لاپتہ افراد دھرنا ختم، تکلیف کس کو؟

گواچن اداریہ

گزشتہ چند دنوں سے لاپتہ افراد کے چند خاندان اسلام آباد میں دھرنا دئیے بیٹھے تھے، جنہیں نہ صرف میڈیا کی توجہ حاصل تھی بلکہ حکومتی عہدے داروں اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرین بھی متعدد بار ان کے پاس چلے گئے۔ اعلی حکومتی اراکین کی لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملاقات اور یقین دھانیوں کے بعد ان خاندانوں نے اپنا دھرنا ختم کردیا اور اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ باہر ملکوں میں بیٹھے علیحدگی پسند سوشل میڈیا کے ذریعے لاپتہ افراد کے لواحقین کی دھرنا ختم کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کو ماضی کی مسلح تحریکوں کے ساتھ مذاکرات سے موازنہ کررہے ہیں۔ جیسا کہ بلوچستان میں یہ بات اب ایک رواج بن گئی ہے کہ کوئی بھی طبقہ اپنے بنیادی حقوق کے لئے جب کوئی احتجاج وغیرہ کرتی ہے تو سوشل میڈیا میں بیٹھے نام نہاد علیحدگی پسند اس احتجاج کو ریاست مخالف رنگ دیکر پروپگنڈہ شروع کردیتے ہیں۔ ملازمین کا احتجاج ہو یا طلباء کے مطالبات ہوں، ریاست مخالف گروہ پوری کوشش کرتی ہے کہ ان احتجاجوں کو ریاست مخالف رنگ دیا جا سکے۔ اسی طرح لاپتہ افراد کے لواحقین کی احتجاج بھی ان لوگوں کو پروپگنڈہ کے لئے مواد فراہم کررہا تھا اور احتجاج کے ختم ہونے کی صورت میں پروپگنڈہ کاایک زریعہ بھی ختم ہوگیا، جو کہ نام نہاد آزادی پسندوں کے لئے باعث تکلیف ہے۔

بلوچستان میں آزادی کی تحریک کے نام پر جو بدامنی شروع کی گئی تھی، اس کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ لاپتہ ہوئے ہیں۔ لاتعداد لوگ خود مسلح تنظیموں نے بھی اُٹھائے ہیں لیکن بدقسمتی سے اُن کے لئے آواز اُٹھانے والا کوئی موجود نہیں۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز بھی ایسے لوگوں کو اپنی لسٹ میں جگہ نہیں دیتا جو ان تنظیموں نے اعلی الاعلان اغواء کردئیے ہیں۔ ضلع آواران، پنجگور اور تربت سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد سالوں پہلے کالعدم تنظیموں نے اُٹھائے ہیں لیکن ابھی تک کسی تنظیم یا فرد نے اُن کا زکر تک بھی کرنا گوارا نہیں کیا ہے۔ یہ جانبداری وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور دوسرے انسانی حقوق کے تنظیموں کی دوغلے رویے کو ظاہر کرتی ہے۔ لاپتہ افراد کے بارے میں بنائے گئے حکومتی کمیشن کو چاہئے کہ وہ ایسے بے آواز لوگوں کا آواز بنے جنہیں مسلح تنظیموں نے لاپتہ کیا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد بڑی تعداد میں واپس آ رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بھی بلوچستان کے لوگوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ دہائیوں سے جاری شدت پسندی کے اثرات جلد ختم نہیں ہوسکتے لیکن گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ہونے والے پیشرفت یہ بتاتے ہیں کہ شدت پسندی اپنی موت مررہی ہے۔ صرف سوشل میڈیا کے زریعے جو لوگ شدت پسندی کو مصنوعی سانسیں فراہم کررہے ہیں ان کی اس کوشش کا کوئی اثر بلوچستان کے عوام پر نہیں ہوگا۔ اپنی اس ناکامی اور فرسٹریشن کو دیکھ کر یہ لوگ ہر معاملے کو لیکر ریاست مخالف پروپگنڈہ شروع کردیتے ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کی احتجاج کو بھی ان لوگوں نے ریاست مخالف احتجاج ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن حکومتی شخصیات کی لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں اور یقین دہانیوں کے بعد شدت پسندوں کا یہ پروپگنڈہ بھی دم توڑ گیا۔ اسی وجہ سے اسلام آباد میں دھرنے کے خاتمے پر سب سے زیادہ تکلیف اُن لوگوں کو ہورہا ہے جو سوشل میڈیا میں بیٹھ کر نفرتیں پھیلاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں