سوشل میڈیا تک محدود تحریک

تحریر: دلجان ہوت
خوش فہمیوں کا سلسلہ اتنا دراز ہے کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کے لیڈر شپ ٹیوٹر اور فیس بُک میں ہوائی باتیں پوسٹ کرکے خود کو بلوچستان کے سیاہ و سفید کا مالک تصور کرتے ہیں۔ اپنے ڈیڑھ انچ کی مسجدوں تک محدود ان لوگوں کو یا تو بلوچستان کی معروضی حالات کا علم نہیں کہ بلوچستان کے عوام کب کا ان شدت پسندوں اور ان کے حامیوں سے لاتعلق ہوچکی ہے یا پھر سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ حقیقت کا تلخ گھونٹ پینے سے قاصر ہیں۔ تیزی سے بدلتی ہوئی اس دنیا میں کوئی شخص اتنا بے وقوف نہیں ہوسکتا کہ وہ ایک ایسے مقصد کے پیچھے اپنی زندگی ضائع کرے جہاں منزل کا کچھ پتہ نہیں البتہ موت و تباہی یقینی ہو۔ البتہ سماجی برائیوں میں ملوث چند لوگ، انا پرست لیڈران اور دوسروں کی ایماء پر چلنے والے چند لوگ، جنہیں نہ اپنی زندگیوں کی پرواہ ہے اور نہ دوسرے لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں، وہ ایسی بے منزل و تاریک راہوں کے مسافر بن جاتے ہیں۔ لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ عوام کی طرف سے مسترد شدہ یہ چند لوگ خود کو بلوچ عوام کا نمائندہ کہنے پر بضد ہیں، حالانکہ بلوچستان کے لوگ ان مسلح تنظیموں سے تنگ آچکے ہیں۔ عوام اپنی بے زاری کا اظہار نہ صرف نجی محفلوں میں کرتے ہیں بلکہ وقتاََ فوقتاََ عوامی ہجوم احتجاج کی شکل میں ان مسلح تنظیموں سے اپنی بے زاری کا اظہار کرتے ہیں۔

لیکن آزادی کے نام پر جاری اس بے منزل و بے مقصد انتشار، جسے کسی بھی زاویے سےتحریک نہیں کہا جا سکتا، کے لیڈران سوشل میڈیا کا سہارا لے کر ہر واقعے کے بعد برسات کے مینڈکوں کی طرح شور مچانے لگتے ہیں تاکہ ایشوز کی بنیاد پر خود کو زندہ رکھ سکیں۔ جو لوگ بلوچستان کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ سیاسی و نظریاتی حوالے سے تنگ دست ان لیڈروں کے پاس ایشوز کی بنیاد پر سیاست کرنے اور مذمتی بیانات کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ان کوتاہ قد لیڈروں کا یہ عالم ہے کہ چند جذباتی الفاظ اور نوجوانوں میں مایوسی پھیلانے کے لئے وکٹم کارڈ کھیلنا ان کا آخری سہارا رہ گیا ہے۔ جب اس جدید دور میں بھی ایک نام نہاد تحریک کے پاس سوائے مرنے والوں کی مذمت کرنے کے، سوائے غیر حقیقی اور خیالی بیانات کے اور کچھ نہ ہو، تو وہ فطری موت مر جاتا ہے جیسا کہ ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کو ضائع کرنے کے بعد بلوچستان کی نام نہاد تحریک اپنی موت مررہا ہے۔
جو لوگ بلوچستان سے باہر ہیں، شدت پسندی کی حمایت ان کی مجبوری ہے کیوں کہ وہ اپنے ٹیوٹ اور فیس بک پوسٹوں کے سکرین شاٹ لیکر شدت پسندی کی حامی تنظیموں کو دکھاتے ہیں اور بدلے میں اپنے لئے سیاسی پناہ کی درخواستیں حاصل کرتے ہیں، لیکن بلوچستان میں رہنے والے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ایسے مفاد پرست اور تنگ نظر گروہوں سے خود کو بچا کر رکھیں۔ سوشل میڈیا تک محدود ان لوگوں کی یہ شدید خواہش ہے کہ بلوچستان کا تعلیم یافتہ طبقہ کسی نہ کسی طرح مایوس ہوکر شدت پسندی پر آمادہ ہوجائے، لیکن شدت پسندی بلوچستان کو سوائے نوجوانوں کی موت اور پسماندگی کے کچھ نہ دے سکی ہے اور نہ ہی اس بات کا کوئی امکان موجود ہے کہ سیاسی مطالبات کو شدت پسندی کے ذریعے منوایا جا سکے۔
بلوچستان کے جو مسائل ہیں وہ سیاسی مسئلے ہیں جنہیں پُرامن سیاست کے زریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ بلوچستان کے مسائل کا حل علیحدگی سے مشروط رکھتے ہیں وہ اصل میں بلوچستان کے عوام کا درد اپنے دلوں میں نہیں رکھتے، وہ بلوچستان کو ایک ایسی حالت کے اندر دھکیلنا چاہتے ہیں جہاں خانہ جنگی اور علاقائی تصادم کا راج ہو۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ خاموش رہنے کے بجائے امن کی بحالی کے لئے آواز اُٹھائیں اور ہراُس قوت کے خلاف بولیں جو بلوچستان میں شدت پسندی کو ہوا دینا چاہتا ہو۔ گلی بازاروں سے شروع ہونے والی تحریک اپنے غیرحقیقی نعروں کی وجہ سے سوشل میڈیا تک محدود ہوچکا ہے، اب بلوچستان کے عوام کسی ایسی قوت کو قبول نہ کریں جو شدت پسندی کی گلی محلوں میں واپسی کا باعث ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں