گوادر دھماکہ، مقاصد کیا ہیں؟

تحریر: دلجان ہوت
اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ بلوچستان میں آزادی کے نام پر جو شدت پسندی شروع کی جا چکی تھی، اب اس کے لیڈران مکمل طور پر بیرونی آلہ کار کے طور پر کام کررہے ہیں۔ سینکڑوں نوجوانوں کو بندوق ہاتھ میں دیکر مارنے والے ایک ایسے مقصد کے پیچھے لگے ہیں جس کا بلوچستان کے عوام کی بہتری سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ بلوچستان کی پسماندگی کے سب سے بڑا زمہ دار یہاں کے لیڈران ہیں جنہوں نے اپنے مفادات کے لئے یہاں کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا اور نہ ہی سرمایہ کار کمپنیوں کو یہاں قبول کیا، کیوں کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے معاشی خوشحالی آئے گی اور عام لوگ اپنے سردار اور منسٹر کا محتاج نہیں رہیں گے۔ لوگوں کی معاشی آزادی کے خوف سے بلوچستان کی بیشتر لیڈران نے سرمایہ کاروں کے خلاف نہ صرف پروپگنڈہ کیا بلکہ ان کو ناکام کرنے کے لئے ہر دستیاب ذریعے کو بھی استعمال کیا۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور قسمت بدلنے والی ایک سرمایہ کاری ہے۔ اس منصوبے کا مرکز بلوچستان ہے۔ جب یہ منصوبہ بلوچستان سے شروع ہو کر پاکستان کے تمام صوبوں کو آپس میں مربوط کرے گا تو لامحالہ طور پر بلوچستان کے لوگوں کی معاشی حالت میں بہتری آئے گی۔ سی پیک منصوبے کے تحت بلوچستان میں جو شاہراہیں بن گئی ہیں اور جو بن رہے ہیں، اس کا فائدہ کسی اور کو ہو نہ ہو، بلوچستان کے عوام کو ایسے منصوبے براہ راست فائدہ پہنچاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ منصوبے بلوچستان کے عوام کی فائدے کے لئے ہیں اور عوام کا مطالبہ بھی انہی بنیادی سہولیات کا ہے، تو کیوں بلوچوں کی حقوق کے علمبردار ان منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بلوچوں کے حقوق کی جنگ اصل میں حقوق کی جنگ نہیں بلکہ بیرونی طاقتوں کی پراکسی جنگ ہے۔ اس تشدد کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر غیر محکم کرنا اور یہاں ہونے والی عالمی سرمایہ کاری کو ناکام بنانا ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ پاکستان میں چائنا کی سرمایہ کاری سے سب سے زیادہ خوف اور خطرہ انڈیا کو ہے۔ انڈین ایجنسیز کے نمائندے سرعام یہ کہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں ایسے منصوبوں کو ناکام کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ چند روز پہلے داسو ڈیم پر کام کرنے والے چائنیز انجینئرز پر حملہ اور کل گوادر میں چائنیز پر حملہ انڈیا کے انہی عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔
افسوس لیکن اس بات پر ہوتا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو بیرونی آقاؤں کی ایما پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جو نوجوان پڑھ لکھ کر اس قوم کے لئے بہتر کردار ادا کرسکتے تھے، انہیں تاریک راہوں میں بھیج کر اُن ممالک کی مفاد کے لئے استعمال کررہا ہے جنہیں نہ ہماری ترقی راس آتی ہے اور نہ ہی ہمارا متحد ہونا۔ گوادر میں ہونے والا کل کا حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ نام نہاد آزادی پسند بلوچ لیڈر شپ اب انڈین مفادات کی تحفظ کا آخری ذریعہ بن چکا ہے۔ لیکن افغانستان میں انڈیا کی کھربوں کی سرمایہ کاری اور افغانستان میں رہ کر چابہار پورٹ کی سرمایہ کاری جب راتوں رات ڈوب گئی تو بیرون ممالک بیٹھے چند لوگ بلوچستان کو انڈین پراکسی گروہوں کی جنت نہیں بنا سکیں گے۔ بلکہ بلوچستان کے عوام تمام مشکلات کے باوجود ایسے تمام منصوبوں کو کامیاب بنائے گیں جو ان کے مفاد میں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں