لاپتہ افراد کی بازیابی: لواحقین اور انسانی حقوق تنظیموں کی زمہ داریاں

تحریر: رحمین بلوچ

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو لیکر متعدد گروہ ریاستی اداروں کے خلاف پروپگنڈہ کررہے ہیں۔ لوگوں کی جبری گمشدگی یقیناََ ایک پریشان کن امر ہے، لیکن اصل صورت حال کو پس پُشت ڈال کر صرف ریاست کو ہی سارے واقعات کا زمہ دار قرار دینے والے اس مسئلے کی ہیئت اور اصلیت سے نابلد ہیں۔ ایسے ناواقف اور انسانی حقوق کو بطور فیشن استعمال کرنے والے لوگ اگرچہ اپنی شہرت کے لئے کوئی کام کررہے ہوں، لیکن ان کی سرگرمیوں کو انسانی حقوق کے تحفظ میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ کیا آج تک کسی تنظیم یا انسانی حقوق کے علمبردار شخص سے یہ بیان جاری ہوا ہے کہ مسلح تنظیموں نے جتنے لوگ لاپتہ کئے ہیں، ان کو بازیاب کیا جائے یا وہ لوگ جو مسلح تنظیموں نے قتل کرکے نامعلوم قبروں میں دفنائے ہیں اُن کی نشاندہی کی جائے؟ یقینا ایسا کوئی مطالبہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ابھی تک نہیں آیا ہے۔ یہ امر باعث افسوس ہے کہ کوئی میڈیا پرسن یا سیاسی لیڈر اس بارے میں بات کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔

یہ دعویٰ کرنا کہ ریاست لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل نہیں چاہتی ایک جانبدار اور حقائق کے برعکس دعویٰ ہے۔ بلوچستان کے صوبائی عہدے داروں سے لیکر ملک کے وزیراعظم تک، سب نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک سے زیادہ مرتبہ اپنی عزم کا اظہار کیا ہے۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز خود اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ جو لسٹ انہوں نے وفاقی حکومت کو دی ہے، ان میں سے بیشتر اب بازیاب ہوکر اپنے گھروں میں آ چکے ہیں۔ لوگوں کی بازیابی ایک مثبت عمل ہے جس کی حوصلہ افزائی ہر پلیٹ فارم پر ہونی چاہئے۔ جو لوگ لاپتہ افراد کے معاملے کاالزام ریاست کے اوپر ڈالتے ہیں، جب لوگ بازیاب ہوتے ہیں تو ان لوگوں کی پریشانی دیدنی ہوجاتی ہے۔ بلوچستان کی حالات پر نظر رکھنے والے لوگوں کو بخوبی علم ہوگا کہ علیحدگی پسندوں کی تحریک نظریاتی حوالے سے تہی دامن ہے۔ اس تحریک کا کوئی ایسا جواز نہیں جسے بنیاد بنا کر لوگوں کو اس تحریک میں شامل ہونے کے لئے قائل کیا جا سکے۔ اسی لئے اس تحریک سے جُڑے تمام لوگوں کی حتی الوسع کوشش یہی ہے کسی نہ کسی صورت لاپتہ افراد کے مسئلے کو استعمال کرکے لوگوں کو ریاست سے بدظن کیا جا سکے۔ اپنے اس مقصد کی خاطر وہ بازیاب ہونے والوں کی خبر کو نہ صرف چھپاتے ہیں بلکہ لوگوں کی رہائی انہیں تکلیف پہنچاتی ہے۔
جو لوگ لاپتہ ہوجاتے ہیں، ان کی گمشدگی کی تکلیف صرف ان کے خاندان والوں کوہوتا ہے، باقی لوگ اپنے اپنے مفاد کے لئے ان لوگوں کو بطورپوسٹر استعمال کرتے ہیں۔ اب جب گمشدہ لوگ بڑی تعداد میں واپس آرہے ہیں تو یہ زمہ داری انہی خاندانوں کی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو دوبارہ متشدد گروہوں کے ساتھ شامل ہونے سے روکیں۔ لواحقین اگرچہ میڈیا کے سامنے یہ بات نہیں مانتے لیکن اپنے دل سے بخوبی جانتے ہیں کہ بیشتر لاپتہ افراد کسی نہ کسی غیرقانونی سرگرمئ میں ملوث تھے اسی لئے وہ گمشدہ ہو گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور سب سے زیادہ گمشدہ افراد کے لواحقین کی زمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی بازیابی کے بعد ان کو دوبارہ ایسے گروہوں کا حصہ بننے سے روکیں۔ لاپتہ افراد کے مسئلے کا واحد حل بلوچستان میں امن سے مشروط ہے، اگر لوگ شدت پسندوں کو مکمل طور پر رد کردیں اور امن کا ساتھ دیں تو یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ لاپتہ افراد کا معاملہ بھی مکمل طور پر ختم ہوجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں