تربت میں گھر پر حملہ: ‎انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟

‎تربت میں گھر پر حملہ:
‎انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟
تحریر: ھنین جان
‎یہ سوال ایک عام شخص کو بھی ستاتا تھا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم لوگ اُن واقعات پر کیوں چھپ ہیں جو کالعدم تنظیمیں سرانجام دیتی ہیں۔ پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ ایسا پیدا ہوا ہے جو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بات کرنے والوں کو ترقی پسند اور جمہوریت دوستی کے تمغےپہناتی ہے، انہی لوگوں سے بلوچستان کے انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی متاثر ہیں۔ بلوچستان میں جاری بدامنی کی وجہ سے اگرچہ لاکھوں نہیں لیکن ہزاروں بے گناہ اور نہتے شہری کالعدم تنظیموں کی گولیوں کا شکار ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے منجھے ہوئے سیاسی لیڈروں کی ایک پالیسی کے تحت ٹارگٹ کلنگ کی گئی تاکہ لیڈر شپ کی اس کمی کو مسلح تنظیمیں پورا کرسکیں اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف بھڑکائیں۔ ان تنظیموں کی پالیسیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بلوچستان میں انسانی حقوق صرف اُن کا ہے جو ان تنظیموں کے منظور نظر ہیں۔ جو لوگ عام بلوچ ہیں اور ان تنظیموں کی شدت پسندی کا شکار بن جاتے ہیں اُن کے لئے بولنے والا کوئی نہیں ہے۔ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ جو لوگ مسلح تنظیموں کے ساتھ ہیں یا سوشل میڈیا میں اُن کے حمایتی ہیں وہ ان مسلح تنظیموں کی کارستانیوں کو کبھی عوام کے سامنے نہیں لائیں گے۔ لیکن جو لوگ یا تنظیمیں بلوچستان میں انسانی حقوق کا حقیقی تحفظ چاہتے ہیں، مسلح تنظیموں کی جانب سے بار بار انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اُن کی خاموشی نہ صرف حیران کُن ہے، بلکہ اُن کی غیرجانبدارانہ کردار پر سوالیہ نشان بھی ہے۔
‎صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے درجنوں ایسے واقعات بلوچستان میں رونما ہوتے ہیں جن میں مسلح تنظیمیں علی الاعلان ملوث ہیں، لیکن کوئی انسانی حقوق کی تنظیم اس جانب متوجہ نہیں ہوتی۔ تقریباََ دو روز قبل تربت میں کالعدم تنظیم نے ایک گھر پر حملہ کرکے متعدد لوگوں کو زخمی کردیا تھا۔ یہ واقعہ چادر و چاردیواری کی پامالی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی لیکن کہیں سے کوئی آواز اس واقعے کے خلاف نہ اُٹھی۔ مسلح تنظیموں نے اپنے اس کاروائی کو جواز فراہم کرنے کے لئے یہ الزام لگایا کہ مزکورہ شخص چوری اور دیگر کاروائیوں میں ملوث ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کالعدم گروہوں کو یہ حق کس نے پہنچایا ہے کہ وہ لوگوں پر الزام لگا کر انہیں قتل کریں۔
‎اس معاملے پر اب کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اتنی جانبدار اور یکطرفہ کیوں ہیں۔ تربت میں گھروں کے اندر گھسنے اور چادر و چاردیواری کی واقعات پر کیوں خاموش ہیں۔ اس معاملے پر بھی بات کرنے کی ضرورت ہے کہ جو لوگ مسلح تنظیموں نے اغواء کیے ہیں اور ان کے اغواء کی زمہ داری بھی قبول کی ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں ان لوگوں کی گمشدگی پر کیوں خاموش ہیں۔ اس طرح کی دوغلی رویوں کے پیچھے بد دیانتی اور شدت پسندی کی حمایت چھپی ہے جوکہ لوگوں کی گمشدگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا اصل سبب ہے۔
‎بلوچستان میں موجود نوجوانوں کو اس حقیقت کا ادراک رکھنا ہوگا کہ بلوچستان کے مالک وہ لوگ نہیں جو شدت پسندی ہیں یا شدت پسندی کے حامی ہیں۔ بلکہ بلوچستان کا اصل مالک یہاں کے رہنے والے ہیں۔ سنجیدہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بلوچستان میں منافقت اور دوغلی سیاست کرنے والوں کا پردہ فاش کریں۔ جب تک منظم عوامی طاقت کو شدت پسندی کے خلاف یکجا نہیں کیا جاتا، تب تک بلوچستان میں یونہی قتل و غارت گری اور شدت پسندی کی گرم بازاری رہے گی، جو کسی صورت بلوچستان کے عوام کی حق میں نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں