نہتے مزدوروں کا قتل آخر کب تک!

تحریر: رحمین محمد حسنی
خبر یہ ہے کہ بلوچستان کے علاقے قلات منگچر سے تین مزدور رات کی تاریکی میں نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوگئے۔ اس واقعے کے اگلے روز ہی بلوچستان کی ایک کالعدم تنظیم نے اس واقعے کی زمہ داری یہ کہہ کر قبول کی کہ مقتول پنجاب سے تعلق رکھتے تھے، اپنے اس غیر انسانی اور ناقابل قبول اقدام کو جواز فراہم کرنے کے لئے یہ من گھڑت کہانی گھڑی گئی کہ مقتول مزدور سیکیورٹی فورسز کے لئے کام کرتے تھے اس لئے ان کو نشانہ بنایا۔لیکن یہ خبر نہ کسی میڈیا کا حصہ بن گیا اور نہ ہی کسی انسانی حقوق کی تنظیم نے ان تین انسانوں کی زندگیوں کو اتنا اہم سمجھا کہ ان کی بےدردی سے کی جانے والی قتل کے خلاف مذمت کے دو لفظ بول دے۔ اس واقعے میں ملوث تنظیم نے نسل پرستی کے الزام سے بچنے کے لئے مقتولوں کو فورسز کا حصہ بتایا لیکن بلوچستان میں متحرک ان تنظیموں کی ماضی کی کارکردگیاں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ ان شدت پسندوں کا مقصد نسلی بنیادوں پر قتل کرنا اور دہشت پھیلانا ہے، یہ فاشسٹ نظریہ موجودہ دور میں قابل نفرت اور ناقابل قبول ہے لیکن جن لوگوں کا مقصد صرف دہشت پھیلانا ہو، انہیں اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ دنیا ان کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گی۔جو مزدور صبح سے شام تک مزدوری کرتے اور کئی میلوں دور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے، انہیں مارنے والا اگرچہ انسانی حقوق سے نابلد اور وحشی انسان ہے، لیکن حیف اُن لوگوں پر ہے جو ہر اُس معاملے کی زمہ داری ریاست کے اداروں پر ڈال کر پروپگنڈہ کرتے ہیں جو ان شدت پسندوں کے علاوہ کسی اور نے کی ہو لیکن ان مزدوروں کی قتل پر انہیں “چُپ کی بیماری” لگی ہوئی ہے۔
بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے آزادی کے نام پر جو شدت پسندی شروع کی گئی ہے، اس کے نتیجے میں بے تحاشا لوگ قتل ہو گئے۔ نہ صرف مقامی بلوچ اس بے نتیجہ شدت پسندئ کا شکار ہوگئے ہیں بلکہ لاتعداد غیر بلوچ بھی محض اس بنا پر اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں کہ وہ کیوں بلوچستان میں محنت مزدوری کے لئے آتے ہیں۔ شناختی کارڈ دیکر کر لوگوں کو قتل کرنے کے بھیانک واقعات بھی انہی تنظیموں کے ہاتھوں بلوچستان میں ہوئے ہیں، ان واقعات کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ایسی کاروائیوں کے زمہ دار بدستور اس طرح کے انسانیت سوز کاروائیاں کررہے ہیں۔
منگچر میں قتل ہونے والے مزدوروں کی قتل پر کہیں سے کوئی آواز کا نہ اُٹھنا بلوچستان کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں، ترقی پسند گروہوں اور مزدور تنظیموں کی منافقت کو ظاہر کرتی ہے۔ یکم مئی جیسے دنوں میں سرخ جھنڈوں کے ساتھ شوق سے فوٹو کھینچنے والے مزدوروں کی قتل پر خاموش رہ کر اس طرح کے جرائم کی خاموش حمایت کا مرتکب ہورہے ہیں، اسی طرح انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سوشل میڈیا میں شور مچانے والے افراد منگچر واقعے میں خاموش رہ کر اس بات کی تائید کررہے ہیں کہ ان کی وجود کا مقصد انسانی حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ چند مخصوص لوگوں کی ایماء پر بلوچستان میں شدت پسندی کے لئے گراؤنڈ تیار کرنا ہے۔ یہ بات نوشتہ دیوار بن چکی ہے کہ شدت پسندی بلوچستان میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی، لیکن بدامنی اور انتشار پھیلانے کے لئے معصوم اور نہتے انسانوں کو قتل کرکے شدت پسند تنظیمیں اور اس طرح کی واقعات پر خاموشی اختیار کرنے والی تنظیمیں دنیا کے سامنے اپنا بھیانک چہرہ عیاں کررہے ہیں۔
بلوچستان کے تعلیم یافتہ طبقے کو یہ زمہ داری اپنے کندھوں پر لیکر بد امنی کی ہر سطح پر مخالفت کرنی چاہئے، کیوں کہ بلوچستان کی ترقی امن سے مشروط ہے۔ بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے نوجوان آواز اُٹھائیں، جو لوگ اپنی خاندانوں سمیت بیرون ملک منتقل ہوچکے ہیں انہیں بلوچستان کے لوگوں کی تکالیف کا کوئی احساس نہیں، بلوچستان میں موجود نوجوانوں کو ان تکالیف کا احساس کرتے ہوئے بدامنی اور تشدد کے خلاف توانا آواز بننا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں