خلیل موسیٰ اور اللہ نذر کے درمیان دشمنی: مکافاتِ عمل

تحریر: ھنین جان

آج اگر مسلح مذاحمتی تحریک کے لیڈران کا آپسی چپقلش اور دشمنی زُبان زد عام ہے تو یہ نہ کوئی حیرانی کی بات ہے اور نہ ہی کوئی انہونی واقعہ ہوا ہے۔ اس تحریک کے چند لیڈران تو پیدائشی نواب زادے ہیں اور باقی مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والوں نے اپنا رویہ اور طرز زندگی نوابوں جیسا بنایا ہے۔ جب ایک شخص مسند نوابی پر بیٹھ گیا تو اُسے باقی سب لوگ انسان نہیں بلکہ رعایا نظر آنے لگتے ہیں، اور یہ نواب اس بات کو اپنا صوابدید سمجھتے ہیں کہ وہ رعایا پر کرم کریں جبر کریں۔ یہ سوچ صرف قبائلی معاملات تک محدود نہیں بلکہ اگر ایسے نواب زادے سیاست میں بھی شامل ہوجائیں تو اُن کا خیال یہی ہوتا ہے کہ اُن کی بات پتھر کی لکیر ہے، جسے نہ دوسرا کوئی شخص رد کر سکتا ہے اور نہ ہی مٹا سکتا ہے۔ اس ذہنیت کو مد نظر رکھ دور اندیش لوگوں کو پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ بلوچستان میں جو مسلح تحریک شروع کی گئی ہے، اس کا انجام سوائے آپسی دشمنی، تقسیم اور انتشار کے اور کچھ نہیں نکلنے والا ہے۔ حیربیار مری اور براہمداغ کی دشمنی، مہران اور حیربیار کے درمیان زد اور عناد اور ڈاکٹر اللہ نذر کی ان سب سے دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ ان تنظیموں نے ایک دوسرے کے راستوں پر بمب بھی بچھائے ہیں اور ایک دوسرے کے ممبران کو قتل بھی کیا ہے۔
ان تنظیموں کی آپسی دشمنی کوئی انہونی بات نہیں اور نہ ہی ان کا اپنے ارکان کو قتل کرنے کے واقعات نئے ہیں۔ لیکن البتہ ڈاکٹر اللہ نذر کی تنظیم کے اندر جو اندرونی رسہ کشی جاری ہے، وہ قدرے مختلف اور اہم ہے۔ حالیہ چند دنوں سے یہ باتیں گردش کررہی ہیں کہ ڈاکٹر اللہ نذر نے خلیل موسیٰ کو تنظیم سے نکال دیا ہے۔ خلیل موسیٰ شروع سے ہی ڈاکٹر کا قریبی رہا ہے۔ غلام محمد کی موت کے بعد جب عصا ظفر بی این ایم کے چئیرمیں بن گئے تو ڈاکٹر نے اُسے دھمکی دے کر اور اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے خلیل کو چئیرمین بنوایا۔ بلوچستان میں پُرامن سیاست کی تابوت میں آخری کیل ٹوکتے ہوئے ڈاکٹر نے خلیل کو چئیرمین بنانے کے بعد بی ایل ایف کی ہائی کمان میں موسیٰ کے نام سے شامل کروایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب بیرونی ایجنسیز کی مداخلت ان تنظیموں کے اندر بڑھ گئی تو ان کے لیڈران میں بھی طاقت اور دولت کی لالچ میں اضافہ ہوا۔ خلیل موسیٰ نے ڈاکٹر کی تنظیم کے اُن کمانڈرز کو ایک ایک کرکے قتل کروانا شروع کیا جو ڈاکٹر کے وفادار تھے۔ فضل حیدر، کمانڈر خلیل ساچان اور بی بی گُل کی دونوں بھائیوں کو موسیٰ نے قتل کردیا۔ یہ واقعات اُس وقت ہوئے جب ڈاکٹر کے لئے بلوچستان کی زمین تنگ ہورہی تھی اور وہ باہر جانے کے راستے ڈھونڈ رہا تھا۔ ڈاکٹر جانتے تھے کہ اُن کے باہر جانے کا بندوبست اپنے رابطوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صرف خلیل موسیٰ ہی کر سکتا ہے، اسی مصلحت کی بنا پر اللہ نذر خاموش رہے۔ جب ڈاکٹر کے باہر جانے کا بندوبست ہوگیا، تو خلیل کی جگہ عابد زامرانی کو ڈاکٹر اللہ نذر مکران میں کمانڈر بنانا چاہ رہا تھا لیکن اُسے ایران میں ہی پُر اسرار حالات میں قتل کردیا گیا۔ اب اطلاعات یہ ہیں کہ ڈاکٹر کے ایک اور قریبی ساتھی سکندر کو خلیل نے افغانستان میں قتل کروایا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر نے خلیل موسیٰ کو اپنی تنظیم سے نکال دیا ہے۔ لیکن یہ واقعہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ ان تنظیموں نے بلوچستان میں جو بیگناہ قتل کئے ہیں، اب مکافاتِ عمل بدلہ لے رہی ہے۔ امن اور ترقی اور خوشحالی بلوچستان کا مقدر ہے۔ اب جب ان شدت پسند تنظیموں کے اندر پھوٹ پڑھ چکی ہے اور بلوچستان کے عوام پہلے سے ہی ان کا بائیکاٹ کر چکے ہیں تو یہ امید کی جا سکتی ہے کہ جلد ہی بلوچستان میں شدت پسندی ایک قصہ بن کر رہ جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں