پراکسی گروہیں اور ففتھ جنریشن وار فئیر

تحریر: دلجان ہوت
جنگیں اب باقاعدہ فورسز کے ذریعے نہیں بلکہ پراکسیز کا سہارا لیکر لڑی جا رہی ہیں۔ روایتی جنگوں کے مالی و جانی نقصانات کو پراکسی گروہوں کے استعمال نے اس حد تک گھٹا دیا ہے کہ مخالف ممالک ایسی گروہوں کو مالئ مدد فراہم کرکے اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ مخالف ممالک ایسے گروہوں کو مدد فراہم کرتے ہیں جو ریاست مخالف ہوں اور بدامنی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے پر یقین رکھتے ہوں۔ ففتھ جنریشن وار فئیر بھی آج کی جنگوں کا ایک اہم حصہ ہے جو کہ پراکسی وار سے منسلک ہے۔ یعنی پراکسی گروہوں کے ذریعے دہشتگردی پھیلاؤ، جب متاثر ممالک دہشتگردی کے خلاف کاروائیاں کریں تو اِن کاروائیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں قرار دو اور ففتھ جنریشن وار کے تحت ممالک کے خلاف پروپگنڈہ کرو۔ اس طرح پراکسی گروہ اور ففتھ جنریشن وار ایک خونی دائرہ بناتے ہیں، اس دائرے کو توڑنا بہت مشکل اور صبر طلب کام ہے۔
اس تمہید کو مد نظر رکھتے ہوئے اب بلوچستان کے نام نہاد تشدد پسند قوم پرستوں کی کاروائیوں اور انڈیا کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا تجزیہ کی جائے تو ان کے آپس میں تعلقات کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ خصوصاََ مودی گورنمنٹ نے سرکاری سطح پر بلوچستان کا نام لیکر جس طرح اپنے عزائم کا اظہار کیا ہے وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اصل میں انڈیا کی ایماء اور مرضی سے ہورہا ہے۔ بلوچستان کی آزادی کے دعوے دار دعوی تو انسانی حقوق کی پاسداری اور جنگی قوانین کی پابندی کا کرتے ہیں لیکن ان کی کاروائیاں عام اور نہتے عوام کے خلاف ہی ہوتے ہیں۔ پہلے بلوچستان میں بے گناہ لوگ نشانہ بن رہے تھے۔ بلوچستان میں میڈیا کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ایسے واقعات کم ہی رپورٹ ہوتے ہیں۔ جب واقعات میڈیا میں جگہ نہ بنا پائیں تو ففتھ جنریشن وار چلانے والوں کو پروپگنڈہ کے لئے مواد نہیں ملتا، اسی لئے ان تنظیموں نے اب دہشتگردانہ کاروائیوں کے لئے شہروں کا رخ کیا ہے تاکہ میڈیا میں ایسی کاروائیاں بحث ہوں اور پروپگنڈہ چلتا رہے۔
لاہور واقعہ کے بعد بلوچستان کے سنجیدہ طبقات نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ یہاں تک کہ اس واقعے نے یہ بھی واضح کردیا کہ ان تنظیموں کا آپس میں کس قدر اختلاف ہے۔ باہر بیٹھے بہت سے لوگوں نے کھل کر اس کاروائی کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا۔ لیکن اس واقعے کے فوراََ بعد سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر انڈیا سے کئی ایسے کردار اس واقعے کی حمایت میں سامنے آگئے جو پاکستان اور اسلام دشمنی میں سب سے آگے ہیں۔ نیوز انٹرونشن کے نام سے بننے والی ایک غیر معروف ویب سائٹ نے رپورٹس شائع کیے اور ٹیوٹر میں سپیس کا انعقاد کیا۔ وہاں چند ایسے لوگوں کو بات کرنے کی اجازت تھی جو باہر بیٹھ کر جعلی اکاؤنٹ چلا رہے تھے۔ انہیں جعلی لوگوں کے ذریعے اس واقعے کی حمایت کرانے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ بلوچستان کے لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام نے ان تنظیموں کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ لاہور واقعے کی زمہ داری قبول کرنے والی تنظیم کے انضمام کی خبریں بھی سب سے پہلے انڈین سوشل میڈیا سے سامنے آگئیں۔ یعنی کہ چھوٹے چھوٹے گروہوں کو یکجا کرکے اور انہیں امداد فراہم کرکے اس قابل بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ پاکستان میں بدامنی کی فضا پیدا کرسکیں۔
سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ چند ایسی تنظیمیں جو انسانی حقوق کے دفاع کا دعوی کرتی ہیں لیکن وہ نہتے لوگوں کی قتل پر خاموش ہیں۔ جب لاہور میں دھماکہ ہوا تو ان تنظیموں نے خاموشی اختیار کی لیکن جب مشتبہ شخص گرفتار ہونے لگے تو انہوں نے شور مچانا شروع کیا۔ اس منافقت نے بلوچستان کو آگ کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس منافقت کی پالیسی کو اب ختم ہونا چاہیے۔ دوسری طرف پنجاب حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ بلوچستان حکومت سے رابطہ قائم کرکے ملوث ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کرے اور اس واقعے کو لیکر عام لوگوں کو حراساں نہ کرے، کیوں کہ لاہور میں کاروائی کرنے کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ پولیس کے ہاتھوں وہاں پڑھنے والے بلوچ زیرعتاب ہوں اور مایوس ہوکر اپنی پڑھائی چھوڑیں تاکہ مایوس نوجوانوں کو غلط ہاتھ استعمال کرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں