بلوچستان؛ سنجیدہ سیاست کہاں ہے؟

تحریر: ھنین جان
حالیہ چند دنوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات اور ان کے ردعمل میں بلوچستان کی پارٹیوں، طلباء تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گمراہ کن ردعمل سے یہ واضح ہورہا ہے کہ بلوچستان میں تمام جماعتیں یا گروہ عوام کی بہتری و تحفظ کے لئے نہیں بلکہ اپنی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے سیاست کررہے ہیں۔ چند دنوں پہلے بلیدہ میں پولیس کا ایک گھر پر چھاپہ اور ایک بچے کی ہلاکت کے واقعے نے قوم پرستوں کی سیاست کا پردہ فاش کردیا تھا، اس بچے کی لاش کو بلیدہ سے کوئٹہ لایا گیا لیکن کسی قوم پرست تنظیم نے متاثرہ خاندان سے یکجہتی کرنا گوارہ نہیں کیا۔ اس واقعے کے اگلے دو تین روز بعد ہوشاب میں ایک اور افسوسناک واقعہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں دو کمسن بچے جانبحق ہو گئے۔ دونوں واقعات قابل افسوس تھے، لیکن بلیدہ واقعہ پر خاموش بلوچستان کی سیاسی جماعتیں حسبِ روایت منافقت اور دوغلارویہ اپنا کر بغیر کسی تحقیق کے اس واقعے کا سارا ملبہ ایف سی پر ڈالنے لگے۔ بجائے یہ کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے کمیشن کا مطالبہ کرتے اور مقامی لوگوں سے حقائق جاننے کی کوشش کرتے، انہوں نے اپنی طرف سے فیصلہ صادر کرکے پروپگنڈہ شروع کردیا۔ یہ جماعتیں اسی تلاش میں ہیں کہ کہیں اس طرح کا کوئی واقعہ رونما ہوجائے اور انہیں ریاست یا ریاستی اداروں کے خلاف پروپگنڈہ کا موقع مل جائے۔
یہاں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ قائم کرنے سے کیا یہ مسائل حل ہوسکیں گے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ انتشار اور عدم اتحاد کا ماحول پیدا کرنے سے ایسی پارٹیوں کو ہی فائدہ پہنچتا ہے جو عوام کے جذبات کا اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مسنگ پرسنز کے خاندانوں کا استعمال ہو یا ہوشاب واقعے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کے خاندان ہوں، بلوچستان میں مفاد پرست گروہ ہمیشہ ان پریشان خاندانوں کو اپنے گروہی مفادات کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اگر ان نام نہاد پارٹیوں میں زرا سی سنجیدگی ہوتی تو وہ ایسے واقعات کے اسباب پر کھل کر بات کرتے، لیکن بلوچستان میں سنجیدہ سیاست غائب ہوگئی ہے۔ اب صرف واقعات کے سہارے سیاست کرنے والے رہ گئے ہیں جن کا مقصد عوام کے جذبات سے کھیلنا ہے۔

بلوچستان میں سنجیدہ سیاست کی موت راتوں رات نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ طویل بدامنی اور شدت پسندی نے آہستہ آہستہ بلوچستان کے تمام اداروں کو مفلوج بنا دیا ہے۔ اس شدت پسندی نے بلوچستان کے تمام طبقہ ہائے فکر کو اس حد تک متاثر کردیا کہ سنجیدہ اور باعزت لوگ معاشرے میں بہتری اور تبدیلی کے لئے جدوجہد کے بجائے اپنی عزت بچانے کو ہی غنیمت سمجھتے ہیں، جن لوگوں نے شدت پسندی کے تباہ کن نتائج سے بلوچستان کو آگاہ کرنا چاہا، انہیں مولا بخش دشتی کی طرح غدار قرار دے کر راستے سے ہٹایا گیا۔ بلوچستان میں لیڈر شپ کا کردار اب ایسے لوگ ادا کررہے ہیں جنہیں عوامی فلاح و بہبود سے کوئی غرض نہیں ہے۔ کرپشن، اقتدار کے لئے رسہ کشی ان لیڈران کا شیوہ بنا ہوا ہے۔ بلوچستان عملاََ ایک ایسے خطے کا منظر پیش کررہا ہے جہاں کئی ایک گروہ اپنے اپنے مفادات کے لئے عوام کی زندگی اور مفادات کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ بدامنی اور شدت پسندی نے جس طرح بلوچستان کو منتشر اور پسماندہ کررکھا ہے، اس انتشار کو قبائلی سردار اور کرپٹ لیڈران اپنے حق میں استعمال کررہے ہیں۔ بلوچ نوجوانوں کو اب آنکھیں کھول کر اس گندی سیاست کو پہچان لینا چاہئے۔
بلوچستان میں جب تک شدت پسندی موجود ہوگی، افسوسناک واقعات یونہی ہوتے رہیں گے۔ مذمتی بیانات یا افسوس کا اظہار ان مسائل کا حل نہیں بلکہ ان مسائل کا حل ایسی طاقت ہے جو مسلح شدت پسندی کی کھل کر مخالفت کرے اور لوگوں کو تعلیم کی جانب رہنمائی کرے۔ موجودہ قوم پرست اور مذاحمتی گروہیں بلوچستان کو پسماندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ لاشوں کا سہارا لیکر یہ گروہ اپنا پروپگنڈہ آگے لیجانا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے سنجیدہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ہر دستیاب ذرائع کو استعمال کرکے شدت پسندی اور موقع پرست سیاست کے خلاف آواز اُٹھائیں، تاکہ بلوچستان میں موقع پرستوں کو مسترد کرکے سنجیدہ سیاست کے لئے راہ ہموار ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں