ریاست اور شہریوں کا رشتہ

تحریر: حمل جان

جب سیاست اور رہنمائی کے دعوے داروں کا مقصد ہی گمراہی پھیلانا ہو تو اُن سے خیر کی توقع رکھنا عبث ہے۔ ایسے کوتاہ قد لیڈر اپنی ساری توانائیاں اس بات پر خرچ کرتے ہیں کہ کس طرح دھوکے بازی اور دروغ گوئی کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کیا جائے۔ بلوچستان میں آزادی کی نام نہاد تحریک کی بنیاد بھی ایسے ہی بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی نظریات پر رکھی گئی ہے۔ ان غیر حقیقی بنیادوں کو قائم رکھنے کے لئے اب روزانہ کی بنیاد پر نت نئے جھوٹے اعلانات اور بیانات کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہ آفاقی سچائی مٹائے نہیں مٹتی کہ جھوٹے نظریات کسی کی قبولیت حاصل نہیں کرتے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہوجاتے ہیں۔ بلوچستان کی آزادی کی تحریک کی بنیاد بھی ایسے ہی بے تُکی باتوں پر رکھی گئی ہے اسی لئے اس کا انجام معدومیت کے علاوہ کچھ نہیں۔
بلوچستان کی پسماندگی کا فائدہ اُٹھا کر تشدد پسندی کی حامیوں نے یہ کہہ کر بلوچستان میں بدامنی کو عام کیا کہ بلوچ کی شناخت خطرے میں ہے۔ اس بات کو لیکر وہ شور مچایا گیا کہ سنجیدہ آواز دب گئے۔ لیکن چونکہ یہ دعویٰ بے بنیاد تھا، اس بات میں کوئی حقیقت موجود نہیں تھی کہ ریاست بلوچوں کے خلاف ہے، اسی لئے علیحدگی پسندوں نے لوگوں کو بندوق تھما کر ریاست کے ساتھ دست و گریباں کروایا۔ حقیقت تلخ ہے، لیکن سچائی یہی ہے کہ کوئی بھی ریاست اپنے جغرافیائی حدود کے اندر ایسی کسی قوت کو برداشت نہیں کرتی جو ریاست کی خود مختاری کو چیلنج کرے۔ جب بلوچستان میں ان کوتاہ نظر لیڈران نے معصوم لوگوں کو ریاست کے خلاف بھڑکایا تو یہ بات یقینی تھی کہ ریاست ہر ذرائع کا استعمال کرکے ایسی قوتوں کا خاتمہ کرے گی۔ جب غیر جانب دارانہ عینک سے دیکھا جائے تو بلوچستان میں بندوق برداروں سے ریاست اس لئے آہنی ہاتھوں سے نہیں نمٹ رہی کہ وہ بلوچ ہیں، بلکہ ریاست ایسے لوگوں سے اس لئے سختی سے پیش آتی ہے کہ وہ داخلی خود مختاری کو چیلنج کررہے ہیں۔ تشدد پسند چاہے بلوچ ہو یا پختون، سندھی، پنجابی یا گلگتی، غرض کہ کوئی بھی تشدد پھیلانے کی کوشش کرے تو ریاست کا رویہ اس کے ساتھ یکساں ہوتی ہے۔ لیکن جن لوگوں نے جھوٹے اور بے بنیاد باتوں کو لیکر لوگوں کو گمراہ کیا وہ اپنے بندوق برداروں کی موت کو قومی نسل کشی سے تعبیر کرکے مزید لوگوں کو اس بے نتیجہ تشدد کا ایندھن بنانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ریاست نے اُن لوگوں کو بھی واپسی کا موقع دیا ہے جو پچاس سالوں سے ریاست اور ریاست کی شہریوں کے خلاف برسر پیکار تھے۔ آج جب وہ تشدد سے باز آئے ہوئے ہیں تو ریاست انہیں کسی انتقامی کاروائی کا نشانہ نہیں بنا رہی ہے بلکہ وہ تمام اپنی ذاتی زندگیوں میں مصروف اور مگن ہیں۔
ریاست اور شہریوں کا رشتہ ایک عمرانی معاہدے کے تحت ہے جس میں شہریوں کی کچھ زمہ داریاں ہیں، جب شہری ان زمہ داریوں کو پورا کریں گے تو ریاست اپنے فرائض ادا کرے گی۔ لیکن جب شہری ریاست کے قانون کو تسلیم نہ کرے، ریاست کے خلاف جنگ پر آمادہ ہوجائے تو وہ معاہدہ منسوخ ہوجاتی ہے، ریاست ایسے لوگوں پر سختی ہی کرے گی جب تک کہ ایسے گروہوں کو واپس اُس عمرانی معاہدے کی پاسداری پر آمادہ نہ کرے۔ یہ سختی دنیا کے تمام ریاست کرتے ہیں۔
بلوچستان میں ریاست اور بلوچ عوام کے درمیان ایک وسیع خلیج پیدا کرنے کے لئے سالوں سے یہ پروپگنڈہ کیا جارہا ہے کہ ریاست بلوچوں کے خلاف ہے۔ حالانکہ اس دعوے میں زرہ برابر سچائی نہیں ہے۔ بلوچوں کے خلاف ریاست نہیں بلکہ وہ قوتیں ہیں جو نوجوانوں کو تشدد پر اُکساتے ہیں اور بلوچوں کے تعلیم یافتہ لوگوں کو بے نتیجہ تشدد کا ایندھن بناتے ہیں۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ایسے جھوٹے اور بے بنیاد باتوں کو عام لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے۔ جو لوگ بلوچستان میں امن نہیں چاہتے وہ ہر معاملے کی منفی پہلو کو بیان کرتے ہیں، ایسے لوگ اس حد تک منافق و بے حس ہیں کہ لاپتہ افراد کی بازیابی بھی انہیں زہر لگتی ہے۔ بلوچستان میں بیٹھے دانشور، لکھاری، سیاسی کارکنوں کی زمہ داری ہے کہ وہ مکالمے اور مباحثے کے لئے ایسے جھوٹے نظریات پر سوال اٹھانا شروع کردیں جن نظریات نے بلوچستان میں تنگ نظری اور عدم برداشت کو فروغ دیا۔ بلوچستان کا مستقبل علیحدگی میں نہیں بلکہ اسی سسٹم کے اندر ہی بلوچستان کے بنیادی مسائل کا حل موجود ہے۔ اگر کمی ہے تو بلوچستان میں صرف وسیع نظر لیڈروں کی کمی ہے جو شدت پسندی کے خلاف توانا آواز بن جائیں اور اپنے لوگوں کو شدت پسندی سے نجات دلائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں