گریٹر بلوچستان کا سوال یا پاکستانی بلوچستان میں بدامنی؟

تحریر/ دلجان ہوت

جب حالیہ بلوچ انسرجنسی شروع ہوئی تو علیحدگی پسند جماعتوں نے بلوچستان کے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ گریٹربلوچستان (پاکستان، افغانستان اور ایران کے بلوچ علاقوں) کی علیحدگی اور یکجہتی کے لئے یہ جدوجہد شروع کی گئی ہے۔ سیاسیبیانات کے ذریعے ایران اور افغانستان کو قابض قرار دے کر بلوچستان کی گلیوں اور شاہراہوں پر ان ممالک کے خلاف نعرے لکھےگئے۔ لکھنے والوں نے لمبی تحریریں لکھیں، بولنے والوں نے ہر اسٹیج کو استعمال کرکے اونچی آوازوں کے ساتھ ایران اورافغانستان کے بلوچ علاقوں کی آزادی کا بھی مطالبہ کیا۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ایران اور افغانستان قابض ریاستوںکے بجائے دوست ریاستوں میں تبدیل ہو گئے۔ اُن ممالک کے خلاف اونچی آوازیں ماند پڑھ گئی اور تحریریں غائب ہو گئیں۔ وہبھلا ہو انٹرنیٹ کا کہ ماضی کی کہی اور لکھی گئی باتوں کو محفوظ کرکے یاد داشت سے غائب نہیں ہونے دیتی۔ ڈاکٹر اللہ نذر جب تکبلوچستان میں تھے، اُن کے ٹیوٹر میں گریٹر بلوچستان کا نقشہ نمایاں تھا، لیکن جیسے ہی ایران، یا شاید افغانستان چلے گئے، گریٹربلوچستان کے نقشے کو خاموشی سے ختم کردیا۔ سیاسی جماعتوں کی نظر میں بھی ایران اور افغانستان معتبر ٹہرے۔ وہاں بلوچوں کےخلاف جو پابندیاں عائد ہیں وہ بھی قابل قبول ہو گئے۔ بلوچی نام رکھنے کی پابندی، بلوچوں کی سیاست پر پابندی اور بلوچ علاقوں میںمنشیات کی سرکاری سرپرستی بھی ان جماعتوں کو مجبور نہ کرسکی کہ وہ ایران اور افغانستان کے بلوچوں کی حالت زار پر رحم کھائیںاور ان ملکوں کی پراکسی نہ بنیں۔ لیکن جب ذات کی حفاظت اور ذاتی مفادات اجتماعی مفادات سے بڑھ کر ہوں تو کوئی اصول اورنظریہ اہم نہیں رہتا۔ بلوچستان کی تمام علیحدگی پسند لیڈر شپ تنگ نظری میں اس حد تک نیچے چلے گئے کہ پاکستان کو غیر مستحکمکرنے کے لئے بیرونی ممالک کے آلہ کار بننے کو بلوچ عوام کی خوش حالی پر ترجیح دی۔ اگر ان لوگوں کو بلوچ عوام کا فکر لاحق ہوتا توبجائے ایران اور افغانستان کے ہاتھوں استعمال ہونے کے وہ واپس آ تے اور تشدد ترک کردیتے۔ جن ممالک کو وہ ماضی میںقابض قرار دیکر آج اُن کی کٹ پتلی بننے کو تیار ہیں تو واپس آنے اور پُرامن رہنے میں اُن کو کیا قباحت تھی؟ حقیقت یہ ہے کہبلوچستان کو پسماندہ رکھنے اور اس پسماندگی کو جواز بنا کر ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے میں ان لوگوں سمیت اُن تمام ممالککے مفادات وابستہ ہیں جو پاکستان کو کمزور رکھنا چاہتے ہیں۔
اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ ایران کبھی بھی بلوچستان کے لوگوں کی بھلائی نہیں چاہتا، اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ مضبوطبارڈر کی حمایت کرتا ہے۔ اپنے اسمگل شدہ اشیاء کو بلا روک ٹوک پاکستانی مارکیٹوں تک پہنچانے کے لئے ایران چاہتا ہے کہپاکستان کے ساتھ ملحقہ بارڈر بھی غیر قانونی طور پر کھلا رہے تاکہ منشیات، اسلحہ اور سمگل شدہ سامان آسانی کے ساتھ پاکستان منتقلکیے جا سکیں۔ بلوچستان کے عوام کو سوچنا چاہیے کہ جو لوگ ایران اور افغانستان کے آلہ کار بننے کو تیار ہیں، وہ کرائے کے لئےکسی کو بھی دستیاب ہوسکتے ہیں۔ سی پیک کی وجہ سے پاکستان کی مخالفت میں انڈیا اور ایران پیش پیش ہیں۔ ان ممالک کی کوششیہی ہے کہ بلوچ مذاحمت کاروں کو استعمال کرکے اس منصوبے کو کمزور کیا جا سکے۔ بلوچ علیحدگی پسند بھی دور اندیشی کا مظاہرہکرنے کے بجائے آسانی کے ساتھ ان ممالک کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں۔ یہ زمہ داری بلوچستان کے نوجوانوں کی ہے کہ وہعالمی سازشوں کو سمجھ کر ایسے لوگوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں جو صرف پیسوں کے لئے اپنے گریٹر بلوچستان کی مقصد سے ہٹکر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کو آزادی کی تحریک قرار دے رہے ہیں۔ اس جدید دور میں تشدد کو کہیں بھی قبولیت حاصل نہیں۔تشدد بیرونی ممالک کا ایک ایسا ہتھکنڈہ ہے جو دوسرے ممالک کو کمزور کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ انڈین ایجنسیز علی الاعلاناس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے پراکسی گروہوں کو فنڈ کریں گے۔ اُن کے یہ اعلانات اس باتکو سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ بلوچستان میں آزادی کے نام پر جو شدت پسندی چل رہی ہے، اس کی ڈوریاں کہیں اور سے ہلائی جارہی ہیں۔ بلوچستان کے عوام کا مطالبہ بنیادی ضروریات کا ہے، ان ضروریات کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ شدت پسندیہے۔
بلوچستان کے عوام نے جس طرح شدت پسندوں کی منافقت کو سمجھ کر اُن کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے، یہ عمل اس بات کیعکاسی کرتا ہے کہ عام لوگ صرف ترقی اور بنیادی سہولیات چاہتے ہیں۔ نوجوانوں کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کےہاتھوں استعمال ہونے سے خود کو بچائیں جو خود بیرونی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ جب بیرونی ممالک کو بلوچستان کے اندر ایسےلوگ نہ ملیں جو کرائے کے لئے دستیاب ہوں تو بلوچستان کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں