کون بلوچستان میں مواصلاتی نظام نہیں چاہتا

تحریر: دلجان ہوت

کل بروز بدھ دشت کے علاقے کُڈان میں ایک موبائل ٹاور پر نامعلوم افراد نے حملہ کردیا۔ حملے کے نتیجے میں ٹاور ناکارہ ہوگئی اور اس کے سولر پلیٹس بھی ان حملہ آوروں نے نظر آتش کردئیے۔ یہ حملہ آور وہ لوگ تھے جو ریاست پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ریاست بلوچستان میں مواصلاتی ذرائع کی ترقی نہیں چاہتا۔ لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو پنجگور، گچک، مشکے اور مکران میں متعدد موبائل ٹاوروں کو انہی شدت پسندوں نے نقصان پہنچایا ہے۔ بلوچستان کو پسماندہ رکھنے اور شدت پسندی کی آماجگاہ بنانے کے لئے شدت پسند تنظیمیں ہر اُس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں جو بلوچستان کو دوسرے علاقوں کے ساتھ جوڑ دے، یہ ذرائع چاہے سڑکیں ہوں یا مواصلاتی نظام، بلوچستان میں یہ ہمیشہ شدت پسندوں کا نشانہ بنتے آرہے ہیں۔

یہ محض اتفاق نہیں کہ کیوں مسلح تنظیمیں سڑکوں اور موبائل نیٹ ورکس کے پھیلاوے کے خلاف ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل کی صورت میں بلوچستان کی دوسرے علاقوں کے ساتھ آمد و رفت اور رابطہ کاری ہوسکتی ہے جو کہ مسلح تنظیمیں نہیں چاہتے ہیں۔ دشت کُڈان میں موبائل ٹاور پر حملہ ان شدت پسندوں کی انہی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ اس سے پہلے درجنوں پی ٹی سی ایل ایکسچینج بھی ان کالعدم تنظیموں نے اڑائے ہیں۔ سڑکیں اور مواصلاتی ذرائع خالص عوامی سہولت کی چیزیں ہیں جن کو کالعدم تنظیمیں نشانہ بناتے ہیں۔

شدت پسند تنظیمیں ہر وہ عمل کرتے ہیں جس سے وہ بلوچستان کے عوام کا نقصان کر سکیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی پر شور مچانے والی ماہ رنگ اور دیگر لوگ مسلح تنظیموں کی جانب سے مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچانے کی مخالفت کیوں نہیں کرتے؟ بلوچستان کے لوگوں کو انٹر نیٹ کی فراہمی کا حق حاصل ہے، اگر کوئی گروہ اُن سے یہ بنیادی حق چھینتا ہے تو وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزئ کا مرتکب ہوتا ہے۔ لیکن ریاست کے خلاف معمولئ باتوں کو لیکر پروپگنڈہ کرنے والے اب کیوں خاموش ہیں جب کالعدم بی ایل ایف موبائل ٹاوروں کو دھماکے سے اڑانے کی زمہ داری قبول کرتی ہے؟ یہ کھلی منافقت اور دوہرا معیار ہے جسے اب بلوچستان میں ختم ہونا چاہئے۔ جو لوگ اس طرح کی دہشتگردانہ کاروائیوں پر خاموش ہیں انہیں تاریخ منافق اور قوم دشمن کے نام سے یاد کرے گی۔ قوم دوستی یہ نہیں کہ پارلیمنٹ میں یا پریس کلبوں کے سامنے گلا پھاڑ کر تقریریں کی جائے اور ریاست اور عوام کے درمیان عدم اعتماد کا ماحول پیدا کیا جائے، بلکہ قوم دوستی ایمانداری اور خلوص نیت کے ساتھ ہر مسئلے پر بات کرنے اور عقلی بنیادوں پر اس کا حل ڈھونڈنے کا نام ہے۔ آج اگر کوئی بھی بلوچ سیاست دان بشمول بی این پی اور نیشنل پارٹی کے لیڈران، ان مسائل پر خاموش رہنے کو ترجیح دیں گے تو تاریخ بھی انہیں بطور شدت پسندوں کے حامی یاد کرے گی۔ بلوچستان کے عوام کو شدت پسندی کے چنگل اور چند لوگوں کی پروپگنڈہ کے اثرات سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر فرد اور سنجیدہ پارٹی اپنا کردار ادا کرے۔ شدت پسندی کے واقعات پر خاموشی کو شدت پسند خاموش حمایت سمجھ کر مزید کاروائیاں کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان میں شدت پسندی پھیلانے والوں کے خلاف کھل کر بولا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں