برسی مناؤ: یہی سہارا رہ گیا ہے

تحریر: دلجان ہوت
یہ بات تو شروع سے ہی عیاں تھی کہ شدت پسندی کا انجام سوائے ناکامی کے اور کچھ نہیں۔ اس انجام کو سمجھنے والے چیختے رہے کہ جو لوگ سیاسی مسائل کو بندوق کے زور پر حل کرنا چاہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں اور لوگوں کو بند گلی کی جانب لے جا رہے ہیں۔ اُن کی آواز شاید سُنی جاتی لیکن جن لوگوں نے بندوق کا انتخاب کیا تھا، انہوں نے معتدل آوازوں کو ایک ایک کر کے دبا دیا۔ آج جب اُن شدت پسندوں کی غلطیوں کا انجام سب کے سامنے ہے اور کوئی بھی شخص اُن کا حصہ بننا تو درکنار، اُن کی حمایت پر تیار نہیں تو اُن شدت پسندوں اور اُن کے حامیوں کے پاس سوائے برسی منانے اور لاشوں پر سیاست کرنے کے کچھ رہ نہیں گیا ہے۔
ابھی چند دنوں سے سوشل میڈیا کی حد تک موجود چند لیڈران نے ایک مرتبہ پھر لاشوں کے نام پر اپنی دکانیں چمکانے کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ غلام محمد کی موت کو لے کر چند لوگ ویڈیو پیغام دے رہے ہیں تو کوئی ٹیوٹر کے ذریعے یہ دکھانے اور ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ سب سے بڑا انقلابی اور قوم دوست وہی ہے۔ لیکن جو چیز ان سب کی باتوں میں مشترک ہے وہ یہ ہے کہ یہ تمام سوشل میڈیا کے لیڈران اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اپنی غلطیوں کو دہراتے رہیں گے تاکہ آیندہ بھی انہیں ایسی لاشیں ملتے رہیں جن پر سیاست کی جا سکے۔
ایسی ناعاقبت اندیش لیڈر شپ جو علیحدگی کے نام پر بننے والے گروہوں کو نصیب ہوا ہے، یہ خود لوگوں کی موت اور اپنی ناکامی کے زمہ دار ہیں۔ اس جدید دور میں لوگوں کو علم و ہنر کی جانب راغب کرنے کے بجائے جب ایک شخص اس بات پر فخر کررہا ہے کہ اُس کے حامی بلا سوچے سمجھے مررہے ہیں تو اُن لوگوں کا خدا ہی حافض ہے جو ایسے شخص پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ان علیحدگی پسندوں کی اسی تنگ نظری اور خام خیالی کی وجہ سے بلوچستان کا کوئی شخص بھی اب ان کی حمایت نہیں کرتا۔
سیاست صرف برسی منانے کا نام نہیں اور نہ ہی بیرون ملک بیٹھ کر قُربانی کی باتیں کرنے سے لوگوں کو گمراہ کرنا اب ممکن ہے۔ لاشوں پر سیاست کی جو گندی روایت علیحدگی پسندوں نے متعارف کی تھی، وہ اب ان کی پہچان بن چکی ہے۔ بلوچستان سے باہر بیٹھ کر یہ لوگ منتظر ہیں کہ کوئی مارا جائے یا کسی کی برسی کی تاریخ آجائے تاکہ ان کی سیاست کو چمکانے کے لئے موقع دستیاب ہو۔ جن لوگوں کی سیاست کا محور ہی موت ہو اور جو لوگ علم و ہنر کے بجائے شدت پسندی کی ترغیب دیتے ہوں، اُن کے مقدر میں سوائے برسی منانے کے اور کچھ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اب بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیمیں بھی سُکڑ کر برسیاں منانے تک محدود ہو چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں