انجینئر ظہیر/ قتل/ زندہ/ بازیاب؟

تحریر: رامین

بلوچستان کے حالات کو سوشل میڈیا میں بیٹھے متحرک عوام دشمن عناصر نے کامیابی سے ایسا رنگ دے دیا ہے کہ اصل حقائق صوبے کے باہر کے لوگوں سے بالکل اوجھل ہیں۔ جھوٹے پروپگنڈے، غیر حقیقی بیانات اور گمراہ کن دعوؤں نے بلوچستان کو ایک قتل گاہ کی صورت دے دی ہے، اس پر مستزاد یہ کہ قومی میڈیا کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ایسے عوام دشمن عناصر کے پروپگنڈے کو تقویت مل رہی ہے۔
جو لوگ سوشل میڈیا میں بیٹھ کر ٹرینڈ چلاتے ہیں ان کی اکثریت خود کو ہیومین رائٹس کارکن کہتا ہے لیکن ان کے تمام پوسٹ بلوچ شدت پسندوں کی حمایت میں ہوتے ہیں۔ جب شدت پسندوں کے خلاف کوئی کاروائی ہو تو وہ اسے نسل کشی قرار دیتے ہیں جبکہ جب یہی شدت پسند عام شہریوں یا تنصیبات پر حملہ کریں تو یہ انسانی حقوق کے برائے نام کارکنوں کو سانپ سونگھ جاتی ہے۔
اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ انسانوں کا اغواء اور قتل جائز نہیں۔ لیکن اس معاملے کو صرف اپنے پروپگنڈے کے لئے استعمال کرنے والے روز بہ روز اخلاقی اور انسانی سطح سے بھی نیچھے گر رہے ہیں۔ اپنے پروپگنڈے کے لئے وہ اس حد تک بھی جاتے ہیں کہ زندہ و صحت مند اور آزاد شخص کو گمشدہ قرار دے کر قتل کرواتے ہیں اور اس فرضی قتل پر بھی اس قدر شور مچاتے ہیں کہ لوگوں کو یہ جھوٹا واقع بھی سچا لگنے لگتا ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ انجینئر ظہیر احمد کے ساتھ بھی کیا گیا۔ چند دنوں پہلے جب زیارت میں چند لوگ مارے گئے تھے تو سوشل میڈیا میں اس بات کو خوب اُچھالا گیا اور ظہیر احمد کو بھی لاپتہ قرار دے کر انہی قتل ہونے والوں میں شامل کردیا گیا۔ اس واقعے پر اس قدر جھوٹ بولا گیا کہ غیر ملکی میڈیا نے بھی انہی جھوٹے دعوؤں کو صحیح مان کر انجینیر ظہیر کی تصاویر شائع کیں۔ ملکی میڈیا سمیت کسی اور میڈیا ادارے کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ اصل معاملات تک رسائی پانے کے لئے تحقیقات کرے۔ اس واقعے کو چند دن گزر جانے کے باوجود بھی جب ظہیر کی تصویر استعمال ہو رہی تھی تو آخر کار اس نے خود پریس کانفرنس کرکے اپنے متعلق تمام دعوؤں کو مسترد کردیا۔
بلوچستان میں عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ایسے پروپگنڈے تواتر کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔ ایک زندہ اور آزاد شخص کی نام اور تصاویر کو اس مقصد کے لئے استعمال کرنا ایک انتہائی گمراہ کن اور گرا ہوا حرکت ہے لیکن پروپگنڈہ کیلے یہ حرکت بھی دہرایا گیا۔ اب بلوچستان کے عوام خود سوچ لیں کہ مسنگ پرسنز اور انسانی حقوق کے حامیوں کے نام پر جو لوگ سوشل میڈیا میں موجود ہیں، ان کا مقصد جھوٹ پھیلانے کے علاوہ اور کیا ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں