بلوچستان بدل سکتا ہے!

تحریر: دلجان ہوت
بلوچستان پاکستان کی وہ بدقسمت اکائی ہے کہ یہاں کے عوام ہزار ہا وسائل کے باوجود مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ ان مسائل کی موجودگی کو بلوچستان کی نام نہاد لیڈران نے حل کرنے کے بجائے عوام کو مزید پھنسانے اور گمراہ کرنے کے لئے ہر وقت استعمال کیا۔ ان لیڈران نے کبھی بھی حالات کی حقائق کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اپنی تنگ نظری اور انا کے ہاتھوں مجبور ان لیڈران نے عوام کو بند گلی میں دھکیل دیا۔ آج بھی مختلف گروہ مختلف ناموں اور نظریوں سے بلوچستان کے لوگوں کو اپنے مقاصد کےلئے استعمال کررہے ہیں۔ پارلیمانی جماعتوں سے لیکر انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں تک، کسی گروہ نے بھی بلوچستان کے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کہ بلکہ بنیادی مسائل کو استحصال کہہ کر لوگوں کو مایوسی اور نا امیدی کا شکار کیا۔
بلوچستان کے نوجوان شعور یافتہ اور اپنے لوگوں کے لئے کچھ کرنے کے جزبے سے بھرپور ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس جزبے کی صحیح رہنمائی نہیں کی گئی اور ان نوجوانوں کو تاریک راہوں میں قتل کروایا گیا۔ نوجوانوں کو بے موت مارنے اور بلوچستان کو بدامنی کی آماجگاہ بنانے کا جو سلسلہ دو دہائیوں قبل شروع ہوا تھا، آج اگرچہ اس کی شدت میں کمی آئی ہے لیکن یہ سلسلہ ابھی تک مکمل طور پر رُکا ہوا نہیں ہے۔ حال ہی میں بلوچستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر تربت میں ایک ہفتے کے دوران دوسرے دھماکے سے جو عام لوگ زخمی ہوئے ہیں، یہ واقعہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ جن لوگوں نے بلوچستان کو بدامنی کا شکار بنایا ہے وہ ابھی بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کو تیار نہیں بلکہ وہ تمام بلوچوں کی زندگیوں کے درپے ہیں، جیسا کہ انکے بیانات “خون کے آخری قطرے تک لڑنے” سے ظاہر ہے۔
بلوچستان میں اب بھی سنجیدہ لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ لوگ نہ سرداروں کی جبر کے سامنے زیر ہوتے ہیں اور نہ ہی علیحدگی پسندوں کی غداری کے فتوے ان لوگوں کو حقیقت کے اظہار سے روک سکتے ہیں۔ آج وقت و حالات کا تقاضا یہی ہے کہ یہ سنجیدہ طبقہ بلوچ عوام کی رہنمائی کے لئے آگے آئے۔ قوموں کو قدرتی وسائل ترقی نہیں دے سکتے بلکہ انسانی عقل و دانش کا استعمال ہی بُرے وقتوں کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ آج اگر بلوچستان میں امن قائم ہو اور تعلیم عام ہو تو بلوچستان کے لوگوں کو ترقی کے لئے زمین کے اندر چھپے وسائل کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند لوگ خود زندگی کی تمام ضروریات کوپورا کرنے کا اہل ہوں گے۔ لیکن اس انقلاب کے لئے سب سے بُنیادی شرط شدت پسندی کا خاتمہ اور بلوچستان میں امن و امان کا قیام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں