سوشل میڈیا، بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار

تحریر: رامین محمد حسنی

بلوچستان میں آزادی کے نام پر ایک گروہ نے جس گمراہ راستے کا انتخاب کیا تھا اس راستے نے گمراہ گروہ کو آج بند گلی میں پھنسایا ہوا ہے۔ ترقی کے سامنے رکاوٹ اور تعلیم دشمن اس گروہ نے بلوچستان کا جو نقصان کیا ہے، وہ نہ اب تک کوئی قدرتی آفت کرسکی ہے اور نہ ہی کوئی بیرونی حملہ آور بلوچستان میں اس قدر خون ریزی کر سکا ہے۔ بلوچ نفسیات اور بلوچستان کی زمینی حقائق سے نابلد اس گروہ نے مدلل آوازوں کو رد کرکے جس طرح کی بدامنی اور تشدد کے راستے کا انتخاب کیا تھا، اس فیصلے نے بلوچستان کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اس تشدد کی وجہ سے بلوچستان اُن تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہے جو یہاں کے لوگوں کے لئے از حد ضروری ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو بلوچستان کے عوام نے کبھی بھی مسلح جتھوں کی حمایت نہیں کی ہے۔ عوام نے ہمیشہ پرامن رہنے والوں اور کاروباری مواقع پیدا کرنے والوں کا ساتھ دیا ہے۔ لیکن مسلح جتھوں نے بزور بندوق عوام کو خاموش کیے رکھا اور میڈیا میں اپنے موقف کو عوام کا بتا کر پھیلاتے رہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ مین اسٹریم میڈیا نے عوامی موقف کو سامنے لانے کی کوشش نہیں کی، یوں عوامی آواز پرتشدد شور کے سامنے دب گئی۔
لیکن عوامی آوازوں کو تا دیر نہیں دبایا جا سکتا۔جس شور نے تقریباََ دو دہائیوں سے عوامی آواز کو بزور دبائے رکھا، آج وہ شور مدھم پڑھ رہی ہے اور اصل آواز لوگوں کے سامنے آ رہی ہے۔
جب بلوچستان میں خوف کا راج تھا اور پرامن سیاسی کارکنوں کو مسلح گروہ نشانہ بنا رہے تھے لوگ پارلیمانی سیاست کا نام لینے سے بھی کتراتے تھے۔ لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے اور خوف کے بادل چٹ چکے ہیں۔ پارلیمانی سیاست میں لوگوں کی وسیع پیمانے پر شمولیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مستقبل کا بلوچستان مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر نہیں رہ سکتا بلکہ لوگ اپنے لئے لیڈران اپنی مرضی سے ہی منتخب کریں گے۔
یہ دور ترقی اور تعلیم کا دور ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ مسلح لوگوں کی ظلم و نا انصافی اور کرپٹ سیاستدانوں کی کرپشن و جھوٹ کا پردہ فاش کریں۔ بلوچ نوجوان سوشل میڈیا کا بہتر استعمال کرکے عوامی شعور کی بہتر رہنمائی کرسکیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو نام نہاد آزادی پسند گروہوں کے لئے نہ چھوڑا جائے بلکہ اس پلیٹ فارم کو موثر طور پر بدامنی پھیلانے والے قوتوں کے خلاف استعمال کرکے بلوچستان کو امن اور ترقی کی دوڑ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں