بلوچستان کے نوجوانوں کے نام

بلوچستان کے نوجوانوں کے نام
تحریر: رحمین بلوچ

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بلوچستان پر ماضی کی تمام حکومتوں سمیت موجودہ حکومت نے کوئی خاص توجہ نہیں دیا ہے۔ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے بیشتر ممبران عوام کی مرضی سے نہیں بلکہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر آتے ہیں اور پھر کرپشن کا بازار گرم رکھتے ہیں۔ ان کے پاس ایسی کوئی پالیسی نہیں ہوتی جو بلوچستان کے وسائل کو بلوچستان کے عوام کی بہتری کے لئے استعمال کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان پاکستان کے باقی صوبوں کی نسبت نہ صرف معاشی اور ترقی کے حوالے سے سب سے پیچھے ہے بلکہ نظام تعلیم اور دوسرے شعبے بھی ابتری اور بدحالی کا شکار ہیں۔ اس پسماندگی کا زمہ دار بنیادی طور پرکوئی اور طاقت نہیں بلکہ بلوچستان کے اپنے ہی لئڈران ہیں جو اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں، کرپشن کرکے بیرون اور اندرون ملک جائداد بناتے ہیں۔ لیکن جب ان لوگوں سے یہ سوال کیا جائے کہ انہوں نے عوام کے لئے کیا کیا ہے تو بجائے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے، وہ الزام ریاست پر ڈال دیتے ہیں۔ پچھلے کئی دہائیوں سے بلوچستان کے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے بلوچستان کے ناعاقبت اندیش لیڈران اسی طرح کی بے دلیل باتوں کا سہارا لیکر عوام اور خاص طور پر نوجوانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ تاکہ بلوچستان میں ایک ایسا ماحول پیدا ہو جہاں نئی قیادت کو سر اُٹھانے کا موقع ہی نہ ملے۔
بدقسمتی سے بلوچستان میں انتشار کی ماحول پیدا کرکے نام نہاد لیڈران اپنے مقاصد میں کامیاب ہو چکے ہیں اور اس انتشار کا الزام بھی ان کے سر نہیں ہے۔ کمال مہارت اور ہوشیاری سے انہوں نے سارا الزام ریاست کے اداروں پر ڈال دیا ہے۔ تشدد اور شدت پسندی کا ماحول انہی لوگوں نے بلوچستان میں پروان چڑھایا، نوجوانوں کو کالجوں کے بجائے پہاڑوں پر جانے کی ترغیب بھی انہوں نے دی۔ یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ تشدد اپنے ساتھ تمام برائیاں لے آتی ہے۔ مسنگ پرسنز کا معاملہ ہو، غربت و پسماندگی ہو یا دوسرے واقعات ہوں، یہ سب اسی تشدد کی سیاست کے اسباب ہیں لیکن ان پر کوئی بات نہیں کرتا۔ موقع پرست لیڈران نے نوجوانوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا اور خود یا تو اسمبلی میں بیٹھے ہیں یا باہر ملکوں میں آرام سے رہ رہے ہیں۔ جن نوجوانوں کو اپنا سارا توجہ تعلیم پر دینا چاہیے تھا، وہ آئے روز پریس کلبوں یا شاہراہوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ کالج یونیورسٹیوں کے طلباء جب تعلیم کے بجائے احتجاج پر زور دیتے ہیں تو اصل میں وہ اپنا اور اپنی قوم کا نقصان کررہے ہوتے ہیں، حالانکہ جن مسائل پر نوجوان احتجاج کرتے ہیں، وہ بیشتر ایسے بنیادی مسائل ہوتے ہیں جنہیں بہ آسانی حل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ مسئلے حل اس لئے نہیں ہوتے کہ بلوچستان کے تمام لیڈران، خاص طور پر پارلیمنٹ کے ممبران یہی چاہتے ہیں کہ کوئی متبادل لیڈر پیدا نہ ہو، نوجوان اسی طرح مختلف گروہوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہیں تاکہ ان لیڈران کی موروثی سیاست کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

بلوچستان کے نوجوان خود اس بات کے گواہ ہوں گے کہ کوئی معاملہ ان پارٹیوں یا لیڈران کے ذریعے حل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی نام نہاد علیحدگی پسند کسی مسئلے کا حل ہیں۔ جو پروپگنڈہ ریاست کے خلاف کیا جاتا ہے، اس پروپگنڈے کا سارا مقصد ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا ہے تاکہ عوام اور نوجوانوں کو ریاست سے بدظن کرکے ان کو استعمال کیا جا سکے۔ بلوچستان کے نوجوان طبقے کو چاہئے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔ موجودہ دور شدت پسندی اور جزباتی ہونے کا نہیں بلکہ حقیقت پسندی پر مبنی منصوبے ہی بلوچستان کو موجودہ مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ بلوچ نوجوان ایک ایسا متبادل لیڈرشپ پیدا کریں جو شدت پسندی کے نعرے کو مسترد کرے اور عوام کے اندر علم و ترقی کے حوالے سے پیدا کرے۔ یہ کام کوئی آسمانی مخلوق نہیں کر سکتا بلکہ بلوچستان کے عوام کو نہ ختم ہونے والے مشکلات سے نکالنے کے لئے بلوچستان کے نوجوانوں کو ہی یہ قدم اُٹھانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں