لاہور دھماکہ؛ محرکات اور اثرات

تحریر: دلجان ہوت

بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے شورش زدہ رہا ہے۔ بلکہ اس بات کو اگر یوں کہا جائے کہ جب بھی افغانستان بدامنی کا شکار ہوا ہے تو بلوچستان میں بھی بدامنی پھیل گئی ہے۔ افغانستان کی بدامنی کو اپنے حق میں استعمال کرکے انڈیا نے وہاں اپنے پراکسی گروہوں کا ایک مضبوط جال بچھا رکھا تھا جسے طالبان کی آمد سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ وہاں سفارت خانوں کے نام پر پاکستان مخالف سرگرمیوں کے کئی مراکز قائم تھے وہ بھی وہاں سے ختم ہوگئے، لیکن جو رابطے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے انڈیا نے افغانستان میں رہ کر قائم کیے ہیں وہ شاید اب بھی قائم ہیں۔ انڈیا کے وزراء کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ، پاکستان کو ہزاروں زخم لگانے کے اُن کے عزائم، پاکستانی ریاست کے خلاف عالمی سطح پر پروپگنڈہ، پاکستان کے اندر چلنے والی تحریکوں کی لیڈر شپ کو خرید کر تحریکوں کو یرغمال بنانے کی کوشش انڈیا کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ انڈیا اپنے خارجہ پالیسی کی تکمیل میں اُن کمزور کردار کے بلوچ رہنماؤں کو استعمال کررہا ہے جو اپنے ذاتی ضد و انا کے تحفظ میں بلوچستان کے عوام کو داؤ پر لگا چکے ہیں۔ لاہور میں ہونے والا دھماکہ تنگ نظری اور فاشزم کی ایک ایسی مثال ہے جسے دنیا بھر میں کہیں بھی قبولیت حاصل نہیں ہے۔ لیکن ایسی کاروائیاں کرنے والوں کو قبولیت کی نہیں بلکہ پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، اس لئے وہ فخر سے ان کاروائیوں کی زمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔
پنجاب میں ایک پرائیویٹ بینک کے سامنے عام شہریوں پر دھماکہ کرنے سے بلوچستان کے حقوق کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں؟ ان لوگوں کا مقصد حقوق کا حصول نہیں بلکہ افراتفری کا ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ انڈیا اپنی میڈیا کے ذریعے پاکستان کو غیر محفوظ اور یہاں بیرونی سرمایہ کاری کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کر سکے۔ انڈیا کے ان مفادات کی تکمیل کے لئے نام نہاد بلوچ تنظیموں نے بلوچوں کی تعلیم، بلوچستان کی امن کو داؤ پر لگایا ہے۔ جب لاہور جیسے شہر میں بلوچوں کے نام سے دھماکے ہوتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ وہاں زیر تعلیم ہزاروں بلوچوں کی تعلیم متاثر ہوگی، لیکن جو لوگ بدامنی کو مقصد بنائے ہوئے ہوں انہیں تعلیم کی نقصان سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔
ان مسلح تنظیموں کی کوشش یہی ہے کہ وہ ایک ایسا ماحول پیدا کریں جہاں نہ کاروبار ممکن ہو اور نہ تعلیم و روزگار کے ذرائع پروان چڑھ سکیں۔ سڑکوں، بجلی و گیس کی تنصیبات اور دیگر مفاد عامہ کے ذرائع پر ان کے حملے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کو واپس پتھر کے زمانے میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
بلوچستان کے نوجوان طبقے کو مسلح تنظیموں کی دہشتگردانہ کاروائی کے خلاف بولنا ہوگا۔ ریاست پر زمہ داری ڈال کر اپنی زمہ داری سے دستبردار ہونا منافقت ہے، اگر بلوچستان میں امن بحال و برقرار رکھنا ہے اور تعلیم و ہُنر کو پھیلانا ہے تو مسلح تنظیموں کے خلاف عوامی سطح پر مکالمے کو فروغ دینا ہوگا۔ اگر نوجوان طبقے نے ان حقائق کو تسلیم نہیں کیا تو اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ دوسروں کے مفادات کی تحفظ میں مسلح تنظیمیں بلوچستان میں تشدد کا بازار گرم رکھیں گے، جس کے اثرات سے سب سے زیادہ بلوچستان کے کوگ ہی متاثر ہوں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں