کیا تشدد نتائج حاصل کر پائے گا؟

تحریر: دلجان ہوت
یہ دور پروپگنڈے کا ہے اور پروپگنڈہ پھیلانے کے لئے ایسے واقعات برپا کئے جاتے ہیں کہ جنہیں بنیاد بنا کر پروپگنڈہ کیا جاسکے۔ بدقسمتی سے بلوچستان کی مفاد پرست سیاستدانوں نے پیچیدہ سماجی ڈھانچے کو سمجھے بغیر لوگوں کو ایک ایسی صورت حال سے دوچار کیا ہے کہ اس صورت حال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے بہت سی طاقتیں سرگرم ہیں۔ پاکستان کو ہزار زخم لگانے کی خواہش دل میں لئے مشرقی ہمسایہ ازل سے ایسے مواقع کی تلاش میں ہے جنہیں وہ پاکستان کے خلاف استعمال کرسکے۔ بلوچستان کی مخصوص صورت حال نے اسے موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو اس جانب موڑ دے اور بلوچستان کو استعمال کرکے پاکستان کو اندر سے کمزور کر سکے۔
لیکن عالمی طاقتوں کے اس توازن کی جنگ میں بلوچوں کو بطور ایندھن استعمال کرکے بلوچ لیڈران کیا چاہتے ہیں؟ اگر حالیہ واقعات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ ان واقعات کو لیکر سوشل میڈیا اور بیرونی میڈیا نے جس طرح پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور ثابت کرنے کی کوشش کی، وہ اسی موقع کا منتظر تھے کہ کب کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جسے بنیاد بنا کر انکے پروپگنڈہ مشینوں کو خوراک فراہم کیا جا سکے۔ دوسرے الفاظ میں، بلوچ لیڈران کے نزدیک بلوچوں کی زندگی کی قیمت صرف چند ہیڈلائنز کا حصول ہے۔ اگر درجن سے زائد نوجوانوں کو موت کے منہ میں دھکیل کر ہیڈلائنز میں جگہ حاصل کیا بھی جا سکے تو کیا اس اشتہار سے بلوچوں کی کاز کو کوئی فائدہ پہنچ سکے گا؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ میڈیا نتائج فراہم نہیں کرسکتا بلکہ یہ پروپگنڈے کا ٹول ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے یا بدامن ثابت کرنے کا فائدہ بلوچوں کو کسی صورت نہیں پہنچتا البتہ پاکستان کے وہ ہمسائے جو یہاں امن کے مخالف ہیں، وہ ایسا ماحول پیدا کرکے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں عالمی سرمایہ کاری روکنے سے لیکر پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کے لئے مخالف ممالک انہی واقعات کو بنیاد بنا کر پروپگنڈہ کرتے ہیں۔ عالمی رسہ کشی میں بلوچ نوجوانوں کو بطور پروپگنڈہ مواد استعمال کیا جا رہا ہے جس کا فائدہ بلوچ اور بلوچستان کو کسی بھی زاویے سے نہیں پہنچ رہا۔
بلوچستان میں بیرونی پروپگنڈے اور مقامی لیڈران کی نا اہلی نے ایک ایسا ماحول تشکیل دیا ہے کہ امن کی باتیں ناقابل قبول بن گئی ہیں۔ تنگ نظر اور تشدد پسند “بونے” یہاں لیڈری کی مسند پر بیٹھے ہیں۔ فیصلے نہ کرنے اور کنفیوژن کا یہ عالم ہے کہ پارلیمانی جماعتیں بشمول بی این پی اور نیشنل پارٹی بھی موجودہ حالات پر کوئی جامع رائے قائم کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ جماعتیں بھی حالات کے رحم و کرم پر ہیں، ان میں یہ قابلیت نہیں کہ اپنے بیانیے کی دفاع کرکے عوام کو اپنے گرد یکجا کرسکیں۔
جب لیڈری کے دعوے دار اس قدر کنفیوژ ہوں تو نوجوانوں کو کوئی بھی طاقت آ کر اپنے حق میں استعمال کرسکتا ہے۔ بلوچستان کی مجموعی صورت حال آج ایسا ہی ہے۔ یہاں لیڈرشپ کا ایسا فقدان پیدا ہوگیا ہے کہ عام عوام ہر بونے کو مسیحا سمجھ بیٹھا ہے۔ دعوائے مسیحائی کرنے والے خود تو آسائشوں میں رہ رہے ہیں لیکن عوام ہر طرح سے مصائب و مشکلات کا شکار ہے۔
بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے تشدد کی آماجگاہ ہے۔ حالات کسی سمت میں جانے کے بجائے دائروں میں محو گردش ہیں۔ اس گردش سے بلوچستان کو نکالنے کے لئے روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنا ہوگا۔ وفاق نے موجودہ دور میں بلوچستان کی معاشی حالات کو باقی صوبوں میں لانے کا جو منصوبہ بنایا ہے، ان پر فوری عمل در آمد کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے عوام کو یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ وفاق پاکستان کے اندر ان کے تمام حقوق محفوظ ہیں۔ تحفظ کا احساس پیدا کرکے ہی بیرونی قوتوں کے کھیل کو بلوچستان سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ایسا ماحول پیدا کرنے کے لئے صوبے کے اپنے تمام طبقات اور وفاق کے بااختیار اداروں کو باہمی تعاون اور مستقل مزاجی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں