بلوچوں کی بے قیمت خون

تحریر/ دلجان ہوت
خبر یہ ہے کہ گزشتہ روز تربت کے بھرے بازار میں ایک دھماکہ ہو گیا اور اس کے نتیجے میں متعدد عام شہری زخمی ہو گئے۔ یہ تمام شہری مقامی لوگ ہی تھے۔ اسی خبر سے متعلق دوسری خبر یہ ہے کہ آبسر میں ہونے والے دھماکے خلاف عوام نے احتجاجاََ دکانیں بند کیں اور زمہ داروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ لیکن افسوس اور حیرانی کی بات ہے کہ بلوچستان کی سیاسی پارٹیاں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سوشل میڈیا میں متحرک ارکان ان واقعات پر بالکل خاموش ہیں۔
یہ پہلا واقعہ نہیں کہ بلوچستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر بلوچستان کی حقوق کے دعوے دار تنظیموں کے ہاتھوں لہو لہان ہو جاتا ہے۔ جب سے بلوچستان میں شدت پسندی کئ تحریک شروع ہوئی ہے، بلوچستان کے دوسرے شہروں کی طرح شدت پسندوں نے کیچ کا بدن بھی چلنی کردیا ہے۔ اس شہر نے درجنوں بمب دھماکے دیکھے ہیں، نیشنل پارٹی کی دفتر پر بمب حملہ دیکھا ہے اور کئی معصوم بلوچوں کی ٹارگٹ کلنگ دیکھی ہے۔ لیکن یہ خونی سلسلہ ہے کہ رُکنے کا نام نہیں کے رہا۔ جب بھی ان شدت پسندوں کو موقع ملتا ہے یہ عوامی مقامات کو نشانہ بنا کر خوف و حراس کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات سوچنے کی ہے کہ جو لوگ شدت پسندی کا حصہ ہیں، وہ کیوں بلوچستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ تشدد کرنے والے اور تشدد کے حمایتی بلوچستان کے خیرخواہ نہیں ہیں۔ بلوچستان میں شدت پسندی کا فائدہ صرف وہ قوتیں اُٹھا رہے ہیں جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ بلوچستان کی آزادی کے دعوے دار آزاد بلوچستان نہیں چاہتے بلکہ اس نعرے کو ذریعہ بنا کر اُن قوتوں کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں جو اس خطے کو کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔
جو عالمی طاقتوں کا کھیل ہے وہ کھلاڑی اور چال بدل بدل کر اپنا کھیل کھیلتے رہیں گے، لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان کے عوام کا خون کب تک استعمال ہوگا۔ یہ سوال بلوچستان کے ہر فرد کو خود سے پوچھنا چاہئے کہ وہ کب تک یونہی لاوارث بن کر غیروں کی جنگ میں اپنوں کے ہاتھوں موت کا شکار ہوتے رہیں گے۔ جیسا کہ تربت واقعہ کے ردعمل میں انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں کی خاموشی یہ واضح کررہی ہے کہ یہ تنظیمیں اصل میں امن نہیں چاہتے اور نہ ہی انسانی حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں، بلکہ اس نعرے کو استعمال کر پس پردہ مسلح شدت پسندی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس دوغلی پالیسی اور منافقانہ رویے کے بعد اب اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ بلوچستان کی موجودہ نسل کو اپنی سیاسی جماعتوں، نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں اور مگرمچھ کے آنسو بہانے والے لیڈر شہ سے نکل کر اپنی مستقبل کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا تاکہ آئندہ کوئی خودمختارئ اور علیحدگی کے نام پر بلوچوں کا خون نہ بہا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں