کچھ نہ کر، شور مچا” کی پالیسی

کچھ نہ کر، شور مچا” کی پالیسی
تحریر: سمیر سنجرانی

بلوچستان میں لاشوں پر سیاست کا جو رواج چل رہا ہے، یہ کسی بہتری کا پیش خیمہ نہیں بلکہ نام نہاد سیاستدانوں کی کم فہمی کا نتیجہہے۔ مسائل کا حل نکالنے کے بجائے واقعات کے انتظار میں بیٹھے یہ لوگ عوام کی جزبات سے کھیل کر انہیں استعمال کرنے کےعلاوہ اور کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، یا کچھ کرنا نہیں چاہتے۔ بظاہر موخرلذکر ہی صحیح لگتا ہے۔ گوادر سے لیکر کوئٹہ تکبلوچستان طرح طرح کی مشکلات کا شکار ہے، ان مشکلات کی وجہ سے نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ لیکن ان حقیقی مسائلپر توجہ دینے والا کوئی موجود نہیں۔ تمام لیڈران اس انتظار میں ہیں کہیں کوئی واقعہ رونما ہوجائے اور وہ اس واقعے کو لیکر اپنیسیاست چمکانے میدان میں کود پڑیں۔
گزشتہ کئی سالوں سے یہی سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ منافقت اور دوغلا پن کی انتہا ہے کہ یہاں کے لیڈران واقعات پر تو بات کرتے ہیںلیکن اُن اسباب پر بات نہیں کرتے جو ان واقعات کی رونمائی کا سبب بنے ہیں۔ بلوچستان میں آزادی کے نام پر جو تشدد شروعہوا ہے، تمام واقعات کا بنیادی سبب یہی تشدد ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے کہ تشدد اپنے اندر تمام بُرائیاں لیکروارد ہوتی ہے اور تمام برائیاں تب تک ختم نہیں ہوتیں جب تک کہ تشدد کا خاتمہ نہ ہو جائے۔ تشدد کی وجہ سے ہی لوگ لاپتہ ہوتےہیں، بے موت مارے جاتے ہیں، غربت پھیلتی ہے اور ترقیاتی کام نہیں ہوتے۔ تیزی سے ترقی کرتی اس دنیا میں اگر کسی خطے میںتشدد دہائیوں تک چلتا رہے تو وہ خطہ باقی دنیا سے صدیوں پیچھے رہ جاتا ہے۔ آج بلوچستان میں ایسا کوئی کردار موجود نہیں جو اسافسوسناک صورت حال کے خلاف کھل کر بولے۔ مستقبل کے لئے بلوچستان میں کوئی سیاسی جماعت، سیاسی لیڈر یا کوئی اور فکرمند نہیں۔ بلکہ سب کو یہ فکر ستائے جا رہا ہے کہ کس طرح وہ اپنے ذاتی انا کی تسکین کریں اور کس طرح ایک دوسرے کی ٹانگیںکھینچ کر اقتدار کے ایوانوں میں اپنے لئے جگہ بنا سکیں۔ بلوچستان جن حالات سے آج گزر رہا ہے اور جس لاتعلقی اور لاپرواہی کامظاہرہ آج کے لیڈران کررہے ہیں، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ بلوچستان کے ناعاقبت اندیش لیڈروں کی وجہ سے ماضی میںبھی کئی موقع بلوچستان کے ضائع ہوئے ہیں، لیکن موجودہ دور میں سی پیک کی وجہ سے سرمایہ اور ٹیکنالوجی کا جو انقلاب بلوچستان میںآ سکتا ہے، اس حوالے سے بھی مقامی جماعتوں کے پاس کوئی جامع پالیسی نہیں ہے۔ کسی دلیل اور اصلاحات متعارف کرنےکے بجائے بلوچستان کی پارٹیاں مخالفت برائے مخالفت میں ایسے منصوبوں کے سامنے روڑے اٹکا رہے ہیں۔
بلوچستان کے عوام پریشان ہیں کہ آخر کب تک وہ اس سراب میں پھنسے رہیں گے۔ ناعاقبت اندیش لیڈران کو اس پریشانی کااحساس نہیں لیکن نوجوان طبقے کو چاہئے کہ وہ اپنے معاملات اپنے ہاتھ میں لیکر بلوچستان میں تشدد کی سیاست کرنے والوں اور نامنہاد پارلیمانی جماعتوں کو اپنی قسمت کا مالک بننے نہ دیں۔ موجودہ دور میں ہزاروں ایسے ذرائع موجود ہیں جنہیں استعمال کرکے عواممیں آگاہی پھیلائی جا سکتی ہے، سوشل میڈیا ان میں سے ایک اہم ترین ذریعہ ہے جسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کو چاہئےکہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرکے ایسے نام نہاد لیڈروں کو بے نقاب کریں جو صرف واقعات کے سہارے اپنی سیاست چمکاتےہیں اور عوام کے
کچھ نہیں کرتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں