زمینی حقائق اور مستقبل کا بلوچستان

تحریر/ دلجان ہوت

جو تحریک بلوچستان کی آزادی کے لئے شروع کی گئی تھی، وہ نہ حالات سے مطابقت رکھتی تھی نہ ہی زمینی حقائق کے مطابق تھی۔ لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کے مطالبات کو بدل کر علیحدگی اور آزادی کے مطالبے میں تبدیل کرنے نے وقتی طور پر اگرچہ بلوچستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، لیکن جلد ہی یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ بلوچستان کی آزادی یا علیحدگی کے لئے مسلح شدت پسندی عوامی مطالبے کا حصہ نہیں تھا بلکہ چند مخصوص گروہوں کی سیاسی نابلدی اور عالمی کھلاڑیوں کی سازشوں کا حصہ بننے کی شوق نے بلوچستان کے نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم چھین کر تلوار دے دیا۔ اس ناعاقبت اندیش گروہ نے وہ شور مچایا کہ اس شور کے نیچے ساری سنجیدہ آوازیں دب گئیں۔ جو لوگ اس شدت پسندی سے انکاری تھے اور بلوچستان کے مسائل کا حل آئین کے اندر رہ کر حل کرنے پر زور دے رہے تھے وہ ایک ایک کرکے مولا بخش دشتی اور دیگر سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی طرح راستے سے ہٹائے گئے۔ سیاسی کارکنوں اور سنجیدہ سوچ رکھنے والے نوجوانوں کی قتل کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ آج بلوچستان میں لیڈر شپ کا بحران ہے۔ اس بحران کو نہ کوئی مسلح تنظیموں کا حامی بھر سکتا ہے اور نہ ہی موجودہ مفاد پرست پارلیمانی جماعتیں اس بحران کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ اس خلا کو نئی لیڈر شپ ہی بھر سکتا ہے جو تشدد اور علیحدگی کی نعروں کی مخالفت کر سکے اور لوگوں کے اُن مسائل کو حل کرنے پر توجہ دے جن کا تعلق لوگوں کی روز مرہ زندگی سے ہے۔
یہ بات شروع سے ہی طے تھی کہ ریاست کے خلاف بندوق اُٹھانے کا انجام سوائے نقصان و تباہی کے کچھ نہیں۔ آزادی کے خوشنما نعرے کو لیکر جن تنگ نظروں کو مسند رہبری پر بٹھایا گیا، وہ نہ بلوچوں کی نفسیات سے واقف تھے اور نہ ہی زمینی حقائق کا ادراک رکھتے تھے۔ قبائلی نفسیات، زد اور انا کی بُنیاد پر پالیسی بنانے والوں نے ہزاروں بلوچوں کو اپنی بے لگام بندوق کا نشانہ بنایا۔ ان بے گُناہوں کی قتل کو قومی دشمن، ایجنٹ اور دیگر ایسے القاب سے جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی جو سرے سے ہی غلط تھے۔ یہ اختیار کسی مسلح گروہ کے پاس نہیں کہ وہ لوگوں کی رائے یا اُن کی مرضی کے اندر مداخلت کرے۔ خصوصاََ اب جب ان تنظیموں کے اپنے لیڈر و ارکان سینکڑوں کی تعداد میں اپنے اسلحہ رکھ کر پرامن زندگی گزارنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو ان تنظیموں کے پاس یہ جواز نہیں بچتا کہ وہ لوگوں ذاتی رائے کے اندر مداخلت کریں۔ بلوچستان کی صورت حال اب یہ واضح کررہی ہے کہ ہارے ہوئے گروہ وقتاََ فوقتاََ کہیں کوئی بدامنی کا واقعہ سرانجام دے کر اسی واقعے کے سہارے زندہ رہنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن، حقیقت یہ ہے کہ بدامنی پھیلانے والے گروہوں اور تحریک چلانے والے نظریاتی لوگوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ جو تحریک تشدد کی حمایت اور تقسیم کا حامی ہو وہ سوائے نقصان اور تباہی کے اور کچھ نہیں دے سکتا۔
جیسا کہ اب ہر زاویے سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ مسلح شدت پسندی ایک ناکام نظریہ تھا اور اس نظریے کی بھاری قیمت بلوچستان کے عوام نے ادا کی ہے۔ جن لوگوں کےاپنے خاندان اور اپنا کاروبار بیرون ملک ہے وہ بلوچستان میں امن کے خواہاں نہیں ہیں۔ وہ مسلح تنظیموں کے جرائم پر پردہ ڈال کر ان تنظیموں کی غلطیوں کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بلوچستان میں رہنے والے لوگ جانتے ہیں کہ جب تشدد تمام نظریات پر حاوی ہوجاتی ہے تو کس قدر عام لوگوں کا نقصان ہوجاتا ہے۔ آج بلوچستان کے حالات مطالبہ کررہے ہیں کہ نوجوان نسل خود آگے بڑھ کر اپنی قسمت کا فیصلہ اپنے ہاتھوں میں لے لے۔ دنیا میں بالعموم اور ہمارے ہمسائے میں باالخصوص جو تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، ان کا حصہ بن کر اور بلوچستان سے شدت پسندی کا خاتمہ کر کے ہی یہاں ترقی کے در وا کیے جا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں