بلوچ کلچر ڈے

گواچن اداریہ

آج دو مارچ پاکستان سمیت دنیا بھر کے بلوچ بطور کلچر ڈے مناتے ہیں۔ بلاشبہ ہزار سالہ بلوچ تاریخ کے ارتقائی مراحل کے دوران بلوچ کلچر بھی مختلف مراحل سے گزر کر ایک توانا کلچر بن چکا ہے۔ بہت سے لوگ کلچر کی ارتقائی مراحل کی مخالفت کرتے ہوئے اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ کلچر کے ظاہری حصے “پوشاک، رہن سہن، اور کھانے کے طور طریقے” بدل سکتے ہیں۔ لیکن یہ نہ صرف بلوچستان بلکہ دنیا کے ہر حصے میں تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ قوموں کے کلچر زمانے کے ساتھ ساتھ خود میں تبدیلیاں لاتے ہیں۔ اگر کسی قوم کے کلچر میں بدلتے رہنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ ختم ہوجاتی ہے۔ بلوچ کلچر وقت کے ساتھ ساتھ بدلنے اور لچکدار ہونے کی وجہ سے ابھی تک زندہ ہے اور اس کلچر سے وابسطہ تمام لوگوں کو اپنی کلچر اور زبان سے محبت ہے۔

سیاسی حوالے سے تقسیم اور معاشی حوالے سے پسماندہ بلوچستان کے لوگوں کے لئے کلچر ڈے وہ واحد پروگرام ہوتا ہےجہاں لوگوں کو متحد و متحرک ہونے کا احساس ملتا ہے۔ اس روز بلوچ کلچر ڈے منانے والے اپنے سیاسی اور قبائلئ وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اپنی تاریخی ثقافت سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن چند سالوں علیحدگی پسند تنظیمیں کلچر ڈے پروگراموں کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان تنظیموں کی شدت پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان کے عوام پہلے سے ہی ہزار ہا پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہیں۔ پہلے سے موجود مشکلات اور مصیبتوں کے علاوہ اب شدت پسند تنظیمیں یہ تک نہیں چاہتے کہ لوگوں کو کوئی تفریح کا موقع ملے۔ آج جب پاکستان بھر کے بلوچ کلچر ڈے منا رہے ہیں، سوشل میڈیا پر شدت پسند تنظیموں کے حامی ان لوگوں کی مخالفت کررہے ہیں اور کلچر ڈے منانے والوں کو ٹرول کررہے ہیں۔ عوام پہلے سے ہی شدت پسند تنظیموں لاتعلق ہوچکے تھے۔ اب بلوچستان کے نوجوان اس بات پرکان نہیں دھرتے کہ نام نہاد علیحدگی پسند کیا کہتے یا کرتے ہیں، بلکہ وہ بلوچستان کا مالک خود کو تصور کرتے ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ آزادی و علیحدگی جیسے لاحاصل نعروں کے پیچھے نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیلے۔

بلوچ کلچر ڈے بلوچ عوام اور شدت پسندوں کے درمیان فرق واضح کرنے کا دن ہے۔ آج عوام اپنی زبان اور کلچر کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کررہی ہے دوسری طرف شدت پسند اور ان کے حامی مختلف طریقوں سے کلچر ڈے منانے کی پروگراموں کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ علیحدگی پسندوں کی بلوچ کلچر سے دشمنی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ لیکن یہ حقیقت اب نوشتہ دیوار بن چکی ہے کہ بلوچستان میں شدت پسندی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ باہر ملکوں سے یا سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی بے جان پروپگنڈہ جلد اپنا دم توڑ دے گی اور بلوچستان امن کا گہوارا ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں