اُسترا بندروں کے ہاتھ میں

تحریر: ھنین جان

یہ ایک آفاقی اصول ہے کہ اگر کوئی عام شخص کوئی غلطی کرے تو اس کی غلطی کا اثر بھی اُس ایک شخص یا اس کی خاندان تک محدود ہوتا ہیں۔ اسی طرح لیڈر شپ کے دعوے دار کوئی شخص غلطی کرے تو اس غلطی کو نہ صرف اس کو خود بھگتنا ہے بلکہ اس کے حلقہ اثر کے تمام لوگ اس غلطی سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی غلطیوں کے اثرات اتنے دور رس ہوتے ہیں کہ دہائیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ایک سادہ سی مثال بلوچستان کے علیحدگی پسند لیڈران کی غلطی ہے۔ جب بلوچستان کے لئے بنیادی حقوق کی تحریک کو علیحدگی کی تحریک بنا کر ان لوگوں نے شدت پسندی کا آغاز کیا، تو یہ وہ تاریخی غلطی تھی کہ اس کے اثرات پورے بلوچستان میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اس غلطی کی وجہ سے نہ صرف سینکڑوں کی تعداد میں اموات ہوئیں، بلکہ بلوچستان میں روز مرہ زندگی تقریباََ مکمل مفلوج ہوکر رہ گئی۔ آج اگرچہ حالات میں کسی حد تک بہتری آ گئی ہے اور لوگ پرامید ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔ لیکن اس ناکام مسلح تحریک کے اثرات اتنے شدید ہیں کہ ان سے نکلنے میں شاید دہائیاں لگ سکتے ہیں۔ عام لوگوں کو یہ احساس ہوچکا ہے کہ آزادی کے خالی خولی نعروں کے پیچھے کوئی کامیابی موجود نہیں ہے بلکہ اسی نعرے کی وجہ سے جو انتشار پھیلی، اسی انتشار کا فائدہ اُٹھا کر اب ایک سے زائد بیرونی ایجنسیاں اس سلوگن کا ورد کرکے بلوچستان میں اس قدر سرگرم ہو چکے ہیں کہ اس نعرے کا کنٹرول اب شروع کرنے والوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ بلوچستان کی علیحدگی پسند لیڈران اب کٹھ پتلیوں کی طرح دوسروں کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ یہ بات تو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ ہمسایہ ممالک کی ایجنسیاں علی الاعلان اس بات کو اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ پاکستان کے باقی صوبوں میں باالعموم اور بلوچستان میں باالخصوص متحرک ہیں۔

لوگوں کی رہنمائی کے دعوے داروں کو دور نظر ہونا چاہئے۔ جو لوگ پیسوں کی کشش دیکھ کر اپنا بُنیادی مقصد بھول جائیں وہ اس قابل ہی نہیں کہ انہیں لیڈر سمجھا جائے۔ بیرونی ایجنسیوں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے پہلے کیا ان لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ ان کا مطالبہ جتنا بھی قانونی کیوں نہ ہو، بیرونی ایجنسیوں کی آلہ کاری یہ بات ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ان کے مطالبات ان کے اپنے نہیں بلکہ کہیں اور سے آ رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی مثال اُن بندروں کی طرح ہے جن کے ہاتھ میں اُسترا آگیا ہے۔ اب وہ خود کو کاٹتے پھر رہے ہیں۔

بلوچستان ایک مردم خیز خطہ ہے۔ بلوچستان کی دانش یقینا تا دیر ایسے لوگوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہوگی جو خود اپنے ذاتی انا اور خواہشات کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ بلوچستان کی دانشور طبقہ کی فوری زمہ داری یہی ہے کہ وہ ہر دستیاب پلیٹ فارم کا استعمال کرکے بلوچستان کے عوام کے اندر شدت پسندی کے خلاف آگاہی پھیلائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں