ زحمت نہیں کی کہ عام لوگوں پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت پر دو بول بول دے، حالانکہ مسلح تنظیم نے علی الاعلان یہ بات قبول کی تھی کہ تربت میں فائرنگ سے زخمی ہونے والا شخص ایک نہتا شہری تھا۔ بلوچستان میں سرگرم تنظیموں کی منافقت کا یہ چہرا ہر واقعہ بے نقاب کرتا ہے، نہتے لوگوں کی تنظیموں کے ہاتھوں موت پر یہ خاموش ہیں لیکن اگر کوئی بندوق بردار مارا جائے تو یہ تمام گروہیں ریاستی اداروں کے خلاف زمین آسمان ایک کردیتے ہیں۔ گویا ان کی تحریک کا مقصد بلوچستان کی خوشحالی نہیں بلکہ ریاست کے خلاف پروپگنڈہ کرنا ہے۔ اسی طرح اگر گزشتہ روز تربت میں ہونے والے واقعے کی زمہ داری مسلح تنظیمیں قبول نہ کرتے تو اب تک نام نہاد انسانی حقوق کی تنظمیں اس واقعے کو لیکر نفرت و تشدد پھیلانے کی بھرپور کوششیں کررہے ہوتے۔ یہ گروہ تشدد کی حمایت اس لئے نہیں کرتے کہ تشدد کی سیاست بلوچستان کے لئے فائدہ مند ہے بلکہ اس لئے یہ لوگ تشدد پھیلانے والوں کی حمایت کرتے ہیں کہ ان کے گروہی مفادات بلوچستان کی بدامنی سے وابسطہ ہیں۔ ان کی سیاست کومحورہی یہی ہے کہ کس طرح بلوچستان کے لوگوں کو بہکا کرریاست کے خلاف تشدد پر آمادہ کیا جا سکے۔ حقیقت میں ان کی تمام کوششیں رائیگاں جارہی ہیں کیوں کہ عام لوگ اس بات پر کوئی دورائے نہیں رکھتے کہ بدامنی بلوچستان کے تمام مسائل کا جڑ ہے۔ لیکن معتدل توانا آواز کی عدم موجودگی سے یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ بلوچستان میں شدت پسندی کے لئے حمایت موجود ہے، جو کہ سراسر جعلی تاثر ہے جسے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں سنجیدہ لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ وہ لوگ جو پسماندہ و بدحال لوگوں کی مشکلات کا احساس رکھتے ہیں یہ اُن کی قومی، اخلاقی اور مذہبی زمہ داری ہے کہ وہ آگے آ کر بلوچستان کے نوجوانوں اور عوام کو ایک پلیٹ فارم فراہم کریں۔ ایک ایسا پلیٹ فارم جہاں تشدد اور نفرت کی سیاست کے بجائے امن اور یکجہتی کا درس دیا جائے اور لوگوں کے بنیادی مسائل کے حل کی کوششیں کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں