انسانی حقوق کا مسئلہ، آزادی کا نعرہ اور منظم عالمی پروپگنڈہ

تحریر/ ھنین جان
کسی دانا نے یہ بات کہا تھا کہ جھوٹی بات کو اس حد تک دہراؤ کو وہ سچ لگنے لگے۔ یہ مقولہ آج دنیا کے کئی ممالک کی خارجہ پالیسیوں کا حصہ ہے۔ اپنے حریف ممالک کو کمزور اور انتشار کا شکار بنانے کے لئے مخالف ریاستیں روایتی جنگوں کو مہنگا اور خطرناک پا کر آج کے زمانے کی ایڈوانس کمیونیکیشن ذرائع کا استعمال کرکے حقائق سے برعکس باتیں پھیلاتے ہیں۔ جھوٹی اور بے بُنیاد باتوں کو اس حد تک دُہرایا جاتا ہے کہ سُننے والے انہیں سچ تسلیم کر بیٹھتے ہیں۔ پروپگنڈہ آج کے زمانے کا موثر ترین ہتھیار ہے جسے استعمال کرکے کسی ملک میں انتشار پھیلایا جا سکتا ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے یہ دعویٰ کررہا ہے کہ انڈیا تمام عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر بے بنیاد پروپگنڈے میں مصروف ہے۔ پاکستان کے اندر فرقہ واریت، کراچی میں لسانیت کی بنیاد پر تشدد اور بلوچستان میں قوم پرستوں کو انڈیا نہ صرف سپورٹ کررہی ہے بلکہ اپنی روایتی اور غیر روایتی میڈیا کا استعمال کرکے پاکستان کے اندر غیر یقینی اور مایوسی کی کیفیت پیدا کرنا چاہتی ہے تاکہ شدت پسند ایسے ماحول کے مایوس نوجوانوں کو سبز باغ دکھا کر اپنی صفوں میں شامل کرسکیں۔ لیکن اپنے اپنے مفادات کے ہاتھوں مجبور عالمی برادری نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دیا۔ خصوصاََ ستمبر دوہزار گیارہ کے بعد جب امریکہ افغانستان آگیا اور اسے پاکستان کی ضرورت پڑھ گئی، اس ضرورت نے جب امریکہ کو پاکستان کے قریب تر کردیا تو انڈیا نے پاکستان امریکہ تعلقات خراب کرنے، شدت پسندی کو ہوا دینے، لسانی گروہوں کو تشدد پر اُکسانے اور بلوچستان میں پھیلی مایوسی کو استعمال کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنایا اور اس منصوبے پر عمل پھیرا ہوگیا۔ پاکستان بار ہا اس بات کو عالمی برادری کے سامنے رکھ رہی ہے کہ انڈیا اپنے ہمسائیوں، خصوصاََ پاکستان کے خلاف بھرپور طریقے سے برسرپیکار ہے اور میڈیا کے ذریعے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہی ہے۔ لیکن عالمی سیاست کی تلخ حقیقت یہی ہے کہ جب تک مفاد وابستہ نہ ہوں، کوئی قوت کسی دوسری قوت کے حق میں یا مخالفت میں نہیں بولتا، یہ معاملہ بھی اسی طرح عالمی طاقتوں کی مفاد کے بھینٹ چڑھ گیا۔ لیکن حقیقت آخر کار منظر عام پر آ گئی۔
ایک سال قبل ایک یورپین آزاد ادارہ “یورپین ڈس انفو لیب” نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انڈیا کی منظم طریقے سے پاکستان کے خلاف پروپگنڈہ کے انکشافات نے پاکستان کی تمام دعوؤں پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ اس رپورٹ نے ایک ایک کرکے وہ تمام تفصیلات دنیا کے سامنے آشکار کردیں جن کا دعویٰ پاکستان ایک عرصے سے کررہا تھا۔ جب گزشتہ سال دسمبر میں اس ادارے نے اپنی فائنل رپورٹ پیش کی تو اس نے پاکستان میں متحرک انسانی حقوق کے دعوے داروں، بلوچستان کی آزادی پسندوں اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کی حقیقت عیاں کردی۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں یونائٹڈ نیشنز کے ساتھ منسلک دس سے زیادہ این جی اوز کو انڈیا پاکستان کے خلاف استعمال کررہی ہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ سات سو کے قریب ویب سائٹس کے ذریعے پاکستان اور چائنا کے خلاف پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ یورپین ڈس انفو لیب رپورٹ کے مطابق انڈیا نے انٹرنیٹ کے ذریعے اس منظم پروپگنڈے کا آغاز دوہزار پانچ کو کیا۔ یعنی اُس وقت جب بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک کو شروع ہوئے ایک سال ہوچکا تھا اور طالبان حکومت کو گرائے چار سال ہو چکے تھے۔ اس عمل کے ذریعے ایک طرف انڈیا دنیا بھر میں یہ غلط تاثر پھیلانا چاہتا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کو سپورٹ کررہا ہے حالانکہ پاکستان نے ستر ہزار سے زائد جانیں گنوائی ہیں تو دوسری طرف ملک کے اندر اقلیتوں، لسانی گروہوں اور شدت پسند قوم پرستوں کے زریعے یہ تاثر پھیلانا چاہتا تھا کہ ریاست ان گروہوں کے خلاف ہے۔ کئی لوگوں کی غیرسنجیدگی کی وجہ سے انڈیا وقتی طور پر اگرچہ پاکستان کے اندر انتشار پھیلانے میں کامیاب ہوگیا، لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ پاکستان نہ صرف دہشتگردوں کی حامی نہیں بلکہ شدت پسندوں کے خلاف تیز ترین کامیابی بھی پاکستان نے حاصل کی۔ کراچی کا امن بحال ہوا اور علیحدگی پسند قوم پرستی بھی اپنی موت مررہی ہے ملک کے اندر مذہبی شدت پسندی بھی کنٹرول ہوچکی ہے۔
جیسا کہ یورپین ڈس انفو لیب نے انکشاف کیا ہے کہ انڈیا کا سارا فوکس پاکستان کے اندر پروپگنڈہ کے ذریعے انتشار پھیلانا ہے۔ اسی لئے انڈیا کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ بلوچستان علیحدہ ہوجائے یا طالبان شریعت نافذ کریں اور نہ ہی انڈیا کو اس بات سے غرض ہے کہ پاکستان لسانی بنیادوں پر تقسیم ہو۔ بلکہ اس کی ساری کوشش یہی ہے کہ پاکستانی سوسائٹی کی انہی کلچرل اور فرقوں پر مبنی اختلافات کو مسائل بنا کر انہیں پاکستان کے اندر انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ تشدد کی تسلسل کو برقرار رکھ کر انڈیا دوہرا فائدہ سمیٹنا چاہتا ہے۔ ایک تو محکومی و محرومی کا وایلا کرکے لوگوں کو اس آگ میں جھونکنا اور دوسرا انہی لوگوں کی موت کو پروپگنڈہ کا زریعہ بنا کر نفرت پھیلانا۔ یوں نفرت کو شدت پسندی کے لئے استعمال کرکے انڈیا پاکستان کو ایک مسلسل مشکل حالات میں پھنسانا چاہتا ہے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں کرے۔
بلوچستان، سندھ، پنجاب، کے پی کے اور گلگت بلتستان میں کئی ایسے گروہ ہیں جو زمینی حقائق کوپس پشت ڈال کر جھوٹے سچے واقعات کی زمہ داری ریاست پر ڈالتے ہیں۔ اگر ان باتوں کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو ان سب باتوں کی ڈوری سری واستو گروپ ہلا رہی ہے۔ یہ وہی گروپ ہے جو گزشتہ پندرہ سالوں سے پاکستان کے خلاف بھرپور پروپگنڈہ کررہی ہے۔ بہت سے حقیقی انسانی حقوق کارکن بھی دھوکے میں آکر ایسے لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہوجاتے ہیں۔
جو لوگ روشن خیالی اور جمہوریت پسندی کے دعوے دار ہیں، انہیں ایک مرتبہ پھر سوچنا چاہئے کہ جمہوریت پسندی، روشن خیالی اور اظہار رائے کی آزادی اور منفی پروپگنڈے میں کیا فرق ہے۔ اگر اس وسیع فرق کو یہ لوگ جان کر بھی نظر انداز کردیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ لوگ ان نعروں کا سہارا لیکر باہر کی ایجنسیز کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں۔ جو کوئی انسانی حقوق کا تحفظ چاہتا ہے، سب سے پہلے شدت پسندی کی مخالفت کرے، کیوں کہ جہاں شدت پسندی اور دہشتگردی عام ہوجاتی ہے تو وہاں انسانی حقوق ہر حال میں متاثر ہوتے ہیں۔
کالم کی دُم: جو لوگ “بشمول ماما قدیر، ماہ رنگ، اخترمینگل، ایچ آر سی پی اور دیگر انسانی حقوق تنظیمیں” پانچ فروری کو بلوچستان میں ہونے والے بم دھماکوں اور ان دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی مخالفت نہیں کرتے وہ انسانی حقوق کے علمبردار نہیں بلکہ اس نعرے کے پیچھے خود کو چُھپا کر شدت پسندی کے لئے جواز تراشنے والے اور پاکستان کے خلاف انڈین پروپگنڈے کا شعوری یا لاشعوری طور پر حصہ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں