سوشل میڈیا کے زومبیز

تحریر: ھنین جان
پاکستان میں ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بات کرنا ایک طبقے کے لئے فیشن بن چکا ہے۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی مختلف مفاد اور دلچسپیاں ہیں۔ کچھ بیرونی ویزے کے لئے، کچھ سستی شہرت کے لئے اور کچھ عالمی سازشوں کا حصہ بن کر “حسبِ توفیق” ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں۔ ان لوگوں نے عوام کی یادداشت کو اس حد تک کھوٹا سمجھا ہوا ہے کہ ہر مہینہ ڈیڑھ مہینے کے بعد نئے نظریوں اور تھیوریوں کے ساتھ پروپگنڈہ میں مشغول ہوجاتے ہیں اور اپنی پُرانی باتوں کو بھول جاتے ہیں۔ یہ لوگ خود کو سیکیولر اور لبرل مانتے ہیں لیکن جب مولانا فضل رحمٰن جیسا مذہبی لیڈر ریاستی اداروں کے خلاف بات کرے تو ان لبرلز کا قبلہ و کعبہ بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اپنے مفادات کے لئے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون جیسے مفاد پرست جماعتیں ریاستی اداروں کے خلاف بولنے لگےتو ان زومبیز نے مریم اور بلاول کو مسیحا کا درجہ دینے کی کوشش کی۔ لیکن ان مسیحاؤں کے یہاں نعرہ و نظریے کا مقصد کسی کی خدمت نہیں بلکہ لوگوں کو دھوکے میں رکھنا ہے۔ آج جب پیپلز پارٹی نے اپنے مفادات حاصل کیے ہیں تو وہ پی ڈی ایم کے اتحاد سے علیحدہ ہونے کے راستے تلاش کررہی ہے، کل جب نوازشریف کے کیسز ختم کیے جائیں تو نون لیگ کے انقلابی غبارے سے ہوا بھی ختم ہوجائیں گے۔ اسی طرح مولانا بھی وفاقی کابینہ میں ایک سیٹ ملنے پر حکومتِ وقت کی تعریفوں کے قلابے باندھنے پر راضی ہوجاتی ہے، جیسا کہ ماضی میں یہ سب کچھ بارہا دیکھا جا چکا ہے۔ لیکن اس تمام شور و غوغا میں نام نہاد لبرلز اور ترقی پسندی کی آڑ میں متحرک پروپگنڈہ گروپ نے حتی الوسع کوشش کی ہے کہ وہ ریاست کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرے۔ اب بھی ہر واقعے کو بُنیاد بنا کر وہ اسی کوشش میں ہیں کہ لوگوں کو ریاست کے سیکیورٹی اداروں سے بدظن کیا جائے۔
ایسے لوگ سوشل میڈیا کے زومبیز ہیں، جنہیں خون کی لت لگ چُکی ہے۔ یہ زومبیز لوگوں کو گمراہ کرکے ریاست کے خلاف اُکساتے ہیں اور تشدد کے راستے میں مرواتے ہیں۔ جب کوئی شخص تشدد پسندی کے الزام میں گرفتار ہوجائے یا کسی جوابی کاروائی میں قتل ہوجائے تو یہ زومبیز یک آواز ہوکر ریاست کے خلاف پروپگنڈہ کرتے ہیں۔ بلوچستان میں نام نہاد آزادی پسند اور خیبرپختونخواہ کے قبائلی علاقوں میں پی ٹی ایم ان زومبیز کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے ہیں۔ وقاص احمد گورایا، طارق فتح اور چند دوسرے لوگ سوشل میڈیا میں ہر اُس عمل اور بات کو پروموٹ کرتے ہیں جو ریاست کے مخالف ہو، اپنی بات کو پُر اَثر بنانے کے لئے یہ لوگ بلوچوں اور پختونوں کے ایک مخصوص طبقے کے کاندھے کا استعمال کررہے ہیں۔ طارق فتح اور وقاص گورایا کو انسانی حقوق کارکن کہنا انسانی حقوق کی توہین ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے انسانوں کی زندگیوں پر تو مکمل خاموش ہیں لیکن جب کوئی شدت پسند مارا جائے تو ان لوگوں کی انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ اس کو معصوم شہری ثابت کیا جائے۔
مختصر یہ کہ سوشل میڈیا کے ان زومبیز کو خون کی ضرورت ہے۔ جب کوئی شخص ریاست مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے مارا جائے یا گرفتار ہوجائے تو یہ لوگ برساتی مینڈکوں کی طرح شور مچانا شروع کرتے ہیں۔ ان کے اس شور کا مقصد انسانی حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ اُس ریاست مخالف ایجنڈے کا حصہ ہے جس کی قیمت یہ لوگ بیرونی ممالک سے وصول کرتے ہیں۔ پاکستان کے اندر رہنے والے بلوچ، پشتون، سندھی، پنجابی یا کوئی بھی دوسرا قوم ہو، وہ یہ بات جان لے کہ ایسے لوگ جو لوگوں کو تشدد پر اُکساتے ہوں اور ریاست مخالف سرگرمیوں کا حصہ بننے پر مجبور کرتے ہوں، وہ کسی کے خیرخواہ نہیں ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں