لاپتہ افراد کا المیہ

تحریر: رحمین محمد حسنی

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ لوگوں کی جبری گمشدگی ایک حل طلب مسئلہ ہے، اس مسئلے کو حل ہونا چاہئے۔ لیکن بدقسمتی سے بلوچستان کی تنگ نظر قیادت کے لئے یہ مسئلہ حل طلب نہیں بلکہ تمام جماعتیں یکساں طور پر لاپتہ افراد کے مسئلے کو اپنے لئے استعمال کررہے ہیں۔ پارلیمانی جماعتیں ووٹ بینک کے لئے اور مسلح تنظیموں کے حامی اس مسئلے کو لے کر لوگوں کو ریاست کے خلاف بڑکانے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو پاکستان سے باہر جانے اور بیرونی شہریت حاصل کرنے کے لئے اس مسئلے کو استعمال کرتے ہیں۔ جب وہ باہر چلے جائیں اور ان کو کسی بیرونی مملکت کی شہریت مل جائے تو وہ خاموش ہوجاتے ہیں۔ گویا لاپتہ افراد کا مسئلہ ان تمام مفاد پرست لوگوں کے لئے ایک ایسا مسئلہ ہے کہ یہ تمام کبھی اس مسئلے کا خاتمہ نہیں چاہتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ تمام مفاد پرست جماعتیں بلوچ خواتین کا کندھا استعمال کرکے اس مسئلے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
مسلح تنظیمیں یہ جانتی ہیں کہ اُن کے تشدد کے نعرے میں اب کوئی کشش موجود نہیں۔ بلوچستان کے لوگوں نے ان تنظیموں کی حقیقت جان لی ہے کہ چند ناعاقبت اندیش لیڈران نے سماجی برائیوں میں ملوث لوگوں کو بندوق تھما کر کس طرح عوام کا استحصال کیا۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھ کر مسلح تنظیمیں لاپتہ افراد ایسے ایشوز کا سہارا لیکر پروپگنڈہ کررہے ہیں۔ اپنے اس گھناونے عمل کے لئے یہ تنظیمیں پہلے سے اپنے پیاروں کے لئے پریشان خواتین اور بچوں کو استعمال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں جو لوگ لاپتہ افراد کے مسئلے پر خود کو انسانی حقوق کا کارکن قرار دیتے ہیں، لیکن یہی لوگ ہیں جو مسلح تنظیموں کی دہشتگردانہ کاروائی کے واقعات پر اچھلتے ہیں اور اُن کی تعریفیں کرتے ہیں۔ لاپتہ افراد کیس کے ساتھ اس سے زیادہ سنگین مذاق کیا ہوگی کہ احمد وقاص گورایا جیسے شخص کو اس کیس کا متحرک رُکن بنانے کی کوشش کی جائے۔ لیکن لاپتہ افراد کے لواحقین کا المیہ یہی ہے کہ ریاست کے خلاف پروپگنڈہ کرنے والے کردار اُن کے کندھوں کو استعمال کرکے اپنےمفادات کی تکمیل چاہتے ہیں۔
یہ منافقت نہ صرف مسلح تنظیموں کی حامیوں تک محدود ہے بلکہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز بھی اپنی لسٹ سے اُن ناموں کو خاموشی سے نکالتی ہے جن لوگوں کو کالعدم تنظیموں نے اغواء کیا ہے۔ اب بھی بلوچستان کے مختلف اضلاع سے سینکڑوں لوگ لاپتہ ہیں جنہیں ان تنظیموں اغوا کیا تھا۔ گمشدہ جو کوئی بھی ہو اس کی بازیابی کے لئے یکساں آواز اُٹھانی چاہئے، لیکن جب نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک واقعے پر شور مچاتے اور دوسرے واقعے کی خاموش حمایت کرتے ہیں تو یہ سمجھنا بجا ہوگا کہ انسانی حقوق کا نعرہ ایک ڈھکوسلہ ہے۔
بلوچستان میں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے احتجاج میں مصروف خاندانوں کو چاہئے کہ وہ مفاد اپنا کندھا دوسروں کے لئے استعمال نہ ہونے دیں۔ جن لوگوں کو مسلح تنظیموں نے علی الاعلان اغوا کیا ہے اُن کی بازیابی کا بھی نام لیکر مطالبہ کریں۔ جب تک تمام لاپتہ افراد کے لئے یکساں آواز نہیں اٹھایا جائے گا، اس تاثر کو ختم نہیں کیا جا سکتا کہ لاپتہ افراد کے نام پر شور مچانے والوں کا مقصد لوگوں کی بازیابی نہیں بلکہ ان کا مفاد لوگوں کی گمشدگیوں سے وابسطہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں